Abulmuazzam turabi coulmn

جامعہ گومل کا بہیمانہ و سنگ دلانہ قتل

جامعہ گومل ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام وارثین مر گئے اس لیے زرعی یونیورسٹی ڈیرہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسرور الہٰی بابر کو جامعہ گومل کا سربراہ بھی بنا دیا تاکہ لینے اور دینے والا ایک ہی ہو اور ڈنڈی مار کر جامعہ گومل کا تیاپانچا کر کے زرعی یونیورسٹی کی گود ہری کر سکے کیوں کہ جامعہ گومل سرسبز و شاداب اور زرخیز جب کہ زرعی یونیورسٹی بنجر و بانجھ ہے۔

جامعہ گومل کے کماو پوت شعبہ جات چھین کر زرعی یونیورسٹی کو دے دیے گئے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کو اسی لیے ہٹا دیا گیا کہ وہ جامعہ گومل کی بقا و سالمیت کی خاطر لڑ رہے تھے مگر ڈیرہ کی وراثت کے دعوے داروں نے جامعہ گومل کی پشت میں چھرا گھونپنے میں اس لیے ساتھ دیا کہ زرعی یونیورسٹی کی گود بھری جا سکے۔جامعہ گومل کا بہیمانہ و سنگ دلانہ قتل بیرون ڈیرہ کے لوگ نہیں کر سکتے تھے اگر اندرون ڈیرہ کے سازشی معاونت نہ کرتے۔

یہ لوگ ڈیرہ میں تعلیم و صحت،آب نوشی و آب پاشی، نکاسی آب، صفائی،بجلی و گیس،آبی ذخائر،تجارت،انصاف،ملاوٹ،خود ساختہ گرانی،نہروں کی صفائی،متاثرین سیلاب،قتل و غارت گری،دہشت گردی،ذخیرہ اندوذی،خواتین پر تشدد،ان کے ساتھ جبری زیادتی،بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوائیگی،چوری،ڈکیتی،رہزنی،لوٹ مار،کرپشن،رشوت خوری،سود خوری،بے حیائی،تجاوزات،ٹریفک حادثات،قبضہ مافیا،دھونس دھاندلی،چشمہ رائٹ بنک لفٹ کینال،سی پیک مغربی روٹ، ڈیرہ پشاور ایکسپریس وے ،انجنیئرنگ و میڈیکل ،کامسیٹس اور خواتین یونیورسٹیوں سمیت دیگر عوامی سماجی مسائل کے حل کے لیے تو آواز نہیں اٹھاتے،میدان میں نہیں نکلتے مگر جامعہ گومل کی قیمت پر زرعی یونیورسٹی کے حق میں ایسے کھڑے ہیں جیسے گومل نے ان کے کلیجے نوچ ڈالے ہوں،ان کے سینے چھلنی کر رکھے ہوں، اور زرعی یونیورسٹی ان کے زخموں پر مرہم رکھے گی۔

کل تک یہی لوگ جامعہ گومل کے وارث بنے پھرتے تھے مگر اب سمجھ آگئی کہ ان کی جنگ مفادات اور ذاتیات پر شخصیات کے خلاف ہوتی تھی مادر علمی کے لیے نہیں۔ڈیرہ کی وراثت کے بھی یہی لوگ مدعی ہیں۔صورت حال سب کے سامنے ہے کہ ڈیرہ خوش حالی اور ترقی سے کس قدر ہمکنار ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں