gomal university d i khan

پشاور ہائیکورٹ ڈیرہ بنچ نے گومل یونیورسٹی کے قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی اور احکامات کو معطل کر دیا

ڈیرہ اسماعیل خان(محمد عرفان مغل) پشاور ہائیکورٹ ڈیرہ بنچ نے گومل یونیورسٹی کے قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی اور احکامات کومعطل کر دیا ۔ ‎‎عدالت عالیہ پشاور کے ڈویژن بنچ ڈیرہ  نے زرعی یونیورسٹی ڈیرہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسرور الہٰی کے بطور جامعہ گومل کے قائم مقام وائس چانسلر اختیارات اور ان کے احکامات معطل کر تے ہوئے جامعہ گومل کے لیے وائس چانسلر کی فوری تقرری کا حکم نامہ جاری  کردیا۔

پیر کے روز معروف قانون دان احمد علی خان کی رٹ پٹیشن کی سماعت جسٹس فہیم ولی خان اور شاہد خان نے کی۔ پیٹیشنر احمد علی خان ایڈوکیٹ نے معزز عدالت کے روبرو موقف پیش کیا۔ 19 ستمبر 2022 کو قائم مقام گورنر/ چانسلر مشتاق غنی نے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتحار احمد کو نوے روز کے لیے جبری رخصت پر بھیج کر زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسرور الہٰی بابر کو جامعہ گومل کا قائم مقام وائس چانسلر مقرر کر دیا تھا۔

احمد علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جامعات کے مابین مفادات کا ٹکراو ہے۔ایسے میں پروفیسر ڈاکٹر مسرور الہٰی بابر جامعہ گومل کے ساتھ کیسے انصاف کر سکتے ہیں۔ احمد علی خان نے رٹ پیٹیشنر کے ساتھ دو سی ایم اپلیکیشن ( civil miscellaneous application) بھی دائر کی تھیں۔ جن میں انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جامعہ گومل کا قائم مقام وائس چانسلر کس قانون کے تحت تعینات کیا گیا ہے۔


انہیں فوری طور پر جامعہ گومل کے وائس چانسلر کی حیثیت سے کام کرنے سے روکا جائے اور اس دوران ان کے کیے گئے تمام تر اقدامات کو معطل کر کے جامعہ گومل کے سینئر ڈین یا سینئر موسٹ پروفیسر کو وائس چانسلر مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر مسرور الہی بابر کی تعیناتی 2012 کے یونیورسٹی ماڈل ایکٹ کے منافی ہے۔ دوسری سی ایم (civil miscellaneous application) میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ قائمقام وائس چانسلر کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی روشنی میں جامعہ گومل کے اثاثہ جات کی تقسیم جس میں چار ہزار طلبہ ، بلڈنگز ،جانور اور دیگر جملہ اثاثہ جات کی زرعی یونیورسٹی میں منتقلی اوراس ضمن میں تمام نوٹیفکیشنز کو معطل کیا جائے ۔  


ڈویژن بنچ کے سامنے زرعی یونیورسٹی کی جانب سے عامر فرید سدوزئی پیش ہوئے جو عدالت کو مطمئن نہ کر سکے ۔
عدالت نے سماعت کے دوران پٹیشنر کی دونوں درخواستیں منظور کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مسرور الٰہی بابر کو گومل یونیورسٹی کے کسی قسم کے اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا ۔


اور19 ستمبر 2022 کے بعد سے ان کی جانب سے جاری کئے گئے تمام احکامات اور اقدامات کو معطل کر دیا ۔
اور وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی کے تمام نوٹیفیکیشنز پر جو انہوں نے بطور قائمقام وائس چانسلر گومل یونیورسٹی جاری کئے تھے پر عمل در آمد روک دیا اور 24 اکتوبر تک حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کو بھی معطل کر دیا ۔

معزز عدالت نے اپنے کمنسٹس میں کہا کہ یہ چار ہزار طلبہ کے مستقبل کا معاملہ اس لئے اس کیس کو مزید طوالت نہیں دی جا سکتی لہٰذا آئندہ پیشی 24 اکتوبر سے قبل  ایڈوکیٹ جنرل ایک ہفتے کے اندر جواب جمع کرائیں ۔

پٹیشنر احمد علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ گومل یونیورسٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے میں نے خود عدالت میں پٹیشن دائر کی ہے تاکہ یونیورسٹی کی تقسیم کو روکا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیز میں مفادات کا ٹکرائو ہے ایسے میں ایک فریق کیسے انصاف کر سکتا ہے اوروائس چانسلر زرعی یونیورسٹی مسرور الہٰی بابر خود ایک فریق ہیں وی دونوں اطراف سے فیصلے کرنے کے مجاز نہیں ۔


ان کا کہنا تھا کہ گومل یونیورسٹی کے اثاثے اور طلبہ زرعی یونیورسٹی کو منتقل ہو جائیں گے اور سٹاف کو تنخواہیں و مراعات گومل یونیورسٹی دے گی ۔ جس پر ڈویژن بنچ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے پاس پہلے ہی ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہ اور پنشنرز کے لئے پنشن نہیں ہے اس صورتحال میں وہ کیسے  فعال رہ سکے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں