حالیہ سیلاب میں محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیرہ کے نقصانات کا جائزہ

حالیہ سیلاب میں محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیرہ کے نقصانات کا جائزہ

ڈیرہ اسماعیل خان ( رپورٹ ابن آدم ) حالیہ سیلاب و طوفانی بارشوں کے ہاتھوں ہونے والی تباہی سے جہاں ڈیرہ کی تحصیل پروآ , تحصیل پہاڑ پور , تحصیل ڈیرہ اور تحصیل کلاچی میں لوگوں کی نجی املاک , گھروں, فصلات اور مختلف سرکاری محکمہ جات کے اثاثہ جات کو بے تحاشا نقصان پہنچا ہے۔

وہاں محکمہ زراعت شعبہ انجینئرنگ کی طرف سے رودکوہی و دور دراز بارانی علاقوں میں لینڈ لیولنگ, رود کوہی بندوں کی تعمیر و مرمت کے عمل سے گزر کر کاشت کے قابل ہونے والی اور تیار فصلات لئے کھڑی ہزاروں ایکڑ اراضی اور سولر ٹیوب ویل اثاثوں کو بھی اس حالیہ سیلاب اور کوہ سلیمان پہاڑی سلسلے میں موجود پہاڑی ندی نالوں میں ہونے والی قیامت خیز بارشوں کے پانی کی وجہ سے مجموعی طور پر کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔

اس حوالے سے صوبائی ڈائریکٹر زرعی انجنئیرنگ ترناب پشاور کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ ہذا کے ٹیکنیکل سٹاف پر مبنی ٹیم نے ڈیرہ , ٹانک اور جنوبی وزیرستان کے سیلاب و بارشوں سے متاثرہ مختلف علاقہ جات کا سروے کرنے اور متعلقہ کسانوں سے ملاقات کے بعد ہونے والے نقصانات کی جو جائزہ رپورٹ مرتب کی ہے اسکے تحت پری مون سون میں ہونے والی شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب کی وجہ سے کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے کہ جو ان بارشوں و سیلاب کا مرکز رہا۔

اسکے ہاتھوں سے ٹانک اور جنڈولہ کہ جہاں کی زرعی اراضی کا ساٹھ فیصد حصہ تباہ ہوا وہاں محکمہ زرعی انجنئیرنگ کی طرف سے کاشت کے قابل بنایا جانے والے رقبہ جات بھی اس تباہی سے نہ بچ سکے , سیلابی کٹاؤ اور سیم کی وجہ سے یہ زرعی رقبہ جات اب ناقابل کاشت ہو چکے ہیں ۔

اس جائزہ رپورٹ کے مطابق یہ سیلابی ریلے چونکہ رود کوہی کے روائتی رود نالہ جات کے راستوں سے ہٹ کر مختلف اطراف میں تباہی پھیلانے کا باعث بنے تو اس وجہ سے یہ زیادہ مہلک ثابت ہوئے کہ جسکی وجہ سے نہ صرف زمینوں میں تیار کھڑی مختلف فصلات تباہ ہو گئ ہیں بلکہ آنے والے زرعی سیزن کی گندم کی فصل کی کاشت بھی شدید طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے جو کہ فوڈ باسکٹ کہلائے جانے والے ہمارے اس علاقے , زمین داروں اور حکومت کیلئے کسی طور بھی نیک شگون نہیں ہے ۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق اس علاقے کی چھوٹے زمین داروں اور کسانوں کے پاس سیلابی تباہی کے بعد وسائل کی سخت کمی واقع ہو چکی ہے , دوسری طرف ڈیزل , پیٹرول , کھادوں , بیج , زرعی ادویات کی قیمتیں پہلے کی نسبت بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں اس لئے وہ اپنی زرعی زمینوں میں زرعی ترقیاتی کام کرنے کے متحمل نہیں رہے لہذا حکومت کو ان چھوٹے زمین داروں کی بحالی کیلئے خاطر خواہ فنڈز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ زمین داروں کی فلاح و بہبود کیلئے انکو دیگر سبسڈی کی شکل میں دیگر ریلیف بھی مہیا کرنے کی سفارش کی جاتی ہے , واضح رہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے ضلع ڈی آئ خان/ ٹانک میں محکمہ ایگریکلچر انجنئیرنگ کی طرف سے مختلف مقامات پر لینڈ لیونگ کی گئ زیر کاشت زمینیں , رود کوہی بندوں, نالہ جات کی مرمت, صفائ اور ان کو کاشت کے قابل بنائے جانے والے زرعی رقبہ جات میں سے 473 ایکڑ اراضی رقبہ اس حالیہ سیلابی تباہی سے شدید متاثر یا مکمل تباہ ہوا ہے۔

اسی طرح ڈیرہ/ ٹانک کا 890 ایکڑ اراضی رقبہ ایسا ہے جو کہ ان شدید بارشوں اور سیلابی تباہی سے جزوی طور پر متاثر ہوا ہے جبکہ مجموعی طور پر 1363 ایکڑ اراضی اس حالیہ سیلابی تباہی کی زد میں آئ ہے , اب ان تباہ و جزوی متاثرہ قابل کاشت رقبہ جات کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور متعلقہ زمین دار طبقے کہ جن میں اکثریت چھوٹے زمین داروں کی ہے انکے ریلیف و بحالی کاموں اور انکی آئندہ سال کی گندم و دیگر فصلات کی کاشت کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے 19.44 ملین روپے کی فوری ضرورت ہے.

محکمہ زرعی انجینئرنگ جنڈولہ ضلع ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں اس حالیہ سیلاب سے جزوی طور پر متاثرہ ایکڑ اراضی کی تعداد 1600 ایکڑ جبکہ شدید متاثرہ اراضی 836 ایکڑ اور مجموعی تعداد 2123 ایکڑ اراضی سیلابی ریلوں سے نقصان کی زد میں جنکی بحالی کیلئے محکمہ ہذا کو 19.7 ملین کی فوری ضرورت ہے , اسی طرح محکمہ ایگریکلچر انجنیئرنگ کی طرف سے کوٹ پٹھان ضلع ٹانک میں بنائے تھے کو اس سیلاب سے جزوی نقصان جبکہ لکی مچن خیل, کاکا خیل ملازئ ضلع ٹانک کے علاقے میں بنائے گئے سولر ٹیوب ویل کو شدید نقصان پہنچا ہے کہ جنکی بحالی کیلئے محکمہ ہذا کو پچاس ملین روپے کے حکومتی فنڈ کی ضرورت ہے .

یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کا قیام 1970 میں عمل میں لایا گیا تھا کہ اب جسکا دائرہ کار چند سال پہلے جنوبی وزیرستان کے ضم شدہ اضلاع تک بھی بڑھا دیا گیا ہے , مذکورہ محکمہ زرعی آبپاشی و زرعی پیداوار بڑھانے میں ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اپنے بلڈوزروں اور ٹریکٹرز کے ذریعے رود کوہی ( جہاں نہری و ٹیوب ویل نظام آبپاشی موجود نہیں ہے ) نظام آبپاشی سے سیراب ہونے والے علاقہ جات کی جنکی ڈیرہ و ٹانک میں مجموعی تعداد چھ سے سات لاکھ ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے انکی لینڈ لیولنگ کہ جسکی زرعی پیداوار بڑھانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کو ہموار کرکے انکو قابل کاشت بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے , اسکے علاوہ رود کوہی نظام میں شامل رود کوہی کے روائتی بندوں کی مرمت انکی صفائ اور رود نالہ جات میں بارشوں یا سیلاب کے دوران پہاڑی ندی نالوں سے آنے والے پانی کے ساتھ آنے والی سِلٹ یا مٹی کو ہٹانے و صاف کرنے کے امور بھی سرانجام دیتا ہے , لیکن محکمہ زرعی انجنیئرنگ ڈیرہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ ماضی قریب میں اسکے اندر کی جانے والی حد سے زیادہ سیاسی مداخلت اور جنرل مشرف دور کے بعد اس محکمے کو فراہم کردہ مالی وسائل یا فنڈ کی فراہمی اور مشینری یعنی جدید و نئے بلڈوزروں و ٹریکٹرز کی عدم دستیابی میں تختِ پشور کے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور بے اعتنائی کی وجہ سے اس محکمے کی فعالیت کو کاری ضرب لگائ ہے لیکن کم افرادی قوت , محدود وسائل اور پرانی مشینری کی باوجود محکمہ ڈسٹرکٹ ایگریکلچر انجنئیرنگ کے ضلعی ڈائریکٹر نسیم جاوید کہ جنکی بہت اعلی محکمانہ ریپوٹیشن ہے کی قیادت میں کام کرنے والی انکی محکمانہ ٹیم نے اس حالیہ سیلاب میں ہونے والے نقصانات کے دوران کئ علاقہ جات میں لگی ایمرجنسی میں شبانہ روز محنت کرکے بڑی شاندار کارکردگی پیش کی ہے کہ جسکا محکمانہ اعتراف متعلقہ زمین داروں اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی سربراہان نے بھی کیا ہے.

محکمہ انجنیئرنگ ڈیرہ کے پاس 1986/87 میں ڈی 40 اور ڈی 37 کمسٹو کمپنی کے جو بلڈوزر آئے تھے وہ سب اپنی طبعی عمر پوری کرکے ناکارہ ہو چکے ہیں کیونکہ عام طور جو بلڈوزر دس سے پندرہ ہزار گھنٹوں تک فیلڈ میں کام کرتا ہے تو اسکے بعد اسکے کام کرنے کی سکت کنڈم تصور کی جاتی ہے لیکن محکمہ ایگریکلچر انجنیئرنگ انتظامیہ نے ان بلڈوزروں سے سے بیس سے تیس ہزار سے گھنٹوں تک بھی کام لیا ہوا ہے جو کہ انکے ڈرائیورز اور مکینکس کا ایک کمال کہا جا سکتا ہے , 1992/93 میں محکمہ ہذا کو جان ڈائر کمپنی کے مزید کچھ بلڈورز ملے کہ جن میں سے کئ کی مکینیکل حالت بہت خراب ہے جبکہ چند سال پہلے ڈیرہ کو سرکاری طور پر لیٹیس ٹیکنالوجی کے حامل نیو ہالینڈ کمپنی کے این ایچ ڈی پانچ عدد نئے بلڈوزر ملے تھے کہ جن میں سے 2 عدد نئے بلڈوزر کچھ عرصہ پہلے نامعلومات وجوہات کی بنیاد پر ایگریکلچر انجنیئرنگ آفس ضلع سوات کو عارضی طور ٹرانسفر کئے گئے , یہ جدید بلڈوزر صرف ڈیرہ کیلئے اور ڈیرہ کے نام پر آلاٹ ہوئے تھے اور ضلع ڈیرہ و ضلع ٹانک میں انکی کھپت و اہمیت سوات سے سینکڑوں گنا زیادہ ہے کیونکہ ڈیرہ/ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں مجموعی طور پر لاکھ ایکڑ رود کوہی اراضی , نالہ جات , بند وغیرہ ایسے ہیں کہ جہاں فلڈ کے بعد ڈیرہ میں لگی ایمر جینسی و بحالی کے کاموں کیلئے ان بلڈوزروں کی اشد ضرورت ہے , لیکن باوجود اسکے کہ ڈیرہ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات سردار فیصل امین خان گنڈہ پور , انکے بھائ اور پی ٹی آئ صوبہ خیبر پختون خواہ کے کرتا دھرتا اور ممبر قومی اسمبلی سردار علی امین خان گنڈہ پور , پی ٹی آئ کے ممبر صوبائی اسمبلی آغاز خان گنڈہ پور جو خود رود کوہی علاقہ جات کے بڑے زمین دار بھی ہیں , ڈیرہ کے متعلقہ زمین دار ان کی خدمت میں ان بلڈوزر کو واپس ڈیرہ لانے کی کئ بار اطلاع یابی بھی کر چکے ہیں لیکن اس اہم مسئلے کے حل کا پرنالہ بدستور اپنی جگہ موجود اور ہنوز دلی دور است والہ معاملہ ہے جو کہ ڈیرہ کے زرعی مفاد کے لئیے کسی طور بھی صائب نہیں ہے.

اس لئے ڈیرہ کی تمام منتخب عوامی قیادت کو اور انتظامیہ کو مل کر فوری طور پر ان دو لیٹیس بلڈوزروں کی واپسی کیلئے متحد ہو جانا چائیے , مزید برآں محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیرہ ڈویژن کو اپنے زرعی اہداف حاصل کرنے کیلئے یا متعلقہ کھپت پوری کرنے کیلئے کم از کم 15 سے 20 عدد نئے بلڈوزروں اور کم از کم تین سے پانچ عدد نئے ٹریکٹرز کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پورے خیبر پختون خواہ میں سب سے زیادہ زرعی اراضی رکھنے و زرعی پیداوار دینے والہ علاقہ ڈیرہ ڈویژن ہے اور یہ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جس طرح ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے کہ جس کے بعد چھوٹے زمین داروں کیلئے اپنی زمینوں کی لینڈ لیولنگ کا عمل مکمل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے ان حالات میں محکمہ ایگریکلچر انجینئرنگ ڈیرہ ڈویژن مجموعی طور پر آٹھ سے دس لاکھ ایکڑ اراضی کی لینڈ لیولنگ , پہاڑی برساتی نالہ جات , رودکوہی واٹر چینلز اور رود کوہی بندوں وغیرہ کی مرمت واصلاح کیلئے بڑا اہم کردار اور اپنی بہترین کارکردگی پیش کر رہا ہے کہ جو نہ صرف ہزاروں زمین داروں کی زرعی و مالی خوشحالی کا اہم ذریعہ ہے بلکہ یہ محکمہ حکومتی خزانے میں سالانہ لاکھوں روپے بطور ریونیو بھی جمع کرتا ہے

اب ذرا تصور کیجئے کہ اگر محکمہ ایگریکلچر انجنیئرنگ ڈیرہ ڈویژن انکے ڈسٹرکٹ انجنیئر نسیم جاوید اور انکی کی محکمانہ ٹیم اتنے کم وسائل , ٹوٹی پھوٹی, پرانی اور ناکافی مشینری کے باوجود اس حالیہ سیلاب اور اس سے پہلے بھی اتنی اچھی پرفارمنس پیش کر سکتے ہیں اور متعلقہ زمین داروں کا اپنے محکمے پر ٹرسٹ لیول بڑھا سکتے ہیں تو جب انکو 15/20 عدد نئے بلڈوزر اور 3/5 عدد نئے ٹریکٹرز اور دیگر متعلقہ وسائل وغیرہ فراہم کر دئیے جائیں تو تب یہ محکمہ اپنی فعالیت کو کس اعلی مقام تک لے جائے گا اور اس سے ہمارے حکومتی خزانے/ریونیو کو ہماری زرعی پیداوار کو اور ہمارے زمین دار طبقے کی خوشحالی کو کتنا زیادہ فائدہ ہوگا, لہذا عوامی و سماجی حلقوں اور اس علاقے کے زمین دار طبقے کا صوبہ خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت , سیکرٹری زراعت , وزیر زراعت, ضلعی ایڈمنسٹریشن سمیت اس علاقے میں زرعی بڑھوتری کے فروغ کیلئے کام کرنے والے عالمی امدادی اداروں جیسے ورلڈ بینک , یو ایس ایڈ پروگرام انتظامیہ سے یہ پرزور مطالبہ ہے کہ وہ محکمہ ایگریکلچر انجنیئرنگ ڈیرہ ڈویژن کے زرعی پراجیکٹس کی تکمیل کی راہ میں درپیش مسائل کے حل اور درکار سہولیات/ وسائل کی فراہمی میں اس اہم زرعی محکمے کے ساتھ اپنا بھرپور تعاون کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں