Abulmuazzam turabi coulmn

صحافت یا پل صراط؟

برس ہا برس سے صحرائے صحافت کی خاک چھاننے اور اس سمندر میں غوطے لگانے والےمیرے ایسے لوگ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم صحافت کا پورا علم رکھتے ہیں نہ ہی اسے پوری طرح عملی جامہ پہنا پا رہے ہیں۔صحافت صحیفہ سے اور پیغبری پیشہ ہے اب سب کو معلوم ہے ۔ یہ وہ پل صراط ہے جس پر پھونک پھونک کر ہی نہیں چلنا پڑتا بل کہ اس راستے پر قدم رکھنے سے قبل ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ریاست کا چوتھا ستون یونہی نہیں قرار پایا۔

صحافت آرا،افکارات،خیالات،نظریات اور سوچ کو تبدیل کر دیتی ہے۔ریاستوں اور حکومتوں کو ہلا دیتی ہے۔تہذیبوں اور ثقافتوں کو بدل دیتی ہے۔جھوٹ اور سچ ،صحیح اور غلط میں امتیاز و تفریق کر دیتی ہے۔سچائی سامنے لے آئے تو مثبت و تعمیری انقلاب برپا ہو جاتا ہے ورنہ جھوٹ کو سچ بنا کر باور کرا دے تو قوموں میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں ہر لحاظ سے کمزور و ناقص ہے۔مغربی ممالک میں اس امتیاز و تفریق کو ختم کرنے کی تحریک کامیاب ہو چکی مگر عورت کو آذادی اور حقوق دینے کے نام پر کھلونا بنا دیا گیا۔

اسے ایسی آذادی دی جو اس نے بھی اختیار کرلی کیوں کہ اس میں چکاچوند اور بظاہر عزت و شہرت ہےلیکن تبدیلی صرف اس قدر آئی ہے کہ اب اس کی فروخت کا طریقہ بدل دیا گیا ہے۔کبھی کنیز یا طوائف کے طور پر بکتی تھی مگر اب ماڈل اور فن کارہ بنا کر بیچی جاتی ہے۔پہلے اس کی عزت و آبرو کا سودا کیا جاتا تھا اب اس کے اعضا کی نمائش فروخت ہو رہی ہے اور یہ سب کچھ پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی زینت بن رہا ہے کیوں کہ میڈیا کو چلانے کے لیے بھی پیسہ چاہیے۔گو کہ اشتہارات عورت کے بغیر یا عورت کی با وقار شمولیت کے ساتھ بھی بنائے اور چلائے جا سکتے ہیں مگر معاشرہ بھی ذہنی مریض بنا ہوا اور پروقار و سنجیدہ اشتہارات اس کی توجہ حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں اس لیے تمام شراکت دار تجارت کے فروغ اور منافعے کو پیش نظر رکھ کر اشتہارات بناتے اور چلاتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں مذہبی لحاظ سے ایسی تہذیب و ثقافت بھی ناقابل قبول ہے جو انسان بالخصوص عورت کو عریاں کرنے کا سبب بنے۔سماجی اقدار و روایات بھی اجازت نہیں دیتیں۔قانون بھی منع کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسے اشہارات میڈیا پر بے دریغ نظر آتے ہیں جو بےحیائی،فحاشی اور عریانی کے زمرے میں آتے ہیں۔متعلقہ سرکاری ادارے بھی چشم پوشی کر کے منظوری دے دیتے ہیں صرف اس لیے کہ سرکار کو بھی محصولات کی ضرورت ہے۔یہاں تک تو محض میڈیا کا نہیں تمام شراکت داروں کا معاملہ اور مسئلہ ہے البتہ خواتین کے مسائل،ان کے حقوق اور ان پر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانا میڈیا کا اپنا اختیار ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کہیں بھی دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔

خصوصی ایام کے مواقع پر مخصوص پروگراموں کی اشاعت و نشریات دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں یا پھر کسی عورت کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے یا ظلم و زیادتی ہو جائے تب خواتین کے مسائل،حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک ،ان سے متعلق ملکی و عالمی قوانین،معاشرتی اقدار و روایات اور انسان و شہری کی حیثیت سے ان کے دفاع و تحفظ پر خبریں،مباحثے و مذاکرے اور تجزیے شائع و نشر کیے جاتے ہیں اور ان میں بھی متاثرہ عورتوں اور لڑکیوں کے حوالے سے سوالات اٹھا کر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ عورت یا لڑکی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس کا اپنا قصور ہے اور یوں بلواسطہ طور پر ان لوگوں کی تائید و حمایت کا سامان مہیا کر دیا جاتا ہے جو زیاتیاں کرتے یا مختلف حیلے بہانوں سے خواتین اور بچیوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے،ان کے مسائل حل کرنے اور انہیں ظلم و جبر سے بچانے کی خاطر دفاع و تحفظ فراہم کرنے کے خلاف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صلاح الدین کو فراموش کر دیاابوالمعظم ترابی

ایسے عناصر کو شہ ملتی ہے تو یقینی طور پر عورتوں کے خلاف جور و جبر کو فروغ ملتا ہے۔خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو جائے تو میڈیا ملزمان کو بےنقاب کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش سے زیادہ ایسی خبروں،رپورٹوں اور وڈیوز پر زیادہ توجہ ہوتی ہے جن کے نتیجے میں سنسنی خیزی اور ہنگامہ خیزی پیدا ہو۔عوام کو مسالے دار ،چٹ پٹی اور چٹخارے دار خبریں ملیں تاکہ میڈیا ہاوسز ،اخبارات،رسائل، ٹی وی چینلوں، متعلقہ صحافیوں ، میزبانوں اور تجزیہ کاروں کی واہ واہ ہو جو تجارتی مقاصد کی تکمیل کر کے پیسہ کھینچ سکے۔کوئی متاثرہ عورت یا لڑکی مظلومیت کے ساتھ تماشا بھی بنا دی جاتی ہے جو ہونے والے ظلم پر مزید ظلم کے مترادف ہے۔

عورت یا لڑکی ظالموں کے ہاتھوں ایک بار شکار بنتی ہے مگر میڈیا کے ہاتھوں بار بار شکار بنائی جاتی ہے لہزا کسی بھی متاثرہ لڑکی یا عورت کے بارے میں رپورٹنگ یا تجزیہ کرتے وقت ایسی زبان،ایسے الفاظ،ایسے خیالات اور ایسے جذبات کے اظہار سے گریز کرنا چاہیے جو اسے انصاف دلوانے کے بجائے الٹا کٹہرے میں لا کھڑا کریں۔میڈیا کا فوکس سیاست اور حکومت کے توڑ جوڑ پر ہوتا ہے۔خبریں سرویز،،اداریے،کالم،رپورٹیں،تجزیے اور مذاکرے سیاست کے اردگرد ہی گھومتے ہیں۔سماج،تعلیم،صحت،معیشت،تجارت،زراعت،سائنس،ٹیکنالوجی،علم،ادب،تحقیق،تہذیب،ثقافت،تاریخ، قانون،عدل و انصاف،بنیادی انسانی حقوق اور عام آدمی کی زندگی کو بہت ہی کم زیربحث لایا جا سکتا ہے۔

معاشرے اور عوام کی اپنی ترجیحات ہو سکتی ہیں مگر بازار میں اشیا بیچنے کے لیے ان کی دلچسپی کا سامان دکان دار ہی طے کرتا ہے لہزا میڈیا چاہے تو مثبت و تعمیری فکروسوچ فروخت کرنے کی خاطر عوامی دلچسپی کا مواد فراہم کر سکتا۔ چٹ پٹی خبروں،چٹ خارے دار رپورٹوں اور مسالے دار تجزیوں کے بجائے حقیقت پر مبنی مصنوعات فروخت کر کے خوب نفع کما سکتا ہے۔ صورت حال یہ ہے خواتین کو سرکاری و غیر سرکاری شعبہ جات میں نمائندگی مل بھی رہی ہے تو خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔

مذہبی جماعتیں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کی مخالف مگر خود کو کنزرویٹو اور لبرل کہنے اور کہلوانے والی جماعتیں بھی خواتین کو انتخابی ٹکٹیں نہیں دیتیں اور خصوصی نشستوں کے ذریعے اسمبلیوں میں لایا جاتا ہے جن کی حیثیت کٹھ پتلیوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ووٹ کا حق دینا ہو تو بعض علاقوں میں سماجی اقدار و روایات اور مذہب کے نام پر جہاں مذہبی تنظیمیں آڑے آتی ہیں وہاں روشن خیال اور اعتدال پسند جماعتوں کے امیدوار بھی معاہدے کر کے خواتین ووٹروں کے خلاف فیصلوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ملکی آئین اور قوانین خواتین کو مردوں کے برابر شہری حقوق دیتے ہیں لیکن عملی طور پر غصب کر لیے جاتے ہیں۔میڈیا آواز اٹھا سکتا اور امتیازی سلوک ختم کرانے میں اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کر سکتا ہے جو کرنا بھی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں