صوبے میں مالی بحران,صوبائی حکومت کابڑا فیصلہ ڈیرہ کے ہسپتالزکیلئے مختص ڈیڑھ ارب روپے واپس

صوبے میں مالی بحران,صوبائی حکومت کابڑا فیصلہ ،ڈیرہ کے ہسپتالزکیلئے مختص ڈیڑھ ارب روپے واپس طلب کر لئے

خیبر پختونخواہ میں مالی بحران کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان کے بی او جی کے تحت چلنے والے ہسپتالوں کو ملنے والی ڈیڑھ ارب روپے لی گرانٹ پر شب خون مارنے کی تیاری مکمل کر لی


صوبائی حکومت جو اپنی نا کام مالیاتی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے تقریباً دیوالیہ ہونے کے قریب جا چکی ہے‘نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی رقم موجود نہیں


ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال، زنانہ ہسپتال اور گومل میڈیکل کالج وغیرہ کے لئے بعد مختص کردہ ایک ارب 58 کروڑ روپے کے فنڈزکے پیچھے صوبائی حکومت ہاتھ دھو کر پڑ گئی


ٓٓان فنڈز سے ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتالوں میں علاج و معالجہ سہولیات‘ مریضوں کو ادویات کی فراہمی‘طبی و جراحی آلات و مشینری وغیرہ کی خریداری اور اس طرح کے دیگر کئی میڈیکل سہولیات کی فراہمی مہیا کرنا مقصود تھا


پشاور میں موجود افسر شاہی نے روایتی بخل سے کام لیتے ہوئے ڈیرہ کو دوسرے کوارٹر کی قسط جو کہ MTIڈیرہ کو اکتوبر کے مہینے میں ملنی تھی ماہِ نومبر ختم ہونے کو ہے مگر MTIانتظامیہ کو تا حال یہ قسط بھی ریلیز نہیں کی گئی


مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال خیبر پختونخواہ کا وہ واحد ہسپتال ہے کہ جہاں سیلاب کا 5/5فٹ تک پانی گھس گیا تھا لیکن اس شدید بحرانی کیفیت میں بھی چاہے وہ کویڈ 19ہو یا حالیہ سیلاب ان میں شاندار کارکردگی پیش کی ہے


ڈیرہ کے سرکاری ہسپتال سسٹم کے لیے مختص یہ خطیر فنڈ چھین کر پشاور منتقل کرنے سے یہاں کے ہسپتالوں میں جمود اور پھر بعد میں بتدریج “قومے”ایسی صورتحال سے دو چار کرنے کے مترادف ہے‘ محقق ابن آدم کی چشم کشا انکشافات


ڈیرہ اسماعیل خان(سٹاف رپورٹر) خیبر پختونخواہ میں مالی بحران کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان کے محکمہ صحت کی جانب سے بی او جی کے تحت چلنے والے ہسپتالوں کو ملنے والی ڈیڑھ ارب روپے لی گرانٹ پر شب خون مارنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔محکمہ فنانس صوبہ خیبر پختونخواہ کے مستند ذرائع پر مبنی یہ مصدقہ اطلاعات (جس کی تصدیق BOG

ڈیرہ کے متعلقہ چیئر مین سے بھی کی جا سکتی ہے) کے تحت صوبہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت جو اپنی نا کام مالیاتی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے تقریباً دیوالیہ ہونے کے قریب جا چکی ہے۔ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس کے پاس اپنے صوبائی سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی رقم موجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ کئی سرکاری محکموں کے ترقیاتی اور سالانہ دیکھ بھال کے فنڈ کو منجمد اور اُنہیں ان سرکاری محکمہ جات سے لے کر اپنے صوبائی ہیڈ اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر عمل پیرا ہے۔

اسی تناظر میں اب وہ محکمہ صحت ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال، زنانہ ہسپتال اور گومل میڈیکل کالج وغیرہ کے لیے وزراتِ صحت و وزارت ِ خزانہ کی طرف سے دی گئی واضح ہدایات اور Committmentکے بعد مختص کردہ ایک ارب 58 کروڑ روپے کے فنڈجن سے ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کے لیے آنے والے مریضوں کو ادویات کی فراہمی طبی و جراحی آلات و مشینری وغیرہ کی خریداری اور اس طرح کے دیگر کئی میڈیکل سہولیات کی فراہمی مہیا کرنا مقصود ہے۔

لیکن صوبائی حکومت ان فنڈز کے پیچھے ہاتھ دھو کرپڑ گئی ہے۔ اور اگر صوبائی حکومت کو اس زیادتی میں کامیاب ہونے دیا گیا تو ڈیرہ اسماعیل خان کے مریضوں کو مذکورہ نا گزیر طبی سہولیات فراہم کرنے کی تمام راہیں نا صرف مسدود ہو جائیں گی بلکہ ایک ارب 58 کروڑ روپے کی یہ خطیر رقم صوبائی حکومت سے ڈیرہ اسماعیل خان کو شائد پھر کبھی نہ مل سکے۔ یہ ان باتوں کا انکشاف ممتاز کالم نگار و تجزیہ کارتنظیم الاعوان پاکستان کے صوبائی رہنماء اور اعوان ویلفیئر سوسائٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی سربراہ ابن آدم نے اپنے ایک بیان میں کیا۔

ابن آدم نے کہا کہ اگر ڈیرہ اسماعیل خان کی وکلاء برادری، انجمن تاجران، میڈیا اور ڈیرہ کی سول سوسائٹی کے ساتھ ڈیرہ کے منتخب عوامی نمائندے صوبائی حکومت کی اس زیادتی کے خلاف متحد نہ ہوئے تو ڈیرہ کے سرکاری ہسپتالوں کے جہاں غریب اور سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا علاج معالجہ ہوتا ہے۔ تختِ پشور میں بیٹھی بیورو کریسی یہ فنڈ ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور منتقل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جو کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے اجتماعی حقوق کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔

ابن آدم نے مزید کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری ہسپتالوں میں 60سے 70ہزار مریضوں تک کاماہوار طبعی معائنہ ان کے مختلف آپریشنز اور دیگر علاج معالجہ کیا جاتا ہے وہ اس زیادتی سے بری طرح متاثر ہونگے۔ علاوہ ازیں ہمارے سرکاری ہسپتالوں نے کویڈ 19کی بھیانک عالمی وباء اور حالیہ سیلاب کے دوران کے جس میں ڈیرہ اسماعیل خان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال خیبر پختونخواہ کا وہ واحد ہسپتال ہے کہ جہاں سیلاب کا 5/5فٹ تک پانی گھس گیا تھا۔

لیکن اس شدید بحرانی کیفیت میں بھی چاہے وہ کویڈ 19ہو یا حالیہ سیلاب ان میں شاندار کارکردگی پیش کی ہے جبکہ دوسری طرف MTI BOGکے چیئر مین رضا علی خان گنڈہ پور اپنی پوری BOGٹیم کے ساتھ ہاسپٹل ڈائریکٹر ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر فرخ جمیل ایڈیشنل ڈائریکٹرہاسپٹل مفتی محمود ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر عمر شاہ اُسترانہ اپنے ما تحت کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسسز اور پیرا میڈیکل سٹاف وغیرہ پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ہیلتھ سسٹم کو بہت Up-Gradeمعیاری اور ان کو حیات آباد ٹیچنگ ہسپتال پشاور، پمز ہسپتال اسلام آباد اور نشتر ہسپتال ملتان جیسی سہولیات کی فراہمی کی منزل کی راہ میں “ٹیک آف “کر چکے ہیں۔

اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مریضوں کا اپنے سرکاری ہسپتالوں پر ٹرسٹ لیول بتدریج بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں ڈیرہ کے سرکاری ہسپتال سسٹم کے لیے مختص ایک ارب 58 کروڑ روپے کے خطیر فنڈ چھین کر پشاور منتقل کرنے سے یہاں کے ہسپتالوں کو پہلے جمود اور پھر بعد میں بتدریج “قومے”ایسی صورتحال سے دو چار کرنے کے مترادف ہے۔ کہ جس کی ڈیرہ کی عوام کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔

ابن آدم کا کہنا تھا میں تخت پشاور میں بیٹھی بیوروکریسی یا افسر شاہی کے جس نے ڈیرہ کی ترقی اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے درکار سرکاری فنڈ کے اجراء میں ہمیشہ بخل سے کام لیتے ہوئے اس میں روڑے اٹکائے ہیں اُس نے ڈیرہ کے سرکاری ہسپتالوں کی دیکھ بھال کے لیے جو روائتی سالانہ فنڈ دئیے جاتے ہیں اس میں بھی ڈیرہ کو دوسرے کوارٹر کی قسط جو کہ MTIڈیرہ کو اکتوبر کے مہینے میں ملنی تھی ماہِ نومبر ختم ہونے کو ہے مگر MTIانتظامیہ کو تا حال یہ قسط بھی ریلیز نہیں کی گئی کہ جس کی وجہ سے MTIڈیرہ اور ہسپتالز انتظامیہ کو ڈیرہ کے ہیلتھ Issues کے روز مرہ امور چلانے میں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


لہذا تمام اہلیانِ ڈیرہ کو نہ صرف سرکاری ہسپتالوں کے لیے مختص ایک ارب 58 کروڑ کے مذکورہ فنڈز کے تحفظ پر کڑا پہرا دینا ہو گا بلکہ اپنے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے سالانہ دیکھ بھال کے اس فنڈ کے دوسرے کوارٹر کی اس قسط کو بھی جلد سے جلد Releaseکرانا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں