ibn-e-adam column

اور راجہ اختر علی بھی اُفق کے اُس پار چلے گئے ….!!!

راقم کی ان سے باقاعدہ شناسائ 80 کے عشرے کے ابتدائ برسوں میں ہوئ کہ جب راقم اپنی کرکٹ کے عروج پر تھا اور راجہ اختر علی مرحوم کے چھوٹے بھائ راجہ اصغر عرف حشو کہ جنکو راقم ڈیرہ کی کرکٹ ہسٹری کے چند گنے چنے سٹائلش اور تیکنیک کے اعتبار سے چند بہترین بلے بازوں میں سے ایک مانتا ہے .

انکی توسط سے بڑے راجہ صاحب سے میل ملاپ رہتا تھا کیونکہ راجہ اختر علی مرحوم کے اندر ایک عمدہ سپورٹس مین رہتا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ راجہ فیملی میں پہلے راجہ اصغر اور پھر بعد میں راجہ اختر علی مرحوم کے دو بیٹوں راجہ ندیم اور راجہ فہیم نے اور انکے ایک بھتیجے راجہ عبدالوہاب نے کئ سالوں تک کرکٹ کے میدانوں میں دھوم مچائے رکھی , راجہ اختر علی کشادہ ظرف کشادہ دستر خوان اور کشادہ سوچ کے مالک تھے.

پچھلی کئ دہائیوں سے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن اور اسکے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ جس اعلی نظریاتی وابستگی اور راسخ عزم کا مظاہرہ کئے رکھا اور جس سیاسی ثابت قدمی کا مظاہرہ پیش کیا میرے خیال میں وہ مسلم لیگ ن خیبر پختون خواہ کے بہت کم سیاسی رہنماؤں نے کیا ہے, راجہ اختر علی ایک جینیئن سیاسی ورکر تھے انکی گفتگو اور نشست و برخاست میں شائستگی , مٹھاس , اخلاص , اپنائیت, بہادری, جی داری ,وقار , تدبر , معاملہ فہمی, احترام کے ساتھ ساتھ دلیل اور اپنے کہے کی پاسداری بھی موجود ہوتی تھی.

وہ ایک بے لوث اور نمود و نمائش کی دنیا کی مخلوق ہی نہیں تھے اور نہ ستائش و صلے کے متمنی رہتے تھے , دریاؤں پر مچھلی کے شکار پر جانا انکا محبوب اور شاید واحد مشغلہ تھا , انہوں نے مسلم لیگ ن کے تینوں اقتدار کے ادوار دیکھے لیکن مجال ہے کہ ڈیرہ میں ان پر لوگوں کی نوکریاں لگوانے , ٹرانسفر پوسٹنگ , کوٹے , پرمٹ ,ٹھیکے لینے , پیسے پکڑنے کا کوئ معمولی سا الزام بھی لگا ہو یا انہوں نے مسلم لیگ ن میں اپنی اتنی طویل سیاسی وابستگی , اپنے تعلقات و اثر و رسوخ کو کبھی اپنے ذاتی مفاد کیلئے کیش کرانے کی کوشش کی ہو .

بے شک اس معاملے میں وہ ڈیرہ میں سب سے شفاف , بے داغ اور استثنائی کردار و ساکھ کے مالک رہے کیونکہ ڈیرہ میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے چند سیاسی کردار یا عہدیدار ایسے بھی موجود ہیں کہ جو اس حوالے سے ذاتی طور پر اچھی شہرت کے مالک نہیں رہے لیکن راجہ اختر علی مرحوم وہ واحد سیاسی کارکن یا ضلعی رہنما تھے کہ جنہوں نے سیاست میں آ کر اپنے وقت , اپنے ذاتی وسائل اور اپنی توانائیاں اپنی پارٹی اور عوام کی خدمت پر قربان کئے , وہ سب کے راجہ اور تمام مکاتب فکر کے دوست , ہمدرد و غمگسار تھے, روٹھے و ناراض فریقین کے درمیان صلح جوئ کرانا , ڈیرہ میں قیام امن کی کوششوں کو تقویت دینے میں انکا کردار اور خدمات قابل تحسین رہی ہیں جبکہ انجمن تاجران کے سرپرست اعلی و رہبر کی حیثیت سے انہوں نے جو ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے وہ شاید اب کوئ دوسرا تاجر رہنما یہ کردار ادا نہ کر سکے اور ڈیرہ کی تاجر و کاروباری برادری اپنے درمیان پیدا ہونے والے راجہ اختر علی مرحوم کا خلاء شاید کبھی پُر نہ کر سکے , راجہ اختر علی مرحوم صرف نام کے راجہ نہ تھے بلکہ دل اور عادات و اطوار کے بھی راجہ تھے .

وہ خاموشی کے ساتھ غرباء , یتیموں , بیواؤں , حاجت مندوں کی کھل کے مدد یا حاجت روائ فرماتے تھے اور اس پر بڑی خوشی محسوس کرتے تھے کہ وہ کسی کے کام آئے ہیں , راقم نے راجہ صاحب کے آیام جوانی دیکھے ہیں وہ مردانہ وجاہت کے مالک بڑے خوبصورت گھبرو تھے اور باوجود اس کے کہ راجہ اختر علی مرحوم ایک دھیمے لہجے و مزاج کے بندے تھے لیکن اللہ نے انکی شخصیت میں ایک رعب ایک دبدبہ بھر دیا تھا جو ساری عمر انکے ساتھ رہا.

راقم نے راجہ صاحب کو سدا سفید و اجلے لباس میں ملبوس پایا یعنی جسمانی طور پر تن کے بھی اجلے اور اندرونی طور پر من کے اس سے ہزار گنا زیادہ اجلے تھے وہ صرف راجپوت برادری کی قد آور شخصیت نہیں تھے بلکہ پورے ڈیرہ کی ایک بہت بڑی شخصیت و انمول اثاثہ تھے اور انکی رحلت پورے ڈیرہ اسمٰعیل خان کا بھاری نقصان ہے , اللہ پاک راجہ اختر علی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور انکے بچوں , بھائیوں , آل اولاد کو صحت و ایمان کی بادشاہی کے ساتھ آسمان کے تاروں جتنا پھیلائے , صبر جمیل دے , آمین ثم آمین یا رب العالمین.

……….. کچھ لوگ مثلِ تعویذ ہوتے ہیں جب بھی یاد کرو شفاء ملتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں