راجہ کی فیملی اور ہارون اعوان کا دکھ!

راجہ کی فیملی اور ہارون اعوان کا دکھ !

ابھی راجہ اختر کے بچھڑنے کا غم تازہ تھا کہ ہارون اعوان کے بیٹے کے انتقال کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا۔ ہارون اعوان یاروں کا یار ہے اس کا غم کسی طور ایسا نہیں کہ اپنا غم نہ لگا نہ ہو۔راجہ اختر علی بھی ایسے عزیز دوست تھے جن کو بھلانے میں زمانے لگیں گے۔

راجہ اختر علی کی فائل فوٹو

ان سے پہلی ملاقات کوئی خوشگوار نہیں تھی جو تقریباً آج سے 25سال قبل ہوئی تھی اور جس پہلی ملاقات کا انجام تلخی پر ہو وہ اکثر محبت اور دوستی کی عمدہ مثال بن جاتی ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کی صحافت میں میرے وارد ہوتے ہی راجہ اختر علی کی جانب سے ایک عدالتی کیس نے میرا استقبال کیا تھا اور یہ کیس انہوں نے ایک خبر کی وجہ سے میرے خلاف کیا تھا۔ ان دنوں عمرفاروق میاں خیل ایم این اے تھے آٹے کا بحران تھا اور مسلم لیگ کی صفوں میں نااتفاقی کی فضا عروج پر تھی۔

روزنامہ پاکستان میں خبر کی اشاعت کے بعد راجہ اختر علی نے مجھ پر عدالت میں کیس دائر کیا تواحاطہ عدالت میں راجہ صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں تو کسی اور کے خلاف کیس کیا تھا آپ کے خلاف کرنے کا ارادہ نہیں تھا اور اس وقت وہ مجھے جانتے تک نہیں تھے بس غلط فہمی میں کیس ہو گیا ۔ ان کے وکیل چوہدری شریف کے آنے کے بعد راجہ صاحب نے پہلی پیشی پر کیس واپس لیا اور وہ دن تھا اور آج کا دن ہے ان سے قائم ہونیوالی محبت اور دوستی ان کے اس جہاں سے کوچ کرنے کے بعد بھی قائم ہے۔

راجہ اختر علی انتہائی منکسراج المزاج شخصیت کے مالک تھے۔ ہمیشہ محبت اور خلوص کے ساتھ ملتے۔ان کا جو دبنگ انداز تھا وہ ہمیشہ توجہ کو مرکز رہا وہ بغیر کسی لگی لپٹی یا کسی خوف کے اپنا مافی ضمیر بہت دو ٹوک اور واضح الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ ضلعی انتظامیہ کا کوئی افسر ہو یا کوئی اعلیٰ عہدیدار راجہ صاحب نے جس انداز میں اپنا موقف بیان کیا وہ شائد کسی کے خاصے میں نہیں ہے۔

جب ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی عروج پر تھی تو ایک بار جنرل عاصم سلیم باجوہ آئی جی ایف سی ساؤتھ تعینات تھے تو انہوں نے معززین شہر کو بلایا کہ وہ علاقہ کی صورتحال سے اگاہ کریں تو راجہ اختر علی نے اپنے مخصوص دبنگ انداز میں ڈیرہ کا مقدمہ پیش کیا اور اس کے ساتھ ہارون اعوان نے بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔

راجہ اختر علی صرف راجپوت برادری کے رہنما نہیں تھے وہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے ہر طبقے ہر شہری کے ترجمان تھے ان پرکبھی یہ چھاپ نہیں رہی کہ انہوں نے صرف کسی مخصوص طبقہ یا برادری کے حقوق کی بات کی ہو وہ ہمیشہ ڈیرہ اور ڈیرہ والوں کی بات کرتے تھے۔

ان سالیڈر نہ کسی پارٹی کے پاس ہے اور نہ کسی برادری کے پاس وہ بیک وقت تمام سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں سمیت تمام مکاتب فکر اور مسالک کے درمیان ایک پل کا کردار تھے اور سب کے بات سننا اور سب کو ساتھ لیکر چلنا راجہ صاحب کو دیگر سے ممتاز کرتا ہے۔ آخری ایام انہوں نے علالت میں گزارے ان سے ملاقات کی حسرت دل میں رہ گئی۔


؎ کیا دولت نایاب لٹی ہے موت کے ہاتھوں
وہ قافلہء سالار تو غیرت کا بھرم تھا


راجہ اختر علی کا غم تازہ ہے اور ہارون اعوان جیسے عزیز دوست کو کم سن بیٹے مامون کے انتقال کا جو صدمہ سہنا پڑا ہے اس نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ہارون جیسے خوش گفتار اور ہر وقت باغ وبہار رہنے والے دوست کو اس حالت میں دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے ہم کیا کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کوآ پ کی پیاری چیز سے آزماتا ہے اور وہ اپنے پیارے بندوں ہی کو ان امتحانات میں گزارتا ہے۔ہارون اعوان اور ان کی اہلیہ و دیگر فیملی کے لئے یہ دکھ کسی طور پر قابل تلافی نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت ورضا کے سامنے ہم کچھ بھی تو نہیں کر سکتے ہیں۔ جنازہ،تدفین اور دعا پر آئے ہوئے تمام لوگ اس قدر اشک بار اور غم زدہ تھے کہ انہیں یہ دکھ اپنا دکھ لگ رہا تھا ہر کوئی اس غم میں برابر کا شریک تھا۔

ہارون اعوا ن دل ودماغ کے ساتھ ہاتھ پر کھلا رکھتے تھے۔ دوستوں اور ضرورت مندوں کی مدد بڑے کھلے دل اور ماتھے پر بغیر کسی شکن کے کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں دینے میں انہوں نے کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا کہ ایسا کہا جائے کہ ایسا ہوتا توکیا اچھا ہوتا جو دوسروں کے لئے احساس اور محبت کا پر خلوص جذبات کا حامل ہو وہ کیسے اپنی اولاد کے لئے کچھ نہیں کرتا ہوگا۔

بس اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رضا کے سامنے سر خم تسلیم کرنا ہماری اللہ سے کمٹ منٹ کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی بھی انسان کو اولاد کے دکھ سے نہ گزارے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ مامون کے والدین کو صبرجمیل عطا فرمائے اور مزید غموں اور دکھوں سے محفوظ رکھے۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں