1

ادویات کے مضر اثرات سے بچاؤ کی تدابیر

مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایلوپیتھک ادویات اس صدی کی بہت بڑی دریافت ہیں۔ اگرچہ یہ ادویات جلدی اثر کر کے صحت بخشتی ہیں لیکن بیماری کو ختم کرتے کرتے کچھ ایسے اثرات بھی چھوڑ سکتی ہیں جن کا بیماری کے علاج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ان اضافی اور غیر ضروری اثرات کو مضر اثرات (Effects Side) کہتے ہیں۔ تقریباً تمام ایلوپیتھک ادویات کھانے سے مختلف قسم کے مضر اثرات ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

یہ اثرات معمولی نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ پرائیویٹ پریکٹس میں ادویات کے اندھا دھند اور غیر ضروری استعمال سے انسانی صحت کو بہت سارے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ مختلف قسم کی ایلوپیتھک ادویات ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جائیں اور استعمال کے دوران ڈاکٹر کی بتائی ہوئی ہدایات کو پیش نظر رکھا جائے۔ اس مضمون میں مختلف قسم کی ایلوپیتھک ادویات اور اْن کے مضر اثرات کے بارے میں ضروری معلومات دی جا رہی ہے تاکہ اِن کے استعمال کے دوران ہونے والے کسی قسم کے مضر اثرات ہونے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اِن پہ قابو پایا جا سکے۔

عام طور پر مضر اثرات ادویات کے کیمیائی اثر سے ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ادویات ایسی ہیں جن کے اثرات معمولی نوعیت کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں لیکن بعض دفعہ کوئی ایک مضر اثر خطرناک حدتک پہنچ جاتا ہے اور اگر بروقت اس کا تدارک نہ کیا جائے تو موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ کسی دواکے تمام کے تمام مضر اثرات ایک ہی مریض میں ظاہر نہیں ہوتے۔ کچھ مریضوں میں ایک طرح کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں تو دوسرے مریضوں میں دوسری طرح کے۔ بعض مریضوں میں ایسے مضر اثرات سرے سے نمودار ہی نہیں ہوتے۔

ان اثرات کے ظاہر ہونے کی الگ الگ وجوہات ہوتی ہیں جو مریض کی جنس، عمر، وزن، خوراک، دوا کی مقدار اور بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ دوا کی مقررہ مقدار سے زیادہ خوراک لینے سے بھی مضر اثرات ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر دوا کے ساتھ کھانے پینے کے بارے میں بتائی گئی ہدایات پر عمل نہ کیا جائے تو بھی مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

آپ جب بھی کوئی دوا اکیلی یا دوسری ادویات کے ساتھ استعمال کر رہے ہوں تو ڈاکٹر سے ان کے ممکنہ مضر اثرات اور احتیاط کے بارے میں ضرور پوچھ لیں۔ بعض اوقات صرف دوا کی خوراک بدلنے یا اسے کھانے کے ساتھ لینے سے بھی مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے؛ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر ڈاکٹر کسی اور طریقے سے ان اثرات کو ختم یا کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

سات حفاظتی تدابیر

(1) دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ سے لیں، نسخہ کے مطابق استعمال کریں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔

(2) دوا لیتے وقت ڈاکٹر سے اس کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں ضرور پوچھ لیں تا کہ آپ کو غیر ضروری پریشانی نہ ہو۔ عام طور پر ادویات کی پیکنگ کے اوپر یا اس کے اندر ایک کاغذ پر اس طرح کے مضر اثرات کی تفصیل اور دوسری معلومات لکھی ہوتی ہیں۔

(3) یاد رکھیں اگر آپ حاملہ ہیں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس (شوگر) یا کسی اور پرانی بیماری کی مریضہ ہیں تو کوئی دوا کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

(4) اگر آپ کو کسی دوا سے الرجی ہے تو ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔

(5) اگر دوا لیتے وقت یا اس کے فوراً بعد آپ کی طبیعت خراب ہونے لگے تو مزید دوا نہ لیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

(6) مختلف ادویات کو آپس میں نہ ملائیں۔ اگر آپ ایک سے زیادہ ادویات استعمال کر رہے ہوں، چاہے وہ اسپرین (Aspirin) یا تیزابیت دور کرنے والی دوا (Antacid) ہی کیوں نہ ہو، ڈاکٹر کو اس کے بارے میں بھی ضرور بتائیں۔ دواؤں کو الکحل کے ساتھ کبھی استعمال نہ کریں۔

(7) دوا کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ مدت تک کھائیں۔ اپنی مرضی سے اس مدت میں کمی بیشی نہ کریں۔

بچوں کیلئے ادویات کا استعمال

بچوں کے معاملہ میں ادویات کے استعمال میں اور بھی زیادہ توجہ اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑوں کے برعکس، مختلف عمر کے بچوں کیلئے دوا کی خوراک مختلف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض ایسی ادویات جو بڑوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں، بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ مثلاً اسپرین (Aspirin)کا استعمال بچوں میں جگر کی بیماریوں اور دماغی امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کو اسپرین کبھی نہ دیں۔

اسی طرح 10 سال سے کم عمر کے بچوں کو اگر ٹیڑا سائیکلین (Tetracycline) دی جائے تو ان کے دانت پیلے ہو جاتے ہیں اور ان کی ہڈیوں کی نشوونما بھی رک جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو مختلف ادویات دیتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

٭ تمام ادویات کو ہمیشہ بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

٭ دوا ہمیشہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ خوراک و مقدار کے مطابق دیں۔

٭ بچوں کو دوا ہمیشہ اپنی موجودگی میں دیں ورنہ وہ زیادہ مقدار میں خوراک لے سکتے ہیں۔

٭ بچوں کو میٹھی یا شوخ رنگوں والی دوا کبھی مٹھائی یا جوس کہہ کر نہ پلائیں بلکہ دوا ہی بتا کر دیں۔

اسہال یا ڈائریا (Diarrhoea)میں ادویات کا استعمال

جب دن میں تین یا تین سے زیادہ پتلے پاخانے آئیں تو اسے اسہال یا ڈائریا (Diarrhoea) کہتے ہیں۔ ہر سال بہت سے بچے ڈائریا کے نتیجے میں جسم میں پانی اور نمکیات کے ساتھ ساتھ غذائیت کی کمی سے مر جاتے ہیں۔

اچانک ہونے والا ڈائریا تو چند دنوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ڈائریا روکنے والی مختلف ادویات اور اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics) لینے کا بالکل کوئی فائدہ نہیں۔ تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈائریا میں ادویات کا استعمال بالکل غیر ضروری ہے۔ بلکہ ڈائریا روکنے والی ایک مشہور دوا سے کئی بچوں کی اموات بھی واقع ہوئیں۔ اس صورت میں ادویات استعمال کرنے سے پیسے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ مریض کو نقصان پہنچنے کا بھی امکان ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی انفیکشن کی وجہ سے ڈائریا ہو تو پھر اس انفیکشن کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

اچانک ہونے والے ڈائریا کے زیادہ تر مریضوں کو کافی مقدار میں جوس، نمکول (ORS)، پانی اور سوپ وغیرہ دینا فائدہ مند ہے۔ صرف چند مریض ایسے ہوتے ہیں جنھیں پانی اور نمکیات کی شدید کمی اور نہ رْکنے والی بہت زیادہ قے کی صورت میں ہسپتال داخل کرانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جہاں ان کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو ڈرپ کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔

جب آپ کے بچے کو ڈائریا ہو جائے تو اسے پینے والی چیزیں زیادہ دیں۔ دودھ پلانا جاری رکھیں اور اسے ابلا ہوا پانی، نمکول (ORS) اور ہلکی غذا دیں۔ ڈائریا کے ذریعہ جو پانی خارج ہو رہا ہے اس سے زیادہ بچے کو منہ کے ذریعے دینا چاہیے۔ اگر پانی اور نمکیات کی کمی پوری ہوتی رہے تو پھر ڈائریا سے کسی قسم کے فوری نقصان کا خطرہ نہیں رہ جاتا۔

حمل کے دوران ادویات کا استعمال

حمل کے دوران کسی بھی مرحلے پر ادویات استعمال کرنے سے ہونے والے بچے پر ان کے نقصان دہ اثرات پڑ سکتے ہیں۔ آسانی کے لیے حمل کی مدت کو تین برابر مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

٭پہلی سہ ماہی: پہلے تین ماہ

٭دوسری سہ ماہی:چوتھے ماہ سے چھٹے ماہ تک

٭تیسری سہ ماہی:ساتویں ماہ سے نویں ماہ تک

پہلی سہ ماہی کے دوران ادویات کا استعمال بچوں میں کوئی پیدائشی نقص پیدا کر سکتا ہے۔ حمل کے شروع کے 3 سے 11 ہفتوں کے دوران بچے کو نقصان پہنچنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ دوسری اور تیسری سہ ماہی کے دوران دواؤں کے استعمال سے بچے کی نشوونما رک سکتی ہے یا پھر اس کے جسم پر ادویات کے زہریلے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔ حمل کے آخری دنوں یا زچگی کے دوران لی گئی ادویات کا مضر اثر بچے پر پیدائش کے بعد بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ حمل کے دوران صرف اسی صورت میں دوا استعمال کریں جب آپ کو پورا یقین ہو جائے کہ اس سے ماں یا بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اگر ممکن ہو تو پہلی سہ ماہی کے دوران کسی قسم کی دوا استعمال نہ کریں۔

رضاعت (Lactation) کے دوران ادویات کا استعمال

رضاعت وہ مدت ہے جس کے دوران ماں بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے۔ دودھ پلانے والی ماؤں کو ادویات استعمال کرنے کے معاملہ میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیوں کہ بہت سی ادویات ماں کے دودھ میں شامل ہو کر بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر ماں کے لیے دوا استعمال کرنا لازمی ہو اور دوا بھی کسی حد تک محفوظ ہو تو اسے دودھ پلانے کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد اور دوبارہ دودھ پلانے سے تین گھنٹے پہلے استعمال کرنا چاہیے۔

ایسی ادویات جن کے دودھ پینے والے بچوں پر ہونے والے اثرات کے بارے میں تحقیق مکمل نہیں ہوئی انہیں استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ آپ کو یہ مشورہ ڈاکٹر ہی دے سکتا ہے، اس لیے کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ بے حد ضروری ہے۔ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے پر اثر انداز ہونے والی چند مشہور ادویات میں کلورم فینی کال (Chloramphenicol) ڈائزی پام (Diazepam)، مارفین (Morphine)، ایسٹروجن (Oestrogen) وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اپنی مرضی سے ادویات استعمال کرنے کے نقصانات:

ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر اور اپنی مرضی سے ادویات استعمال کرنا صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ ان ادویات کے مضر اثرات سے زندگی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اسپرین (Aspirin) کا زیادہ استعمال کرنے سے معدے کا السر ہو سکتا ہے۔ پینسلین اور مختلف قسم کی اینٹی بائیوٹک ادویات کی وجہ سے ہونے والے صدمہ (Shock) سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اسی طرح یرقان اور گردے کی پتھری ہونے کی ایک وجہ اپنی مرضی سے ادویات لینا بھی ہو سکتا ہے۔

مختلف قسم کی ادویات کے غیر ضروری استعمال سے سب سے زیادہ جگر متاثر ہوتا ہے۔ کیونکہ جگر انسانی جسم کی بائیوکیمیکل لیبارٹری کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خود سے ادویات استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے اور مختلف بیماریوں کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات کا استعمال کیا جائے۔

اس کے علاوہ اپنی مرضی سے ادویات استعمال کرنے سے مریض ان کا عادی ہو جاتا ہے۔ شروع میں درد یا پریشانی دور کرنے کیلئے اپنے طور پر ہی کوئی نہ کوئی دوا مسلسل لی جاتی ہے۔ اس کے بعد جسم اس دوا کا عادی ہو جاتا ہے اور آخرکار انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کے بغیر زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے جیسا کہ ہیروئین کے نشہ میں ہوتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics)، سٹیرائیڈز (Steroids)، سکون آور دواؤں (Tranquillisers) کا بغیر سوچے سمجھے اور غیر ضروری استعمال جو معمولی امراض کیلئے کیا جائے بہت ہی خطرناک ہے۔

اس عادت سے وقتی طور پر آرام ضرور محسوس ہوتا ہے لیکن بعد میں زندگی بھر کیلئے پریشانی کا باعث بن جاتاہے۔ ان ادویات کے مسلسل استعمال سے گردے، جگر اور جسم کے دوسرے اعضا کو نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان تمام نقصانات سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ کے بعد لیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں