1

الفاظ کا سفر نامہ۔’’ اس‘‘ (دوسرا اور آخری حصہ )

ہند میں در آنے والے یہ اساک خانہ بدوش خوشحال ہوگئے تو بلخ و باختر کے میگی مغ اور مہر بھی ان کے پیچھے آگئے۔پہلے آنے والے جو اب کشتری(کش توری۔تلوار والے) تو لکھت پڑھت سے عاری جاہل اور جنگ جُو لوگ تھے چنانچہ ان کے نئے ساجھے داروں یعنی کتاب اور قلم والوں نے ان کو’’آریا‘‘ بنا ڈالا اور ان میں وہ تمام صفات ڈالیں جو انسان میں ہوسکتی ہیں شریف، نجیب، بہادر، سخی، غریب نواز، مہمان نواز، شجاع اور نہ جانے کیا کیا۔چنانچہ انھوں نے جو کچھ ان کے بارے میں کہا وہ سب مان لیا گیا۔ اور آریا بن گئے، حالانکہ وہ اصل میں اس والے تھے اس’’اس‘‘ یعنی گھوڑے والے۔

اور اساک کے بہت سارے گروپ تھے۔جن کا آپس میں کوئی نسلی تعلق نہیں تھا بلکہ مشترک صرف ’’اس‘‘ تھا۔ چنانچہ زبانوں میں اس لفظ ’’اس‘‘ سے جو قدیم ترین ہند میں یورپی زبان کا دو حرفی لفظ تھا ’’اس‘‘ سے دنیا کی بے شمار زبانوں کے بے شمار الفاظ بنے ’’آسمان‘‘ تو پہلے ہی سے تھااس کی جمع مان تھی۔

مان، مین، من، مند کا مطلب ہے والا یا املک جیسے سنسکرت میں۔ایمان سب مان،سمان۔انگریزی میں مین(man) جیسے سپرمین، فورمین جنٹل مین، گڈمین، بیڈمین۔پشتو میں’’من‘‘ ہے جیسے حاجت من،عقل من،شتہ من،نیست من،گلہ من،میرمن،دشمن۔فارسی میں ’’مند‘‘ جیسے خردمند، آرزومند،آبرومند،بہرہ مند۔ چنانچہ ’’اس مان‘‘ کے معنی ہوئے بلندی والا۔ پشتو میں بلندی کو ’’اسک‘‘ کہا جاتا ہے اور آسمان کو بھی۔جو انگریزی میں ’’اسکائی‘‘ اور سنسکرت میں آکاش ہے۔

چنانچہ یہی دو حرفی ’’اس‘‘ گھوڑے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے گھوڑے کو علمائے طبعیات براعظم امریکا کا جانور کہتے ہیں اور بعد میں عربی گھوڑا بھی مشہور ہے۔لیکن بنیادی طور پر یہ اس پہاڑی سلسلے کی پیداوار ہے۔ جو دریائے برہم پترا یا برما سے شروع ہوکر ایران میں کوہ بابا پر ختم ہوجاتا ہے۔جس کی ایک شاخ خیبر پر سے مڑ کر جنوب میں بلوچستان سے شروع ہوکر کراچی کے قریب کیرتھر تک پہنچتا ہے اور جس کی ایک دنیا کی تین بڑی نسلوں میں سے ایک زرد نسل اور دوسری بڑی نسل سفید کا کیشی نسل ارتقاء پزیر ہوئی ہے۔

اس پہاڑی سلسلے کے بارے میں بھی بتا چکا ہوں کہ اس کا بنیادی نام’’کس‘‘ تھا۔جو فارسی میں کوہ۔قہہ۔قوا ہوگیا ہے پھر آگے چل کر قف،قاز اور قاف بھی ہوگیا۔اور ’’اس‘‘(گھوڑا) بھی اسی میں ارتقاء پذیر ہوا ہے جو نیم گائے اور نیم اسپ ہوتا ہے۔ یہ ’’اس‘‘ پہلی مرتبہ جو خانہ بدوش جانور پال لے کر آئے تھے وہ اسی کی نسبت سے’’اساک‘‘ تھے جنھیں پہلے آنے والے زرعی اور مدنی لوگوں نے ’’آریا‘‘ بنایا۔اور کچھ کو ’’ضحاک‘‘ کا افسانوی نام دیا ان اساکوں کے کئی گروپ مختلف شناختوں کے ساتھ ذکر ہوتے رہے ہیں۔

جیسے ’’مہا اساک‘‘(بڑے اساک) پارا دریا اساک،ہوما ورگااساک،تیرہ خول یعنی نوکدار ٹوپی والے اساک۔ اساک اور آریاؤں کو ایک کرنے والے آریائی برھمنوں مغوں اور مجوسوں نے۔دونوں کے مذہبی نوشتوں اور اوویستا اور رگ ویدکو بھی ایک ہی لوگوں کے نوشتے بنایا ہے حالانکہ دونوں نوشتے ہر ہر بات میں ایک دوسرے کے خلاف اور متضاد ہیں۔

اوویستا میں صاف صاف زرعی باتیں ہیں اور رگ وید میں جانور پالنے اور چرانے کے ’’اس‘‘ کو لے کر جب یہ خانہ بدوش اساک نکلے تو دنیا کے سارے خطے میں پھیل گئے۔آسیا(ایشیا) کے علاوہ یورپ میں بھی پہنچے چنانچہ آسٹریا، آسٹریلیا، اسکاٹ لینڈ اسپن میں بھی ’’اس‘‘ کا لاحقہ دیکھا جاسکتا ہے۔اور آسیا میں اکثر ممالک کے نام کا حصہ ’’استان‘‘ بھی یہی ’’اس‘‘ کا مظہر ہے۔استان یا اس تان۔ گھوڑوں کی جائے رہائش۔جو آستھان آستھانہ، آستانہ میں بھی ہے۔

گھوڑے رکھنے اور پالنے کے ’’استان‘‘ سے چل کر یہ لفظ ہندوستان، افغانستان،انگلستان، بلوچستان، تاجکستان، ازبکستان ۔مطلب کہ ’’اس‘‘کے ’’تان‘‘ انسانوں میں بھی مروج ہوگئے۔ لیکن ’’اس‘‘ یہاں ٹھہرا نہیں بلکہ آگے بھی چل کر زبانوں میں سفر کرتا رہا۔اس یا گھوڑوں کی جمگھٹ کو ’’اس تبیلہ‘‘ کہا جاتا ہے اس سے عربی میں تبل یا اصطبل ہوگیا ۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں