5

بھتہ خوری میں اضافہ: کراچی چیمبر میں ”رینجرز کمپلینٹ سیل“ دوبارہ فعال

  کراچی:کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ”رینجرز مانیٹرنگ اینڈ کمپلینٹ سیل“ کو دوبارہ فعال کردیا گیا۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار احمد شیخ نے اعلان کیا ہے کہ کراچی چیمبرمیں ”رینجرز مانیٹرنگ اینڈ کمپلینٹ سیل“ کو دوبارہ فعال کردیا گیا ہے جہاں دو رینجرز اہلکار ہر روز صبح 9 سے شام 5 بجے تک تاجر برادری کو امن و امان کے مسائل سے نمٹنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مجود ہونگے۔

انہوں نے الائنس آف آرام باغ مارکیٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین آصف گلفام کی قیادت میں آنے والے وفد سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز سیل کو دوبارہ فعال کرنا کے سی سی آئی کی قیادت کی بھرپور کوششوں سے ممکن ہوا جنہوں نے ڈی جی رینجرز، ایڈیشنل آئی جی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں و دیگر حکام کے ساتھ مسلسل بات چیت کرکے فوری اقدام اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر میں پہلے سے آپریشنل پولیس چیمبر رابطہ کمیٹی کے ساتھ رینجرز مانیٹرنگ سیل پریشان حال تاجروں و صنعتکاروں کو یقیناً کسی حد تک راحت فراہم کرے گا۔ جن تاجروں کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں تو وہ فوری طور پر مدد کے لیے رینجرز مانیٹرنگ سیل سے رجوع کریں جن کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

افتخار شیخ نے کہا کہ آج کل کاروبار کرنے کی مجموعی صورتحال بالکل بھی اچھی نہیں، کراچی چیمبر مشکل کی اس گھڑی میں تمام دکانداروں و صنعتکاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑا ہے اور ہم بھتہ مافیا کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی پوری سنجیدگی سے متعلقہ اداروں سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

آرام باغ مارکیٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین الائنس آصف گلفام صدر کے سی سی آئی سے گفتگو میں بتایا کہ دکاندار معاشی بحران کی وجہ سے پہلے ہی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن اب اسٹریٹ کرائمز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بھتہ مافیا بھی عام انتخابات سے قبل دوبارہ سر اٹھانے لگا ہے جو واقعی تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا اردو بازار، آرام باغ اور دیگر قریبی مارکیٹوں میں اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے مجرم آزادانہ لوٹ مار کرتے ہیں اور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔ محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے کراچی کی تمام مارکیٹوں میں پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات کیے جائیں تاکہ تاجر اور دکاندار بغیر کسی خوف کے اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں