1

تنازعات کو بھولیں ورلڈکپ کا سوچیں

پہلا میچ اب چند دن بعد ہونا ہے ہمارا اوپننگ پیئر ہی سیٹ نہیں (فوٹو: پی سی بی)

پہلا میچ اب چند دن بعد ہونا ہے ہمارا اوپننگ پیئر ہی سیٹ نہیں (فوٹو: پی سی بی)

’’ شاہینا بات سننا‘‘ پریکٹس کے لیے میدان میں داخل ہوتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی نے یہ سن کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سلیکٹر موجود تھے، ’’جی فرمایئے‘‘ انھوں نے جواب دیا، ’’دراصل ہم آپ کو ورلڈکپ کیلیے نائب کپتان مقرر کرنے کا سوچ رہے ہیں، کیا خیال ہے‘‘۔

سلیکٹر کی یہ بات سن کر شاہین زیرلب مسکرائے اور پھر کہا ’’میں اس کا جواب پریکٹس کے بعد دیتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر وہ نیٹ پریکٹس کرنے چلے گئے، پھر انھوں نے بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کی مشقیں کیں،خوب پسینہ بہایا،اس دوران ان کے ذہن میں یہ پیشکش گردش کرتی رہی، جب وہ واپس ڈریسنگ روم جانے لگے تو سلیکٹر کو اپنا منتظر پایا جنھوں نے انھیں دیکھ کر پوچھا ’’کیا سوچا پھر‘‘ شاہین نے یہ سن کر فوری طور پر جواب دیا ’’ آفر کا شکریہ مگر میں فی الوقت تمام تر توجہ اپنی بولنگ پر دینا چاہتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے۔

یہ وہ واقعہ ہے جو چند روز قبل میڈیا پر چھایا رہا، ’’ شاہین آفریدی نے نائب کپتان بننے سے انکار کر دیا‘‘ ایسی ہیڈلائنز چلیں تو پی سی بی کی انا کو ٹھیس پہنچی، پہلے ’’قریبی ذرائع‘‘ کہہ کر تردید چلائی گئی پھر رات گئے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا گیا کہ ’’نائب کپتان بنانا ہی نہیں تو کسی کو آفر کیوں کریں گے‘‘ اردو میں ٹویٹ کا مطلب اسے صرف پاکستانی شائقین تک محدود رکھنا تھا لیکن آج تک کے زمانے میں کوئی ملیالم میں بھی کچھ لکھ دے وہ بات فورا ترجمہ ہو جاتی ہے۔

شاہین کو جب اس تردید کا علم ہوا تو ظاہر سی بات ہے سخت غصہ آیا لیکن بڑوں کے سمجھانے پر کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا اور چپ کر کے بیٹھ گئے، اس سے قبل قیادت سے ہٹانے پر بھی پریس ریلیز میں خود سے منسوب فرضی جملوں پر وہ سخت ناراض ہوئے تھے،اب بات یہ سوچنے کی ہے کہ ورلڈکپ سے قبل کیا ایسے تنازعات کی کوئی ضرورت ہے؟ دیگر 19ٹیمیں میگا ایونٹ کی تیاریاں کر رہی ہیں اور ہم نائب کپتان کی بحث میں پڑے ہیں، شاہین نے خود تو میڈیا میں آ کر نہیں کہا کہ انھیں پیشکش ہوئی ہے یہ تو صحافیوں نے اپنے ذرائع سے خبر دی جو غلط بھی نہیں تھی۔

پی سی بی کو تردید کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟ اگر شاہین بھی ٹویٹ کر دیتے کہ آفر تو ہوئی تھی تو کیا ہوتا؟ میری یہی درخواست ہے کہ ورلڈکپ کے دنوں میں اپنے سب سے اہم بولر کو ذہنی طور پر پریشان نہ کریں، اسے کھیل پر توجہ دینے دیں تاکہ پاکستان کو فتح دلائے، اگر آپ حقیقت پوچھیں تو اس وقت ٹیم میں کئی مسائل ہیں لیکن یہ وقت اختلافات کی بات کرنے کا نہیں ہے، ابھی ہم سب کو کھلاڑیوں کو مکمل سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ وہ یکسوئی سے پرفارم کر کے مقصد حاصل کر سکیں۔

اگر نائب کپتان کا تقرر کرنا تھا تو پہلے ہی کر دیتے، ایک ایسا پلیئر جسے آپ نے حال میں ہی صرف ایک سیریز کی بنیاد پر قیادت سے ہٹایا اب اس سے کیسے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ کسی کا نائب بننے پر آمادہ ہو جائے گا؟ ابھی تو شاداب خان آؤٹ آف فارم ہیں ورنہ کپتانی کے ایک اور امیدوار موجود ہوتے،عماد وسیم کو سیٹ ہونے دیں وہ بھی یہ خواب دیکھنے لگیں گے۔

ویسے اس وقت اس ذمہ داری کیلیے محمد رضوان آئیڈیل ہیں، کچھ عرصے قبل انھیں نائب کپتان بنانے کا فیصلہ بھی ہو گیا تھا لیکن پھر خاموشی چھا گئی، جب ٹیم مینجمنٹ میں بہت زیادہ لوگ موجود ہوں تو مسائل ہوتے ہی ہیں، وہاب ریاض کو ہر دورے پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،چیئرمین محسن نقوی پی سی بی کے معاملات بہتر بنانے کیلیے بہت محنت کر رہے ہیں، انھوں نے کئی اہم اقدامات بھی کیے جس کا بورڈ کو فائدہ ہوگا،البتہ انھیں اپنی ٹیم اچھی بنانے کی ضرورت ہے۔

ملک میں کئی بڑے دماغ موجود ہیں، ایسے سابق کرکٹرز سے مشاورت کریں گے تو کرکٹ کے حوالے سے بھی بہتری آئے گی،بورڈ کا کوئی بھی چیئرمین چاہے کتنے بڑے پروجیکٹ مکمل کر لے، گراؤنڈز بنا لے، ٹورنامنٹس کرا لے، عوام کی نظروں میں اس کی کارکردگی جانچنے کا واحد پیمانہ قومی ٹیم کی کارکردگی ہوتی ہے جو بدقسمتی سے ان دنوں اچھی نہیں ہے، ہمیں نیوزی لینڈ کی بی ٹیم نے گھر پر 2 میچز ہرا دیے، پھر ہم آئرلینڈ جیسی چھوٹی ٹیم سے بھی پہلا ٹی 20ہار گئے، اب انگلینڈ کیخلاف بھی ایک شکست ہو چکی، البتہ ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی ان سب ناکامیوں کا داغ مٹا سکتی ہے، صرف بھارت کو ہی ہرا دیں پھر سب معاف ہے، یہ ٹیم پاکستان کی ہے۔

اچھی پرفارمنس سے ملک کا ہی نام روشن ہو گا، پلیئرز کو بھی گروپنگ وغیرہ سے باز رہ کر کھیل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، ورلڈکپ میں اچھے نتائج ان کے کیریئر بنا دیں گے، عزت بھی ملے گی ڈالرز بھی آئیں گے،پلاٹس بھی ملیں گے، اچھی باتیں سوچیں، اگر کسی کو ساتھی کی شکل پسند نہیں تو کوئی بات نہیں فیلڈ میں سب بھول کر ٹیم ورک پر توجہ دیں تاکہ مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔

پی سی بی کو بھی چاہیے کہ تنازعات کو ہوا نہ دے، ہر بات پر ردعمل دینا مناسب نہیں، میڈیا پر پر روز خبریں چلتی ہیں، چند گھنٹوں یا ایک دن بعد لوگ انھیں بھول کر کسی اور بات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، خاموش رہنا ہی کنٹروورسی کو ختم کرنے کا سب سے آسان حل ہے، کرکٹنگ مسائل کو حل کریں۔

پہلا میچ اب چند دن بعد ہونا ہے ہمارا اوپننگ پیئر ہی سیٹ نہیں، بابر اعظم کے پارٹنر صائم ایوب مسلسل ناکامیوں کا شکار ہیں، درمیانی اوورز میں رن ریٹ کم ہو جاتا ہے، مین اسپنر شاداب خان کی فارم اچھی نہیں، اگر ہم کاغذ پر دیکھیں تو اسکواڈ بہتر نظر آتا ہے لیکن کمبی نیشن نہیں بن پا رہا،اس کے لیے ٹیم مینجمنٹ کو کوشش کرنا ہوگی، اب تو ہیڈ کوچ گیری کرسٹن بھی ساتھ ہیں، بیٹنگ میں انگلینڈ کیخلاف فخرزمان نے جو انٹینٹ دکھایا کاش دیگر بھی اس طرح کھیلنے لگیں تو ٹیم بڑے اسکور بنانے لگے گی، اور ہاں نسیم شاہ کو کیوں نہیں کھلا رہے۔

ان کو ورلڈکپ سے قبل میچ پریکٹس کا موقع دینا ضروری ہے، ٹیم اگر یکجا ہو گئی تو ورلڈکپ میں مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں، اگر کپتانی یا دوستی یاری میں لگے رہے تو پھر کوئی نہیں پوچھے گا، اب آئندہ ماہ وکٹری پریڈ کا موقع پانے کی کوشش کرنا ہے یا پھر مداحوں سے چھپتے پھرنا ہے، آپشن کھلاڑیوں کے ہی پاس ہے، امید ہے وہ سب کچھ بھول کر ورلڈکپ جیتنے کیلیے جان لڑا دیں گے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں