1

روح پرور نعتیہ مشاعرہ – ایکسپریس اردو

گزشتہ ہفتہ دارالحکومت کی اوّلین نعتیہ ادبی تنظیم محفلِ نعت پاکستان، اسلام آباد نے اپنے 63 ویں سال کے آغاز پر حسبِ روایت ایک فقیدالمثال اور یادگار سالانہ ردیفی نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا۔

اس مرتبہ سالانہ مشاعرے کے لیے ’’تصور‘‘ کی ردیف کا اعلان کیا گیا تھا۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے علاوہ کامرہ، اٹک، واہ کینٹ، تونسہ شریف، گوجرانوالہ، ٹیکسلا سے بڑی تعداد میں نعت گو شعراء نے ردیفی نعت نذرانوں کے ساتھ مشاعرے میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ علاوہ ازیں امریکا، کراچی، سکھر،کامونکے، حاصل پور اور میانوالی سے بھی شعراء اپنے ردیفی نعتیہ کلام بھیج کر اس محفل میں شریک ہوئے۔

اس محفل کی صدارت محفلِ نعت پاکستان، اسلام آباد کے صدر سید ابرار حسین نے کی جب کہ ممتاز نعت گو شاعر نسیمِ سحر مہمانِ خصوصی اور تونسہ شریف سے تشریف لائے ہوئے معروف نعت گو سید طاہر اس موقع پر مہمانِ اعزاز تھے۔ گوجرانوالہ سے ممتاز نعت گو قاری غلام زبیر نازش نے بھی خاص طور سے محفل مشاعرہ میں شرکت کی۔ کئی گھنٹوں پر محیط اس نعتیہ محفلِ مشاعرہ میں سامعین کی بھی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ نمازِ ظہر کے مختصر وقفہ کے ساتھ یہ شاندار محفل تقریباً 3 بجے ختم ہوئی۔

میزبانِ محفل سید محمد حسن زیدی کی جانب سے اس موقعے پر تمام شرکاء کے لیے دعوت ظہرانہ کا بندوبست کیا گیا تھا۔ محفلِ نعت کے جوائنٹ سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین احمد صدیقی نے محفل کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ تنظیم کے سیکریٹری عرش ہاشمی نے سالِ گزشتہ کے دوران محفلِ نعت کے زیرِ اہتمام نئے علاقوں میں منعقد ہونے والے ماہانہ مشاعروں اور بالخصوص اس دوران نئے شامل ہونے والے میزبانوں کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں۔

سالانہ ردیفی نعتیہ محفلِ مشاعرہ میں جن مقتدر نعت گو شعرائے کرام نے شرکت کی، ان میں صدرِ مشاعرہ سید ابرار حسین، مہمانِ خصوصی نسیمِ سحر، مہمانِ اعزاز سید طاہر، قاری غلام زبیر نازش، شاہ محمد سبطین شاہجہانی، شرف الدین شامی، قیوم طاہر، عبد القادر تاباں، عرش ہاشمی، پروفیسر رفیع الدین صدیقی، سید محمد حسن زیدی، میاں تنویر قادری، پروفیسر عرفان جمیل، ڈاکٹر کاشف عرفان، حافظ عبدالغفار واجد، محمد آصف قادری، حافظ نور احمد قادری، نصرت یاب نصرت، ڈاکٹر مظہر عباس رضوی، ڈاکٹر عزیز فیصل، ناظم شاہجہانپوری، احمد محمودالزماں، شہاب ظفر، عبدالرشید چوہدری، خلیل الرحمن خلیل، محمد منیر قاسم، قاری بزرگ شاہ الازہری اور مرزا ساجد بیگ شامل تھے۔

سالانہ محفل مشاعرہ کے لیے جن شعراء اور شاعرات نے امریکا اور پاکستان کے مختلف شہروں سے اپنا ردیفی نعتیہ کلام ارسال کیا، ان میں امریکا سے تنویر پھول اور محترمہ نورین طلعت عروبہ، کراچی سے قمر وارثی، شارق رشید، سحر وارثی، سکھر سے ڈاکٹر انیس الرحمن خان، کامونکے سے علامہ ثاقب علوی، حاصل پور سے ابراہیم حسان، اسلام آباد سے محترمہ سبین یونس، محترمہ رابعہ بتول، سیدہ زینب سروری اور فرید احمد چوہدری شامل تھے۔

’’ تصور‘‘ کی ردیف میں جو نعتیں اس محفل میں پیش کی گئیں ان میں سے چند منتخب اشعار پیش ہیں۔

صدرِ مشاعرہ… سید ابرار حسین

تاریخ کے ادوار میں تھا سب سے جو بہتر

پھر سے وہ زمانہ مجھے دکھلائے تصور

نسیمِ سحر (مہمانِ خصوصی)

موضوع سبھی ثانوی لگنے لگے مجھ کو

بس نعت ہی رہنے لگی ترجیحِ تصور!

سید طاہر (مہمانِ اعزاز) :

میں بے دید کب تک مدینے کی گلیوں کوخوابوں خیالوں میں دیکھا کروں گا

مرے آقا کب تک مجھے دید ہو گی، اُٹھے گا بھلا کب حجابِ تصور؟

قمر وارثی:

میں قدمینِ آقا میں بیٹھا ہوا ہوں

ہے کیا خوب یہ روح پرور تصور

شارق رشید:

اے کاش وہ رُخ دیکھے مری چشمِ تصور

آباد رہے جس سے سد ا بزمِ تصور

علامہ ثاقب علوی:

اُس ذات کی تمدیح کہاں مجھ سے ہے ممکن

کیا میرا شعور، آگہی، ادراک، تصور

ڈاکٹر انیس الرحمن خان:

وہ چہرہ والضحیٰ تصور، وہ زلفوں کا عنبریں تصور

بسا ہوا ہے دل و نظر میں بس آپ ہی کا حسیں تصور

شاہ محمد سبطین شاہجہانی:

کیوں کر نہ ہوں خوش رنگِ جہاں اُس کے شب و روز

جس کو بھی ملا نور ترا، تیرا تصور!

شرف الدین شامی:

جب وقتِ ثنا قدس کا در آئے تصور

ہو جاتے ہیں خوں رنگ پھر اقصائے تصور

قاری غلام زبیر نازش:

خوشا مقدر کہ جس کو نسبت ہوئی ہے نعلینِ مصطفے ﷺ سے

اُسی کے ماتھے پہ شان و عظمت کا تاج بن کر سجا تصور

قیوم طاہر:

رضوانِ بقیع آخری منزل مری طاہر

پھر حشرکا کچھ خوف، نہ عقبی کا تصور

عرش ہاشمی:

شانِ شہِ کونینﷺ بھلا ہم سے بیاں ہو؟

ہو رفعتِ سرور ﷺ کا بھلا ہم سے تصور؟

عبد القادر تاباں:

دیے یاد کے جل اُٹھے دل میں تاباں

چلی رات ایسی ہوائے تصور

سید محمد حسن زیدی:

جھکا کر جو سر بادشہ آ رہے ہیں

ہے اِس شان کا حاضری کا تصور

ڈاکٹر رفیع الدین صدیقی:

(حمد)

یہ بارش، یہ پانی، یہ کھیتی، یہ فصلیں، یہ پھل، پھول، پودے، یہ سبزہ، یہ گلشن

اُسی ایک رب کا یہ سب کارخانہ، زمیں، آسماں، یہ تقوم، تصور !

(نعت)

ترفع مسلسل ہے ذکرِ نبیﷺ کو اذان و نماز و درود و تلاوت

عطائے خدائے جلیل و کریم و مجیدالولی، لا تعین، تصور !

میاں تنویر قادری:

درِ دل پہ اُن ﷺ کی یادوں کے بٹھا دیے ہیں پہرے

درِ دل میں در نہ آئے درِ غیرکا تصور

ڈاکٹر کاشف عرفان:

ہم اہلِ دل لفظ کے وسیلے سے، کوئے رحمت کے ہیں مسافر

جہاں جہاں بھی ہے اُنﷺ کی محفل، حضور کا ہے وہاں تصور





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں