1

زباں فہمی نمبر 210؛ روپیہ، روپیا، روپے،رُپیا، رُپے اور دیگر مباحث

  کراچی:کیا آپ نے کبھی ”رُوپ مُکھی“ (یا رُوپا مُکھی)کا نام سُنا ہے؟ یقینا آپ کی اکثریت نے کبھی سُنا پڑھا نہ ہوگا۔ پھر دوسرا سوال ”کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ روپیے یا روپے کو یہ نام کیوں دیا گیا“؟ اس بابت ابھی تک کوئی مبسوط تحریر نظر سے نہیں گزری، ہاں البتہ کہیں کہیں مختصر شذرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

رُوپ مُکھی سے مراد ہے چاندی کی کان سے نکلنے والی وہ بھاری، سفید، مگر مائل بہ سیاہی، چمک داراور گمنام معدن [Mineral] یا پتھرجو طبی اعتبار سے آنکھوں کے امراض کے علاج میں سُرمے کے ہمراہ استعمال کی جاتی ہے۔اطِباء کے نزدیک اس کا مزاج سردوخُشک (یا بہ اختلاف گر م وخشک) اور ذائقہ پھیکا ہوتا ہے۔

بتایا گیا کہ ’رُوپ مُکھی‘ زہریلا ہوتا ہے، نیز ایک ٹوٹکہ یہ درج کیا گیا کہ بچے کی گردن میں،رُوپ مُکھی لٹکانے سے خوف دُور ہوتا ہے۔حُکَماء کے بیان کی رُوسے، اس کا سرمہ آنکھوں کی پیِپ دفع کرتا ہے اور”ہڑتال“(ہٹ تال /سنکھیا یا زَربیخ:Arsenic) کے ہمراہ اس پتھر کو پیس کر لگانے سے جسم کا خراب گوشت کٹتا ہے اور عمدہ گوشت پیدا ہوجاتا ہے۔ مزید برآں، رُوپ مُکھی برص اور منہ کی جھائیوں کے داغ دُورکرنے کے کام آتاہے۔

(جدید ہندی میں لفظ رُوپا سے مراد ہے: چاندی کا۔ یا۔سفید;بحوالہ ہندی اردو لغت از راجاراجیسور رَاؤ اصغرؔ،مقدمہ قدرت نقوی، مطبوعہ انجمن ترقی اردوپاکستان)۔

(اردو جامع انسائیکلو پیڈیا ودیگر مآخذ میں منقول، ترکیب رُوپا مُکھی ہے،یعنی چاندی کا۔آنلائن دستیاب موادبشمول ریختہ ڈکشنری کے بیان کے مطابق، یہ پتھر ’بے چمک‘ ہوتا ہے اور اِ س کا دوسرا نام ’تارا مُکھی‘ ہے)۔

مستند لغات میں لفظ رُوپ کا باب بہت معلوماتی ہے۔ نوراللغات و فرہنگ آصفیہ کے اندراج کے مطابق خالص ہندوؤانہ بولی میں چاندی کے کُشتے کو ’رُوپ رَس‘ کہاجاتا ہے۔ ہندوؤں کے یہاں منگنی یا منگنی کے نشان (شاید انگوٹھی) کو ’رُوپنا‘ کہتے ہیں۔آگے بڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رُوپا،چاندی کے علاوہ چھچھوندر کو بھی کہتے ہیں (یا کہتے ہوں گے)۔

رُوپے کو تحقیر اً ’رُوپَلّی“ کہاجاتا تھا جیسے ع ارے تُو جان ؔ صاحب! بِک گیا کیا نَور ُوپلّی پر۔جان ؔ صاحب ریختی کے مشہور شاعر تھے۔اسی ضمن میں لفظ روپہلا (صفت:واؤ غیرملفوظ) موجودہے یعنی چاندی کے رنگ کا جیسے روپہلا مُوباف (سر پرباندھاجانے والا رُومال جیسا کپڑا)۔اس سے لفظ روپہلی بھی بنالیا گیا۔

یہ بظاہر غیر متعلق معلومات اس لیے متعلق ہیں کہ لفظ روپیہ یا روپیا یونہی معرض ِ وجودمیں نہیں آیا، بلکہ جب پہلے پہل چاندی کا سکّہ ڈھا ل کر اِس کا یہ نام رکھا گیا تو اُس کا تعلق براہ ِ راست رُوپ (وہ بھی چاندی کے رُوپ) سے تھا۔ مزید کُرید کی جائے تومعلوم ہوتاہے کہ لفظ رُوپیہ یا روپیا سنسکِرِت سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’کُٹی ہوئی(یا پٹواں) چاندی‘ [Wrought silver]اور اس لفظ کا استعمال اسی زبان کے پہلے ماہر ِقواعد پانی نیPanini] [نے کیا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کم وبیش چار پانچ سو سال پہلے ہوگزرا ہے۔

چاندی کا پہلا رُوپیہ،دستیاب معلومات کے مطابق، ہندوستان کے عظیم وقدیم موریہ خاندان کی سلطنت میں جاری ہوا تھا جس کا عکس انٹرنیٹ پر دیکھاجاسکتاہے۔اسی حکمراں خاندان کے بانی،چندرگُپت موریہ کے وزیراعظم چانکیہ کی مشہور ِ زمانہ کتاب ’اَرتھ شاستر‘ میں ایسے نُقرئی سکّوں کا ذکر ملتا ہے جنھیں رُوپیا رُوپا(Rupyarupa)کہاجاتاتھا۔یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کم وبیش تین سو سال قبل کی بات ہے۔اس لفظ کی اصل پر غورکریں تو یہ ’حسبِ ضرورت‘ ڈھالی گئی چاندی کا ایک رُوپ ہے۔

مسلم عہد اقتدارمیں روپیہ کب رائج ہوا؟

کہا جاتاہے کہ مغل بادشاہ ہمایوں سے اقتدارچھِیننے والے (اور فقط پانچ سال،1540 تا 1545 مثالی حکومت کرنے والے)عظیم سپہ سالا ر سلطان شیرشاہ سُوری(متوفیٰ: 22مئی1545ء) نے چاندی کا پہلا رُوپیہ جاری کیا تھا۔ اس کا وزن تقریباً 11534.2 ملی گرام تھا۔

اثنائے تحقیق معلوم ہوا کہ بقول ڈاکٹر نوشاد منظرصاحب ”شیرشاہ سوری نے سونے، چاندی اور تانبے کے سکے بنائے۔ 167 گرام سونے کے سکّوں کو اَشرفی کہا جاتا تھا اور چاندی کا سکّہ 175 گرام کا ہوتا تھا اسے روپیہ کہا جاتا تھا۔

یہی نہیں 322 گرام کے تانبے کے سکے بھی اسی زمانے میں شروع ہوئے جنھیں دام کہا جاتا تھا۔ شیر شاہ کے زمانے میں ایک روپیہ 64 دام کے برابر ہوتا تھا“۔کہاجاتا ہے کہ سلطان ریاضی میں ماہر اور معاشی معاملات کی مہارت کے سبب ’پیسے کے باپ‘ کے لقب سے جانے جاتے تھے۔یہ حیرت انگیز انکشاف بھی سامنے آیا کہ سلطان کے حریف، مغل بادشاہ انھیں ’بادشاہوں کا استاد‘ کہتے تھے۔(بحوالہ ”شیرشاہ سوری: ریاضی کے ماہر بادشاہ جن کی پانچ سالہ حکومت، پانچ صدیوں بعد بھی اَچھی حکمرانی کا معیار ہے“ از وَقارمصطفی، موشوعہ آنلائن بی بی سی اردو پاکستان مؤرخہ 22 مئی 2022ء)۔

اردو میں لفظ روپیہ (یا جدید اِملاء کے مطابق روپیا) میں شامل حرف ’و‘ پڑھا نہیں جاتا،یعنی کھینچ کر ”رُو۔پی۔یا“ نہیں بلکہ رُپیہ بولاجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکیم محمد سعید جیسے بعض اہل ِ زبان اسے صوتی اِملاء کے مطابق لکھنے پر اصرارکرتے تھے۔لغت کی رُ وسے رُوپَیا یا رُوپَیہ کا مطلب ہے رُوپے کا بنا ہوا، سولہ آنے کا سکّہ، گیارہ ماشے دو رَتّی چاندی کا سکّہ۔(یہ قدیم اوزان اب مستعمل نہیں، مگر انھیں سمجھنے کے لیے کتابی اور آنلائن معلومات مل جاتی ہیں)۔فرہنگ آصفیہ میں اس تعریف کے ساتھ استعمال کی مثال اس شعر کے ذریعے یوں نقل کی گئی:

لے کے دل کو چار بوسوں پر دیا اِک یار نے
ہم نے یہ سمجھا، روپے کے ہاتھ چار آنے لگے

آتش لکھنوی کا یہ شعر ہرلحاظ سے منفرد ہے۔اب ہمارے شعراء میں زباں دانی کی ایسی مثال کون قائم کرسکتا ہے؟

اب رہی یہ بات کہ روپیہ تو ٹھیک ہے، روپے کیوں؟ سیدھا سا جواب ہے کہ روپیہ کی جمع روپے ہے اور جب گفتگو میں یا تحریرمیں واحد کااستعمال بھی حسبِ ضرورت امالہ لگاکرکیا جاتا ہے تو روپے لایا جاتا ہے جیسے آج کل روپے کی قدر گِرگئی ہے یا روپے کی ڈالر کے مقابلے میں کوئی قدرنہیں۔

یہاں زبردستی روپیہ نہیں لکھا۔ یا۔کہاجائے گا۔البتہ ایک باریک سا نکتہ غیر اہل زبان کو سمجھانے کے لیے عرض کرنا ضروری ہے کہ بعض اوقات کوئی بھی واحد لفظ بطور جمع بھی بولاجاتا ہے جیسے ’تمھارے پاس اتنا روپیہ کہاں سے آیا؟‘۔
یہ روپیہ چاندی سے ہٹ کر کاغذ تک کیسے پہنچ گیا؟

تاریخی تناظر میں یہ سوال بہت اہم ہے۔فرنگیوں نے ہندوستان پر قبضے جمانے کے فوری بعد یہاں اپنی مرضی کی معیشت تشکیل دینی شروع کی تو ایسے میں ’بینک آف ہندوستان‘ (1770ء تا 1832ء) اور ایسے ہی دیگر اِداروں کے ذریعے کاغذی کرنسی رائج کی۔اُنیسویں صدی تک روپے کا معیار چاندی رہا، پھر اِسے سونے کے برابر لایا گیا۔تقسیم ہند اور آزادی کے بعد، روپیہ سولہ آنے اور بصورت ِ دیگر چارپیسے فی آنہ کے اوزان میں رائج کیا گیا جو مابعد مختلف ادوارمیں تبدیل ہوتے ہوتے آج پاکستان میں بغیر کسی بنیادی اکائی کے براہ راست مستعمل ہے، کیونکہ پہلے پائی ختم کی گئی اور پھر پیسے۔ ہمارا روپیہ چاندی یا سونے سے ہرگز منسلک نہیں، باقی تفصیل ماہرین معیشت بتاسکتے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ بھارت، ماریشس(Mauritius)، نیپال اور سے شیلز (Seychelles) کی کرنسی روپیہ(Rupee) کہلاتی ہے۔نیپا ل میں نیپالی اور انڈین روپے دونوں چلتے ہیں۔انڈونیشیا میں اسے رُوپیا (rupiah) کہتے ہیں یعنی انگریزی میں تبدیل کیے بغیر، جبکہ یہی روپیہ، مالدیپ میں تلفظ کے فرق سے ’رُوفیا‘ (rufiyaa) کہلاتا ہے۔سری لنکا میں Sri Lankan rupeeہے۔ماضی میں افغانستان، بحرین، کویت، عُمان، متحدہ عرب امارات(as the Gulf rupee)، برٹش ایسٹ افریقہ،برما،جرمن ایسٹ افریقہ(as Rupie/Rupien) اور تبت میں بھی روپیہ رائج تھا۔تلفظ کے اختلاف سے اسے رُپیہ اور رُپیا نیز رُپے لکھاجاتا رہا ہے۔

پاکستان کے کرنسی نوٹوں کی عبارت پر اعتراضات

گزشتہ کوئی دس بارہ دن سے ایک ہی منقولہ تحریر نے تمام واٹس ایپ حلقوں میں اراکین کو چونکانے کا کام بخوبی انجام دیا ہے۔ لکھنے والے نے ایک مرتبہ لکھ دیا اور ہماری ’نقل وچسپاں‘ [Copy and paste] کی عادی قوم پر واجب ہوگیا کہ اُسے روزانہ نقل درنقل بلا استعمال عقل کرتی رہے اور دیکھے کہ کیسے داد کے ڈونگرے برستے ہیں۔

کہا گیا کہ پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر لکھی جانے والی عبار ت میں کئی قسم کی اغلاط ہیں اور کسی ’فاضل‘ نے ازراہِ عنایت اس جانب حکومت ِ وقت کی توجہ مبذول کرانے کے لیے محتسب کے ادارے سے رجوع کیا ہے جنھوں نے فوراً اُن کی معروضات تسلیم کرتے ہوئے اس بارے میں اسٹیٹ بینک کو احکام جاری کردیے ہیں۔

اس معاملے میں علمی بحث چھِڑی تو خاکسار کے علاوہ بزم زبا ں فہمی کے معزز رُکن جناب عابدعلی اشعر، محترمہ آمنہ عالم اور ڈاکٹر رخسانہ صبا صاحبہ،بزم تحقیق برریختہ کے فاضل رکن (اور بزم زباں فہمی کے سابق رکن) جناب س م عثمان اور (ہمارے لیے نامانوس)چودھری طاہر عبیدصاحب نے اپنے اپنے طور پر دلائل دیے یا دلائل کی تائید کی۔

ا)۔معترض کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ ہمارے کرنسی نوٹ پر لفظ ’بنک‘ لکھا ہواہے، جسے بینک[Bank] ہونا چاہیے۔اس کی بابت خاکسارنے عرض کیا کہ یہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے زمانے سے رائج ہے، مگر غلط ہے۔ چودھری طاہر عبید صاحب کا مؤقف میری رائے اور احباب کی تائید سے قدرے مختلف یہ ہے کہ بنک غلط العام ہے۔

میں تو یہ کہتا ہوں کہ جناب قدیم املاء کے حساب سے ایم اے کو ’ام اے‘ اور سینٹر کو ’سنٹر‘ لکھنا بھی غلط ہے۔ ہمارے بزرگ معاصر محترم عابد علی اشعر صاحب نے اس ضمن میں انگریزی الفاظ کی اصوات پر روشنی ڈالتے ہوئے میری تائید کی۔ یہاں ایران اور افغانستان کی مثال پیش نظر رکھنی چاہیے جنھوں نے اپنی زبان فارسی جدید اور فارسی قدیم (دَری) میں بینک کو ”بانک“ لکھا ہے اور مدتوں سے لکھتے چلے آرہے ہیں۔

ب)۔یہ اعتراض کہ”روپیہ واحد ہے اور جمع کے لیے روپے لکھنا چاہیے، مثلاً ایک روپیہ، پانچ روپے، دس روپے، پچاس روپے، سَو روپے“

علیٰ ہٰذا القیاس، تفصیلی جواب کا مقتضی ہے۔ اصول یہ ہے کہ تحریر وتقریردونوں میں جب امالہ آئے گا تو پانچ روپیہ نہیں، پانچ روپے ہی استعمال ہوگا۔ بعض کا خیال ہے کہ امالہ لکھے بغیر بھی پڑھا جاسکتا ہے، جیسا کہ متعدد قدیم کتب وجرائد میں ہوتا رہا کہ امالہ کی پابندی کیے بغیر ہی ہر طرح کے الفاظ لکھے گئے،مگر راقم اس سے اختلاف کرتا ہے۔ دوسری بات کرنسی نوٹ کے حوالے سے سمجھنے کی یہ ہے کہ دنیا بھر میں کوئی ایک طریقہ متفقہ نہیں ہے۔

ایران، افغانستان اورتُرکیہ کے کرنسی نوٹوں پر کرنسی کا نام صیغہ واحد ہی میں درج ہے، جبکہ ہندوستان میں انگریز کے دورمیں ’روپیہ‘ لکھا جاتا تھا(جو ہمارے یہاں اب تک رائج ہے)، اور اَب ’روپیے‘۔اس بابت نئے سرے سے گفت وشُنِید کی جاسکتی ہے کہ کرنسی نوٹ پر ایک روپیہ، پانچ روپے، دس روپے وغیرہ لکھنا چاہیے یا سب کے لیے وہی ایک لفظ روپیہ کافی ہے۔

ج)۔یہ اعتراض کیا گیا کہ عبارت ”حاملِ ہٰذا کو مطالبہ (مطالبے) پر اَدا کرے گا“ میں ترمیم لاز م ہے، ورنہ یہ مفہوم کے لحاظ سے مبہم رہے گا۔یہاں اضافتِ نسبتی موجودہے اور بات واضح ہے کہ ہٰذا یعنی اس (کرنسی نوٹ) والا۔کسی نے کہا کہ ”حاملِ نوٹ ہذا“ کردیں تو یہ بات قطعاً صحیح نہیں۔دو عربی الفاظ کے بیچ ایک انگریزی لفظ لاکر کیسے کوئی ترکیب بنائی جاسکتی ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ ”انگریزی زبان کا لفظ ہے جسے نہ مضاف نہ مضاف الیہ بنا کر اضافت لائی جاسکتی ہے“۔

د)۔ الفاظ ملا کر لکھنا جیسے ”اَدا کرے گا“ میں ’کریگا‘ غلط ہے۔اس کی اصلاح ضروری ہے۔یہ سہوِ کاتب ہے جسے رائج ومروج کے اصول کے تحت اپنالیا گیا، مگر غلط ہے۔

ہ)۔”حکومتِ پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا“ اس عبارت میں کوئی سقم نہیں!
مختصر شذراتِ زباں فہمی

Mom/Mama/Mummy نہیں، امّی، امّاں، والدہ کہیں!
Kitchen کو اُردومیں باورچی خانہ کہتے ہیں
Bathroom نہیں غُسل خانہ کہیے
Washroom کو اردو میں بیت الخلاء اور پاخانہ (نیز پیخانہ) کہتے ہیں
Table کواردو میں میز کہتے ہیں
Chair کو اردو میں کُرسی کہتے ہیں





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں