7

زندگی، سو سالہ انسانوں کی نظر میں

بڑھاپا مرد یا خاتون کو کئی مسائل سے دوچار کر تا ہے…چلنے پھرنے اور اپنے کام کرنے میں دشواری، یادداشت میں کمی آ جانا، تنہائی، دوسروں کا محتاج ہو نا، مالی رکاوٹیں، نت نئی بیماریوں کی یلغار اور بہت سے دیگر چھوٹے موٹے مسائل۔ یہ مگر تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ انسان ایک سو سال کا ہو کر بھی خوشی ومسّرت سے بھرپور زندگی گذار سکتا ہے۔ کئی سو سالہ مردوخواتین کی زندگیاں اس ضمن میں ہمارے سامنے مثال پیش کرتی ہیں۔

انسانی زندگی کی بنیاد دراصل وقت ہے…اور جس انسان کو زندہ رہنے، قہقہہ لگانے اور پیار کرنے کے لیے وقت مل جائے تو سمجھیے کہ اس کی زندگی رائگاں نہیں گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ سو سال کی عمر پانے والے بیشتر لوگ بھرپور زندگی گذارتے اور آخری سانس تک زندگانی کے اپنے لمحات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بڑھاپا بھی ان کے جوش وجذبے، اُمنگ و ترنگ اور زندگی کو پھرپور طریقے سے بسر کرنے کی تمنا ماند نہیں کر پاتا۔

اب تو طبی سائنس میں ترقی کی وجہ سے دنیا بھر میں ایسے انسانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو سو سال تک زندہ رہنے کا اعزاز پا لیتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس جنم لیتے عمل کو ’’طوالت عمر انقلاب ‘‘کا نام دیا ہے۔ خیال ہے کہ 2050ء تک دنیا میں سینتیس لاکھ ایسے مرد و خواتین موجود ہوں گے جن کی عمر سال یا زائد ہو گی۔ یہ موجود تعداد سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمر کے ’’بونس‘‘سال پا کر انسان ان سے بھرپور فوائد کیونکر پا سکتا ہے؟ اس ضمن میں سو سالہ انسانوں کے تجربات، مشاہدات اور اسباق سے ہمیں مستفید ہونا اور نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔

اپنے سے بڑی طاقت پر ایمان

وینزویلا کے جوآن ویسنٹ مورا کو لیجیے جو حال ہی میں اپریل 2024 ء تک دنیا کا معمر ترین انسان تھا۔ اسی ماہ وہ چل بسا۔ پچھلے سال ایک صحافی نے مورا سے دلچسپ سوال کیا تھا: ’’آپ اتنے برسوں تک کیوں زندہ رہے ہیں؟‘‘

مورا نے فورا جواب دیا :’’تاکہ میں اپنے خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کر سکوں اور اس کی عبادت کرتا رہوں۔ خدا ہمیشہ میرے دل میں بستا ہے۔‘‘ مورا باقاعدگی سے عبادت کرنے والا کیتھولک تھا۔ اس کا کہنا تھا:’’میرے نزدیک خدا سے محبت اور خاندان سے پیار دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔‘‘

سو سال کی عمر پانے والے بیشتر لوگ یہی کہتے ہیں کہ خدا پہ ایمان نے انھیں اتنی زیادہ طاقت عطا کر دی کہ وہ طویل عمر پا سکیں۔ ایک امریکی سو سالہ خاتون ، مارتھا بیلی کہتی ہے:’’میری طوالت عمر کا راز یہ ہے کہ خدائے بزرگ وبرتر میرے اندر بستے ہیں ۔چناں چہ میری بھرپور کوشش رہتی ہے کہ میں بہترین طریقے سے زندگی گذاروں۔‘‘ یاد رہے، جدید سائنسی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ جو انسان خدا پر یقین رکھتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں، ان کی عمر میں چار سے آٹھ سال تک اضافہ ہو جاتا ہے۔وہ امراض کا نشانہ بھی کم بنتے ہیں۔

اسی لیے جدید محقق کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو مریضوں کا علاج کرتے ہوئے مذہب اور روحانیات سے بھی مدد لینی چاہیے۔یہ عناصر مریض کو تندرست کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مگر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں ماہرین کا کسی بات پر اتفاق نہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ مذہبی ہونے کے باعث شراب اور منشیات سے دور رہنا انسان کو طبی فوائد پہنچاتا ہے۔ پھر عبادت اور دعائیں بھی انھیں ذہنی و جسمانی دباؤ سے دور رکھتی ہیں۔ نیز خدا پہ ایمان انھیں زندگی گذارنے کا مقصد بھی عطا کرتا ہے۔

مقصدِ زندگی تلاش کیجیے

اگر آپ سو سال تک زندہ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کے سامنے کوئی مقصد بھی ہونا چاہیے۔ مثلاً امریکی جج، ویزلے براؤن نے بنی نوع انسان کو انصاف فراہم کرنا اپنا مقصد ِ حیات بنا لیا۔ انھیں 1962ء میں صدر کینیڈی نے تعینات کیا تھا۔اور وہ جنوری 2012 ء میں اپنی موت سے صرف ایک ماہ قبل تک اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہے۔ وہ وکلا سے اکثر کہتے تھے: ’’بھئی جلدی جلدی اپنے دلائل دے ڈالو۔ ایسا نہ ہو کہ آج رات میں دنیا سے گذر جاؤں۔‘‘ وہ ایک پُرمزاح اور خوش باش انسان تھے جو ساری عمر بنی نوع انسان کے کام آتے رہے۔وہ قانون کو خوب اچھی طرح جانتے تھے ۔ان کا کہنا تھا:’’ہر کیس میری عمر میں اضافہ کر دیتا اور مجھے جینے کا مقصد عطا کرتا ہے۔‘‘

گلگت بلتستان میں بستے ایک ڈاکٹر، فیض رسول نے ایک سو چار برس کی عمر پائی۔ ان کا انتقال ایسے عالم میں ہوا کہ وہ اپنے کلینک میں مریضوں کا علاج کرر ہے تھے۔انھوں نے دانستہ ریٹائرڈ زندگی گذارنے سے انکار کر دیا تھا اور مریضوں کا علاج کر کے ان میں تندرستی کی دولت بانٹتے رہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں ریٹائرمنٹ کو ایک فاش غلطی سمجھتا ہوں۔‘‘طویل عمر پانے کے لیے وہ سبھی کو مشورہ دیتے تھے:’’آپ جو بھی کام کرتے ہیں ، اس سے لطف اندوز ہوں یا پھر اسے نہ کریں۔‘‘

ہنسئیے، قہقہہ لگائیے

فرانس کی جین کلیمنٹ کو دنیا میں معمر ترین انسان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ 122 سال اور 164 دن زندہ رہی۔ جین نے طویل عمر پانے کا راز ہنسنے اور قہقہے لگانے کی اپنی عادت کو قرار دیا تھا۔ زندگی بسر کرتے ہوئے وہ اپنی بینائی اور سماعت کی قوتوں سے محروم ہو گئی مگر تادم آخر کلیمنٹ نے اپنی حس مزاح کو برقرار رکھا۔ اس کا کہنا تھا:’’میں نے کبھی میک اپ نہیں کیا کیونکہ میں اتنا زیادہ ہنستی ہوں کہ اکثر میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں۔‘‘ کلیمنٹ کا یہ مزاح بھی بہت مشہور ہوا:’’میری جلد پہ صرف ایک جھری ہے اور میں اس پہ براجمان ہوں۔‘‘

امریکا کی سیاہ فام خاتون، ہیرلڈہ سین ہاؤس نے حال ہی میں اپنی 113ویں سالگرہ منائی ہے۔ ہیرلڈہ کو نوجوانی میں سفید فاموں کے ظلم وستم کا نشانہ بننا پڑا تھا اور انھوں نے مشکلات سے پُر زندگی گذاری۔ مصائب میں بھی مسکرانے اور ہنسنے کی عادت نے انھیں مگر اس دباؤ سے دور رکھا جو طوالت عمر اور صحت کا دشمن ہے۔انھوں نے کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔نیز مثبت طرز زندگی اپنائے رکھا جس سے انھیں فائدہ ہوا۔

اب جدید سائنس بھی کہتی ہے کہ اُمید اور مثبت فکر انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔ بعض ماہرین کے نزدیک تو ان کے فوائد ورزش سے ملنے والے فائدوں سے بھی زیادہ ہیں۔یہی نہیں، یہ دونوں عمل انسان کی عمر میں بھی کئی سا ل کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ خون کے دباؤ میں کمی لاتے اور کولیسٹرول گھٹاتے ہیں۔ حتی کہ وزن بھی نہیں بڑھنے دیتے۔

پیار کی طاقت

جو انسان اپنی زندگی میں پیار ومحبت کو اہمیت دیتے ہیں، وہ بھی طویل عمر پاتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ یہ مثبت جذبہ انھیں ذہنی وجسمانی طور پہ صحت مند رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے، جن جوڑوں کی ازدواجی زندگی خوشگوار ہو، وہ عموماً طویل عمر پاتے ہیں۔ شادی کے بعد جب دوستی و قربت کے پھول کھل جائیں تو ان کی مہک میاں بیوی کے لیے زندگی بخش بن جاتی ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں