1

صدارتی اقدامات بحران پیدا کرتے ہوئے

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر عوام ہر چار یا پانچ سال کے بعد پولنگ اسٹیشن جا کر اپنا ووٹ اپنے پسند کے امیدوار کو دے رہے ہیں تو اس صورت میں ملک کے اندر جمہوریت اور عوام کی حکمرانی ہے۔

بظاہر یہ تاثر ٹھیک نظر آتا ہے لیکن اصل میں یہ جمہوریت کا لبادہ ہے۔ہمارے سامنے شمالی کوریا کی مثال ہے جہاں بہت باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں اور عوام کے ووٹوں سے گرینڈ اسمبلی کے ممبران کا چناؤ ہوتا ہے لیکن سب پر عیاں ہے کہ شمالی کوریا میں جمہوریت نہیں بلکہ بڑی سخت قسم کی ڈکٹیٹرشپ ہے۔

شمالی کوریا میں امیدوار سرکار کے چنے ہوئے ہوتے ہیں اور عوام کو انھی سرکاری امیدواروں کے حق میں ووٹ کاسٹ کرنا ہوتا ہے۔مصر میں بھی بہت باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں لیکن جو بھی ہو صدر بدل نہیں سکتا۔ایران میں صدر منتخب ہونے کے لیے سپریم لیڈر کی منظوری ضروری ہے۔

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوے دار ملک ہے۔وہاں ایک میئر کے انتخابات میں ریٹرننگ آفیسر نے بی جے پی امیدوار کو کامیاب ہونے میں یوں مدد کی کہ حریف امیدوار کے کئی ووٹ مسترد کر دیے۔کانگریس اور اس کے اتحادی امیدوار کو انصاف لینے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ جانا پڑا ۔اسی طرح بہت سے ممالک میں عوام پولنگ اسٹیشن تو جا سکتے ہیں لیکن جمہوریت اور عوام کی حکمرانی غائب ہوتی ہے۔

جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب ستمبر 2023 میں اپنے عہدے کی 5سالہ مدت مکمل کر چکے ہیں لیکن قومی و صوبائی اسمبلیاں موجود نہ ہونے سے صدر کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج مکمل نہیں تھا۔اسی بنا پر نئے صدر کے منتخب ہونے تک جناب علوی صاحب ہی صدر کے منصب پر فائز رہیں گے۔

ڈاکٹر عارف علوی جب صدرِ پاکستان منتخب ہوئے تھے،انھوں نے حلف اُٹھایا کہ وہ بلا رغبت و عناد ہر ایک سے یکساں سلوک کریں گے لیکن جناب علوی نے یہ مناسب جانا کہ وہ صرف تحریکِ انصاف کے صدر بن کر رہیں حالانکہ اگر وہ ایک غیر جانبدار صدر بنتے تو پی ٹی آئی کی مشکل وقت میں زیادہ بہتر انداز میں مدد کر سکتے تھے۔ جناب علوی یہ بھی دکھانے میں لگے رہے کہ وہ غیر جانبدار ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ہر حال میں پی ٹی آئی کے وفادار رہے۔

دو کشتیوں کا سوار ہمیشہ گھاٹے میں رہتا ہے۔صدر عارف علوی نہ تو جناب عمران خان کے معیار پر پورے اترے اور نہ ہی عوام کی نظروں میں عزت و وقار حاصل کر سکے۔ فروری  2024کے انتخابات کے بعد صدر صاحب ایک دفعہ پھر تنازعے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

8فروری کے انتخابات کے نتائج بروقت جاری نہ ہوسکے۔وزارتِ داخلہ نے انٹرنیٹ بند کر دیا۔ انتخابات سے ایک دن پہلے بلوچستان میں دہشت گردی ہوئی اور معصوم جانوں کا ضیاع ہوا۔  انٹر نیٹ شاید اسی لیے بند کیا گیا کہ انتخابات کے دن دہشت گرد کوآرڈینیٹ نہ کر سکیں اور انتخابات پر امن انداز میں ہو جائیں لیکن یہ بندش عوام کو ناگوار گزری۔تاثر ابھرا کہ یہ نتائج تبدیل کرنے کے لیے کیا گیا۔تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں نے دھاندلی کا الزام لگایا لیکن پی ٹی آئی نے بہت زور شور سے یہ الزام عائد کیا اور کر رہی ہے۔

ان الزامات کے مقابلے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر نتائج تبدیل کیے گئے ہیں اور دھاندلی ہوئی ہے تو پی ٹی آئی خیبر پختون خواہ میں کیسے اکثریت لینے میں کامیاب رہی۔کیا خیبر پختون خواہ میں فرشتے الیکشن کروا رہے تھے یا پھر وہاں کوئی پاک طینت شخصیت الیکشن کمشنر تھی۔

اسی طرح پی ٹی آئی کو پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 116نشستیں ملیں۔پی ٹی آئی اور ن لیگ کی نشستوں کا تناسب وہی رہا جو 2018میں تھا۔کیا ان نشستوں پر جن پر پی ٹی آئی پنجاب میں کامیاب ہوئی،کسی مختلف الیکشن کمیشن نے انتخابات کروائے۔پی ٹی آئی نے کراچی میں بھی بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کی جیتی ہوئی نشستیں ایم کیو ایم کو دے دی گئیں۔

آئین کی رُو سے 29فروری قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی آخری تاریخ تھی۔عبوری وزیرِ اعظم نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے صدرِ مملکت کو بروقت سمری بھجوا دی تھی اور تجویز کیا تھا کہ 26فروری کو اجلاس طلب کر لیا جائے۔صدرِ مملکت کو صلاح مشورہ دینے والوں نے کہا کہ آپ کے پاس سمری پر فیصلہ کرنے کے لیے 15دن ہیں۔

جناب علوی نے پہلے تو سمری رکھے رکھی اور 24کو زبانی کہا کہ جب تک خصوصی نشستیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں دے دی جاتیں وہ سمری پر دستخط نہیں کریں گے ۔یہی بات انھوں نے 26تاریخ کو لکھ کر سمری واپس بھیج دی۔ان کی رائے میں جب تک پی ٹی آئی/سنی اتحاد کو مخصوص نشستیں الاٹ نہیں ہو جاتیں، قومی اسمبلی مکمل نہیں ہوتی، اس لیے وہ اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کریں گے۔ چونکہ یہ سمری تجویز کردہ تاریخ کو واپس آئی اس لیے نئی تاریخ کے ساتھ نئی سمری بھیج دی گئی ۔صدر نے پھر بھی دستخط نہ کیے تب بھی اجلاس اپنی مقررہ تاریخ 29فروری کو ہوگیا اور ارکان اسمبلی نے حلف بھی لے لیا۔

مخصوص نشستوں کا معاملہ ویسے تو بہت آسان ہے کہ قومی اسمبلی میں کسی سیاسی پارٹی کی جتنی نشستیں ہیں اسی تناسب سے اس پارٹی کو مخصوص نشستیں مل جاتی ہیں۔

موجودہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے حوالے سے کچھ ایسا ہوا کہ یہ بہت سادہ معاملہ الجھ گیا۔الیکشن کمیشن کے بار بار یاد دہانی خطوط کے باوجود پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے۔الیکشن کمیشن نے اس وجہ سے سیاسی پارٹیوں کو نشان الاٹ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو بلے کا نشان الاٹ نہیں کیا۔ اگر دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ قانونی ہے لیکن عوام کی بہت پسندیدہ سیاسی پارٹی کو نشان نہ ملنے سے بہت نقصان ہوا۔

پی ٹی آئی انتخابات میں ڈھیر ساری نشستیں جیتنے کے باوجود قومی اسمبلی میں موجود نہیں ہے۔پی ٹی آئی نے اپنے اسمبلی ارکان کو پارٹی سے جوڑے رکھنے اور مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا کہا۔الیکشن کمیشن کے اوپر الزام ہے کہ اس نے انتخابات میں دھاندلی کروائی۔ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے ایک بڑی جماعت کو الیکشن سمبل سے محروم کیا اور پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں بھی الاٹ نہیں کیں۔

ان الزامات کے ساتھ یہ بھی امرِ واقعہ ہے کہ مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ صرف اسی صورت ممکن ہے جب کہ دئے گئے وقت کے اندر فہرست جمع کروائی جائے اور پارٹی قومی اسمبلی میں موجود بھی ہو۔ غلط یا صحیح ،تحریکِ انصاف اپنے نام سے تو نئی منتخب قومی اسمبلی میں موجود نہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ سنی اتحاد بھی اسمبلی میں موجود نہیں۔

سنی اتحاد کے جناب حامد رضا نے خود اپنی نشست بھی آزاد امیدوار کے طور پر جیتی ہے۔سنی اتحاد کے نام اور نشان پر کوئی نہیں جیتا۔سیاسی پارٹیوں کو 22دسمبر تک اپنی فہرست جمع کروانی تھی جو سنی اتحاد نے جمع نہیں کروائی حتیٰ کہ آج کے دن تک یہ فہرست الیکشن کمیشن کے پاس جمع نہیں ہوئی،ہاں ایک درخواست مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے لیے ضرور دی گئی ہے۔

قانونی طور پر تو سنی اتحاد/پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنا مشکل ہے لیکن جمہوریت کی بقا،ترقی اور ملک کے اندر اتحاد یگانگت اور استحکام پیدا کرنے کے لیے کوئی راہ نکال کر تحریکِ انصاف کے حصے کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو مل جانی چاہیئں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں