5

عدالتی امور میں مداخلت مسترد، معاملہ قومی سلامتی کا ہے اسے بڑھایا نہ جائے، وفاقی وزرا

وفاقی وزرا کی مشترکہ پریس کانفرنس، عدلیہ میں مداخلت کے تاثر کو مسترد کردیا (فوٹو فائل)

وفاقی وزرا کی مشترکہ پریس کانفرنس، عدلیہ میں مداخلت کے تاثر کو مسترد کردیا (فوٹو فائل)

 اسلام آباد:وفاقی وزرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو اتنا آگے لے کر نہ جایا جائے کیونکہ بات قومی سلامتی کی ہے۔

وزير اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اسلام آباد ہائی كورٹ كے جج بابر ستار كے عدالتی امور ميں  مداخلت اور دباؤ كے الزامات كو مسترد كرتے ہوئے كہا ہے كہ كسی نے يہ پيغام نہيں  ديا كہ آپ پيچھے ہٹ جائيں البتہ صرف ان كيمرا بريفنگ كا كہا گيا تھا جس كی درخواست قومی سلامتی كي وجہ سے کی گئی اور اس پر كوئی سمجھوتہ نہيں  كيا جائے گا۔

وزير قانون اعظم نذير تارڑ نے وزير اطلاعات عطااللہ تارڑ كے ہمراہ مشتركہ پريس كانفرنس كرتے ہوئے كہا كہ سوشل ميڈيا كے قانون و ضوابط كے حوالے سے ٹی وی، اخبار اور ريڈيو ميں  كافی زيادہ چرچا تھا، اس حوالے سے  ايك اتھارٹی بنائی گئی ہے، جس كے بعد سی ايل سی سی ميں  بھی معاملہ آیا۔

مزید پڑھیں: آڈیو لیکس کیس میں مجھے پیغام دیا گیا پیچھے ہٹ جاؤ، جسٹس بابر ستار

انہوں نے کہا کہ  وزارت اطلاعات و نشريات نے كافی اسٹيك ہولڈز  سے مشاورت كے بعد سوشل میڈیا پر قانون سازی کے حوالے سے ڈرافٹ بھيجا تھا جو آج منظورہ كے ليے وفاقی کابینہ میں پیش کیا گیا۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس ڈرافٹ ميں  ڈيجيٹل حقوق كے حوالے سے اتھارٹي كے قيام كي تجويز پيش كی گئی اور  رہنما اصول بھی متعين كيے گئے ہيں،  جو آئين پاكستان كے آرٹيكل 19 كے عين مطابق ہيں، اس كے باوجود وزيراعظم كی رائے تھی جس كی كابينہ اراكين نے بھي تائيد كی كہ قانون سازی ميں  سياسي اتفاق رائے  ضروري ہے اس لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے  اتحادی جماعتوں  كي نمائندگی اور رضامندی بھی اس میں شامل ہو۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ  کمیٹی ڈرافٹ کا جائزہ لينے كے بعد ايك ہفتے ميں  رپورٹ پيش كرے گی۔

ان كا كہنا تھا كہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاكستان منصور اعوان گفتگو كر كے گئے، انہوں  نے ايك خط كے بارے ميں  گفتگو كی اور كچھ وضاحتوں کے ساتھ اپنی رائے بھی دی۔

اسلام آباد ہائي كورٹ كے ايك معزز جج نے خط لكھا ہے كہ جس كے مندرجات سے يہ تاثر ديا گيا كہ انٹيلی جنس اور  دفاعی ادارے ججوں  كے كام ميں  كسی قسم كی مداخلت كرنا چاہتے ہيں  يا كرتے ہيں ۔

وزير قانون نے كہا كہ ميرے ليے تكليف دہ چيز يہ ہے كہ اس طرح سے اس کی تشہير كی گئی جیسے جيسے عدليہ ميں  مداخلت ہے، اس سے پہلے بھی چھ جج صاحبان كا ايك خط آيا اور ان كے خط پر حكومت  نے فوری طور پر چيف جسٹس اور فل كورٹ كی ہدايات كو مدنظر ركھتے ہوئے فل كورٹ بنايا تھا تاكہ دودھ كا دودھ اور پاني كا پاني ہو۔

انہوں نے کہا کہ دھمکی آمیز خط کے  معاملے پر سپريم كورٹ نے نوٹس ليا تھا اور اب يہ معاملہ زير سماعت ہے تو ميں  اس پر زيادہ بات نہيں  كروں  گا۔ انہوں  نے كہا كہ آزاد عدليہ ہی ملك كو آگے لے كر جاتی ہے ليكن ہميں  دہشت گردی، امن و امان، معاشی اور سكيورٹی سميت جس قسم كے چيلنجوں  اور ماحول كا سامنا ہے ايسہ صورت ميں  تمام اداروں  كو ايك دوسرے كو تھوڑی جگہ ديني چاہيے، لہذا سب اپنے اپنے دائرے ميں  رہ كر كام كريں ۔

اس موقع پر وزير اطلاعات اعظم عطااللہ تارڑ نے كہا كہ اگر اٹارنی جنرل كی جانب سے ايک پيغام ديا جاتا ہے كہ ان كيمرا بريفنگ كی جائے تو اس پر سياق و سباق سے ہٹ كر ایک خط لكھ ديا جاتا ہے كہ مجھے كہا جا رہا ہے كہ ميں  پيچھے ہٹ جاؤں، يہ حقيقت پر مبنی بات  نہيں  ہے، اگر ان كيمرا بريفنگ كي درخواست قومی سلامتی كي وجہ سے كی گئی تھی اور ميں  واضح كردوں  كہ قومی سلامتی پر كوئی سمجھوتہ نہيں  كيا جائے گا۔

انہوں  نے كہا كہ اس معاملے كو اتنا آگے لے كر مت جائيے کیونکہ بات قومی سلامتی كي ہے اور اس ایک معاملے كو لے كر قومی سلامتی پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے، ميں  سوشل ميڈيا پر ديكھ رہا تھا كہ زيريں  عدالتوں  كے ججوں  نے چيف جسٹس كو خط لكھا ہے كہ ان پر سخت زبان ميں  باقاعدہ دباؤ ڈالا جاتا ہے كہ فلاں  كيس ميں  فلاں  فيصلہ كرو۔

ان كا كہنا  تھا كہ قومی سلامتی كے معاملات كو خطوط كے ذريعے اجاگر نہيں  كرنا چاہيے، كوئی معاملہ ڈسكس كرنا ہو تو چيف جسٹس فل كورٹ بلا سكتے ہيں، جس چيف جسٹس سے روزانہ ملاقات ہوتی ہو اس كو خط لكھنا معاملے كو متنازع بنانے والی بات ہے۔

عطااللہ تارڑ نے كہا كہ قومي سلامتی پر كوئی سمجھوتہ نہيں  كيا جائے گا اور اگر اس مسئلے كو لے كر قومی سلامتی پر سوال اٹھايا جائے گا تو يہ مناسب نہيں  ہو گا۔ ميں  سمجھتا ہوں  كہ تناؤ كو كم كرنا ہو گا اور تمام اداروں  كو اس پر مل جل كر كام كرنا ہو گا۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں