1

’عصر حاضر کا چانکیہ‘ امیت شا بھارت کا وزیر اعظم بن سکے گا ؟

دنیا میں بہ لحاظ آبادی سب سے بڑا ملک پاکستان کا پڑوسی ہے۔ یہ اہل پاکستان کے لیے بہت بڑا فائدہ تھا کہ وہ اپنا سامان ِ تجارت سستے داموں اس بڑی منڈی میں بیچ کر اچھا منافع کما سکتے تھے۔

بدقسمتی سے مگر بھارتی حکمران طبقے نے روزاول سے پاکستان کا وجود تسلیم نہیں کیا۔وہ پاکستان کو ’’بھارت ماتا‘‘کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے، بھارتی حکمران طبقہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے۔اس میں شامل انتہا پسند ہندو تو اسلام اور مسلمانوں کے بھی سخت مخالف ہیں۔بھارتی فوج اور بیوروکریسی میں ان کی کثرت تھی۔اب عدلیہ ، سیاست اور میڈیا میں بھی وہ بہت اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ایسے معاندانہ ماحول میں تجارت خاک ہو گی!

پچیس کروڑ بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کی بھی بدقسمتی ہے کہ بھارت میں 1980ء تک ہندو انتہا پسند جماعتوں کو سیاسی میدان میں خاص مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔تاہم 1983ء سے انھوں نے ’’رام مندر تحریک‘‘چلانے کا فیصلہ کیا تو انھیں ملک گیر شہرت مل گئی۔اس تحریک کا نشانہ اسلام اور بھارتی مسلمان تھے۔چونکہ آرایس ایس اور اس کے سیاسی دھڑے، بی جے پی کو بھارتی مسلمانوں کی مخالفت کے باعث سیاسی شہرت ملی لہذا انھوں نے اس عمل کو اپنی بنیادی پالیسی بنا لیا۔ بھارت کا جاری الیکشن اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہندو انتہا پسندوں کا نمائندہ، نریندر مودی پچھے دس سال سے حکومت کر رہا ہے۔اسے کامیابیاں ملیں اور ناکامیاں بھی!اس کے دور میں خصوصاً شہروں میں غربت کم ہو گئی مگر وہ کروڑوں بھارتیوں پہ مشتمل دیہی آبادی کو غربت ، بیروزگاری اور بیماری کے عفریتوں سے نجات نہیں دلوا سکا۔اسی لیے حالیہ الیکشن جیتنے کے لیے مودی اور اس کے ٹولے نے مسلم دشمنی کا جھنڈا پھر بلند کر دیا۔مدعا یہی ہے کہ شعور سے عاری ہندو عوام میں مذہبی جذبات بھڑکا کر انھیں ساتھ ملایا جا سکے۔وہ مسلم دشمنی میں الجھ کر روزمرہ زندگی کے مسائل بھول جائیں جن سے وہ دوچار رہیں۔الیکشن کا نتیجہ دکھائے گا کہ مودی کی یہ دیرینہ پالیسی کیا اس بار بھی کامیاب ہو گی یا نہیں۔

جنگجو نظریات رکھنے والا گروہ

حقائق سے عیاں ہے کہ ہندو انتہا پسند حکمران طبقے کے تمام عناصر…فوج، بیوروکریسی، سیاست دانوں، عدلیہ، میڈیا، کاروباریوں ،صنعت کاروں، تاجروں وغیرہ کے اندر نفوذ کر چکے۔یہ انتہا پسند بھارت کو عسکری لحاظ سے طاقتور بنانا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان و بنگلہ دیش پہ قبضہ جما کر بھارت ماتا کی تکمیل کر سکیں۔گویا وہ اربوں کھربوں روپے اسلحہ خریدنے اور فوجیں کھڑی کرنے پہ خرچ کر دیں گے مگر اپنے عوام کو غربت، بیماری، بیروزگاری اور جہالت سے نجات نہیں دلائیں گے۔یہ بھارتی عوام کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ بھارت میں جنگجو نظریات رکھنے والا گروہ اقتدار سنبھال چکا۔ مودی اور اُس کا دست راست، امیت شا اِس گروہ کے قائدین ہیں۔

بھارتی ماہرین کے مطابق مودی کے بعد امیت شا ہی ہندو انتہا پسندوں کے لیڈر کی حیثیت سے بھارت میں ان کی پالیسیاں جاری رکھے گا۔موصوف بھی مودی کی طرح مسلم و پاکستان دشمن جنگجو ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کر کے اپنے مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔ 59سالہ امیت انیل چندر شا بھی مودی کی طرح گجرات سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے اجداد بنیے تھے۔یہ خود بھی نوجوانی میں بنیاگیری کرتا رہا۔پھر سیاست میں آ گیا۔مودی کا ساتھی بنا اور 1997ء میں پہلی بار گجرات اسمبلی کا رکن منتخب ہوا۔بھارت میں اسے ایک سخت مزاج اور ڈکٹیٹر قسم کا آدمی سمجھا جاتا ہے ۔

نفسیاتی مریض

برطانیہ کے ممتاز اخبار، گارڈین نے حال ہی میں امیت شا کی شخصیت وزندگی پر ایک مضمون ’’‘He likes scaring people’‘‘شائع کیا ہے۔یہ ایک بھارتی صحافی، اٹول دیو کا تحریر کردہ ہے جو آج کل نیویارک میں مقیم ہے۔یہ مضمون ایک ایسے فرد کو سامنے لاتا ہے جو انسانوں کو خوفزدہ کر کے لذت محسوس کرتا ہے، گویا ایک طرح کا نفسیاتی مریض ہے۔وہ خود پہ تنقید برداشت نہیں کر سکتا اور کسی نہ کسی طریقے سے نقاد کو نقصان پہنچا کر دم لیتا ہے۔ مضمون آشکارا کرتا ہے کہ بھارت میں طاقتور لوگ…جرنیل، جج، سرکاری افسر بھی امیت شا کے بارے میں بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔شاید اس وجہ سے کہ نجانے کیا بات اُسے بری لگ جائے اور وہ امیت شا کے انتقام کا نشانہ بن جائیں۔

دراصل جب مودی گجرات کا وزیر اعلی بنا تو اس نے امیت شا کو وزیرداخلہ بنایا۔ تب سے پہلے ریاستی اور اب قومی سیکورٹی ادارے امیت شا کے ماتحت ہیں۔ان اداروں کے ذریعے موصوف نے بھارت میں خوف ودہشت کا جال بچھا دیا۔ بھارتی مسلمان تو نشا بنے ہی، سیکولر ہندو بھی امیت شا کے حکم پہ قتل کر دئیے گئے کیونکہ وہ مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے تھے۔بھارت میں اندرون خانہ رازوں سے واقف لوگ امیت شا کی غنڈہ گردی اور تلذّذپسند شخصیت سے آگاہ ہیں۔اسی لیے وہ اس کے خلاف بولنے سے گھبراتے ہیں۔ معدودے چند لوگ ہیں جو امیت شا کی زندگی کے پوشیدہ راز افشا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔اسے عیارانہ اور شرانگیز فطرت رکھنے کے باعث ’’دور جدید کا چانکیہ ‘‘کیا جاتا ہے۔

اہل پاکستان خبردار رہیں

نریندر مودی تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہے۔گو وہ اقتدار سے چمٹا رہنا چاہے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ جیسے ہی آر ایس ایس کو محسوس ہوا کہ وہ بوجھ بن چکا، اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا جائے گا۔تب امیت شا ہی مودی کی گدی سنبھالے گا۔پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کے لیے یہ تشویش ناک اور خطرناک بات ہے کیونکہ یہ شخص بھی جنگجو، انا پرست اور انتہا پسند ہے۔بھارتی عوام نے مذہبی جذبات کے جوش میں اسے حکومت دے دی تو وہ پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف پوشیدہ و عیاں مخالفانہ سرگرمیاں جاری رکھے گا۔لہذا اہل پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کواس شخص سے خبردار رہنا چاہیے جو انھیں کوئی بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مسلم دشمن راہنما

مسلمانوں سے امیت شا کی نفرت فروری 2002ء میں نمایاں ہوئی جب گودھرا ریلوے اسٹیشن میں ہندو مسلم فساد ہوا۔اس فساد کو بنیاد بنا کر آرایس ایس، بی جے پی، وشوا ہندو پرشید، بجرنگ دل وغیرہ کے انتہا پسند کارکنوں نے گجراتی مسلمانوں پہ بے پناہ ظلم ڈھائے اور وحشت و حیوانیت کا نیا باب رقم کر دیا۔

ان کارکنوں کی سرپرستی امیت شا کر رہا تھا۔ اس کی ایما پہ ریاستی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور انتہا پسند مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے۔امیت شا کے اشارے پہ گجرات کی مشہور مسلم شخصیات کو شہید کر دیا گیا۔ یوں وہ ریاست میں مسلمانوں کا مقام ومرتبہ تباہ کر دینا چاہتا تھا۔

نومبر 2005ء میں امیت شا نے گجرات کے ایک مسلمان، سہراب الدین شیخ اور اس کی بیوی، کوثر کو ’دہشت گرد ‘‘قرار دے کر اپنی پولیس سے شہید کروا دیا تھا۔یہ کھلم کھلا سرکاری دہشت گردی تھی جو امیت شا کے حکم سے انجام پائی۔اس جرم پہ بعد ازاں امیت پر مقدمہ بھی چلا۔مگر جب بی جے پی اقتدار میں آئی تو مقدمہ ختم کر کے انصاف و قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔

امیت شا بنگالی مسلمانوں کو ’’دیمک ‘‘کہتا ہے کیونکہ انھوں نے آسام ، بہار اور مغربی بنگال کی ریاستوں میں کافی اثرورسوخ حاصل کر لیا ہے۔اس کے باوجود بنگلہ دیش کی بے غیرت حکمران، بیگم حسینہ واجد مودی جنتا کے تلوے چاٹنے میں مصروف ہے۔بس بیگم حسینہ کے چند وزیر امیت شا کے خلاف مذمتی بیان دے کر خاموش ہو گئے۔بھارت کے حامی بنگلہ دیشی ٹولے کو اس وقت ہوش آئے گا جب بھارتی انتہا پسند کسی بہانے بنگلہ دیش پہ قبضہ کر لیں تاکہ اسے بھارت ماتا میں شامل کیا جا سکے۔

خلیج بنگال میں پھینک دو

یہ امیت شا ہی ہے جس نے ’’سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ (Citizenship Amendment Act, 2019)اور ’’نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز‘‘(National Register of Citizens)پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ دونوں سرکاری بھارتی منصوبے مسلم مخالف ہیں۔2019ء میں انھیں پیش کرتے ہوئے امیت شا نے کہا تھا:

’’بی جے پی کی حکومت گھس بیٹھیوں اور دُراندازوں (یعنی مسلمانوں )کو ایک ایک کر کے پکڑے گی اور انھیں خلیج بنگال میں پھینک دے گی۔‘‘بھارتی مسلمانوں کے زبردست احتجاج کے باعث ہی ان سرکاری منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔مگر حالیہ الیکشن میں بی جے پی کو پارلیمنٹ میں دو تہائی سے زیادہ کی اکثریت مل گئی تو وہ اپنے التوا شدہ مسلمان دشمن منصوبوں کو مکمل کر کے رہے گی۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھارت کو سیکولر کے بجائے آئینی طور پہ ہندو ریاست میں تبدیل کر دے۔یہ تبدیلی انجام دینا نریندر مودی اور اس کے ہم نوا انتہا پسندوں کا دیرینہ خواب ہے۔

راجدیپ سرڈیسائی احمد آباد، گجرات سے تعلق رکھنے والے ممتاز بھارتی صحافی ہیِں۔یہ مودی و امیت کے سربستہ راز اپنے مضامین میں جرات سے افشا کرتے ہیں۔انھوں نے 2019ء میں امیت شا پہ ایک مضمون ’’Amit Shah’s Politics Has Always Thrived on Hindu-Muslim Divisions‘‘تحریر کیا تھا۔اس میں واقعات کی مدد سے عیاں کیا گیا کہ امیت شا ہمیشہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین فساد کروا کر اپنے مفادات پاتا ہے۔قارئین ایکسپریس تک یہ واقعات پہنچانے کی غرض سے مضمون کا ترجمہ پیش ہے:

جدید دور کے چانکیہ

بی جے پی کا قومی صدر بننے سے بہت پہلے اور جدید دور کے چانکیہ کے طور پر سراہے جانے سے قبل امیت شا احمد آباد کے مضافات میں واقع ایک وسیع و عریض انتخابی حلقے، سرکھیج کے مضبوط سیاسی آدمی کے طور پر مشہور تھے۔ شا یا امیت بھائی نے جیسا کہ ان کو کہا جاتا جاتا ہے، 1997 ء سے بطور ایم ایل اے سرکھیج کی نمائندگی کی تھی اور وہ اپنے آبائی میدان پر عملی طور پر ناقابل شکست تھے۔

2007 ء میں جب کانگریس نے ایک نسبتاً طاقتور امیدوار، ششی کانت پٹیل کو ان کے خلاف کھڑا کیا، تو شا نے مبینہ طور پر ریاستی حکومت میں وزیر داخلہ کے طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پٹیل کے خلاف پولیس کی طرف سے دائر کیے گئے پرانے مقدمات کو دوبارہ فعال کر دیا۔ مقامی رئیل اسٹیٹ ڈیلرز کو متنبہ کیا گیا کہ وہ کانگریسی امیدوار کو پارٹی کا عارضی دفتر قائم کرنے کے لیے اپنی جگہ پیش نہ کریں۔ احمد آباد میں مقیم ایک صحافی یاد کرتے ہیں، ’’شا ہر حال میں جیتنے والے تھے کیونکہ سرکھیج بی جے پی کا گڑھ ہے۔ لیکن شا کی کوشش تھی کہ ہر قسم کا مقابلہ ختم کر دیا جائے۔‘‘ امیت شا نے ششی کانت پٹیل کو 2۔35 لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی۔

گجرات کے سینئر صحافی، راجیو شا ایک کہانی سناتے ہیں جو شاید امیت شا کی شخصیت کے تاریک پہلوؤں کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ مارچ 2002 ء کے وسط میں فرقہ وارانہ فسادات کے بمشکل دو ہفتوں بعد جس میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں، راجیو شا سے امیت ٹکرا گئے جب وہ گاندھی نگر میں چیف منسٹر کے دفتر سے باہر آرہے تھے۔ بڑھتے ہوئے تشدد کے بارے میں فکر مند راجیو نے ایک غیر رسمی بات چیت شروع کی۔ انہوں نے شا سے پوچھا، ’’آپ احمد آباد میں خاص طور پر اپنے حلقہ سرکھیج میں(ہندو اور مسلم ) برادریوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پہل کیوں نہیں کرتے؟‘‘

سرکھیج میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، جن میں سے زیادہ تر جوہا پورہ کی یہودی بستی نما مضافاتی علاقے میں رہتے ہیں۔کئی برس کے دوران ہندو مسلم فسادات کے ایک سلسلے نے حلقے میں ہندو اور مسلم اکثریتی علاقوں کے درمیان ایک غیر رسمی ‘سرحد’ پیدا کر دی تھی۔

’’آپ فسادات پر اتنے فکر مند کیوں ہیں؟‘‘ شا نے کسی قدر تیزی سے جواب دیا۔

راجیو عوامی نمائندے کے ردعمل سے حیران ہوا لیکن پھر وضاحت کی کہ اس کا سرکھیج میں ایک اپارٹمنٹ ہے اور وہ فکر مند تھا کیونکہ اس علاقے میں تشدد اب بھی بڑھ رہا ہے۔ ’’اگر آپ پہل کریں اور ہندو اور مسلم لیڈروں کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں تو مجھے یقین ہے کہ علاقہ کشیدگی سے پاک ہو جائے گا۔‘‘ راجیو نے مشورہ دیا۔

شا جان بوجھ کر مسکرائے اور جواب دیا: ’’سرکھیج میں کس طرف آپ کا گھر واقع ہے، ہماری طرف یا ان کی طرف ؟‘‘

جب حیران پریشان ہو کر راجیو نے اپنے اپارٹمنٹ کی جگہ بتائی تو شا نے فوراً جواب دیا: ’’تو پھر فکر نہ کرو، تمہارے گھر کو کچھ نہیں ہوگا۔ جو بھی واقعات ہوں گے، وہ سرحد کے دوسری طرف ہوں گے۔‘‘

راجیو امیت شا کی بے حسی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔وہ بتاتا ہے:’’ میرا رکن اسمبلی کھلے عام اپنے علاقے میں ہندو مسلم تقسیم کا ذکر کر رہا تھا کہ اگر کوئی فساد ہوا تو صرف ایک فریق کو پریشان ہونا پڑے گا۔‘‘لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکھیج میں امیت شا کے بہت سے حامیوں کے لیے ان کا یہ دو ٹوک جواب تعریف کے لائق تھا۔

احمد آباد میں گجراتی ہندو متوسط طبقہ اکثر شہر میں مذہبی تقسیم کو ’انڈو-پاک سرحد‘ کی آئینہ دار قرار دیتا ہے۔ متعدد علاقوں میں دونوں برادریاں ایک دوسرے کے ساتھ ایک قابل احترام غیر مرئی سرحد کے دونوں طرف رہتی بستی ہیں جس سے نہ ہندو اور نہ ہی مسلمان آگے بڑھتے ہیں۔ اپنی صاف گوئی کے ساتھ، اگر بے تدبیر ردعمل ظاہر کیا جائے تو شا صرف اس (انتہا پسندانہ) ذہنیت کی عکاسی کر رہے تھے جس میں احمد آباد کی فرقہ وارانہ سیاست میں صرف ایک برادری کے خدشات ہی اہمیت رکھتے تھے۔ سیاسی طور پر درست نیتا اپنے متنازع خیالات کا اظہار کرنے سے پہلے زیادہ محتاط ہو جاتا ہے لیکن امیت شا نے ہمیشہ اپنے ہندو اکثریتی نقطہ نظر کو فخر یہ بیج کے طور پر پہنا ہے۔

مجھے بھی اپنے ساتھ بیتا ایک واقعہ یاد ہے۔وہ ایک تقریب کے دوران لنچ کا وقت تھا۔میز پر امیت شا بیٹھے تھے۔ میں نے کرسی سنبھالی تو شا نے میری طرف دیکھا، مسکرایا اور بولا’’ آہا، تو آج اینٹی ہندو اور کمیونسٹ لوگ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ہیں۔‘‘ میں نے اس بیان سے اختلاف کیا۔ ایک صحافی کے طور پر میں بائیں اور دائیں، دونوں بازوؤں کی سیاست کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ اگلے چند منٹوں تک ہم ’سیکولرازم‘ پر گرما گرم بحث کرتے رہے، جس کے آخر میں شا نے میری طرف ناگواری سے دیکھا اور بولا ’’ آپ سیکولر لوگ ہندو دھرم پر کتاب پڑھا کرو، انگریزوں کی کتاب میں کچھ نہیں رکھا۔‘‘ سیکولر اور آزادی پسند بھارتیوں کو انگریزی بولنے والا اشرافیہ طبقہ قرار دینا سنگھ پریوار کا قدیم و دیرینہ فیشن ہے۔

امیت شا وہی لڑاکا، متنازع شخصیت ہے جسے پارٹی کی لوک سبھا الیکشن میں کامیابی کے چند مہینوں کے اندر اندر جولائی 2014 ء میں بی جے پی کا صدر منتخب کیا گیا تھا ۔ اس جیت کی کلید اتر پردیش میں بی جے پی کی شاندار کامیابی تھی جہاں پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے 80 میں سے 73 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔اسی انتخابی مہم سے شا کی ساکھ ایک شاندار انتخابی منتظم کے طور پر قائم ہوئی۔

وہ مگر اس وقت ضمانت پر رہا ایک مشتبہ شخص بھی تھا۔اس پہ الزام تھا کہ ریاستی وزیر داخلہ ، گجرات کے طور پر اس نے ماورائے عدالتی قتل کی ہدایت دی تھی۔چناں چہ گجراتی پولیس نے دو مسلمان شہید کر ڈالے۔قتل کے الزام میں امیت نے تین ماہ جیل میں گزارے تھے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے اندر، صدر کے طور پر شا کی تقرری نے ‘گجراتی قبضے’ کی آوازیں بلند کر دیں، حالانکہ کوئی بھی اسے عوامی طور پر چیلنج کرنے کو تیار نہیں تھا۔ کیا تب وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات سے اپنے قدیمی ساتھی کو پارٹی کی سربراہی کے لیے منتخب کر کے کوئی بڑا جوا کھیلا تھا؟

جب میں نے پہلی بار مودی کے دائیں ہاتھ کے طور پر شا کی تقرری کے بارے میں سنا تو میرا ذہن ایک انٹرویو کی طرف چلا گیا جو میں نے ستمبر 2012 ء میں مودی کے ساتھ کیا تھا ۔تب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے امیت شا کی ضمانت کی شرائط میں نرمی کے چند ہفتے ہی ہوئے تھے اور انہیں اپنی آبائی ریاست سے باہر تقریباً دو سال گزارنے کے بعد گجرات واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ قبل ازیں عدالت عظمیٰ نے شا کو اس خوف سے ریاست میں رہنے سے روک دیا تھا کہ وہ مبینہ فرضی مقابلوں میں گجرات پولیس کے کردار کی تحقیقات میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

میں نے مودی کے سامنے جو بہت سے سوالات رکھے ان میں سے ایک شا کے فوری سیاسی مستقبل پر تھا۔ گجرات کے ریاستی انتخابات دسمبر 2012 ء میں ہونے والے تھے اور اس بات پر غیر یقینی صورتحال تھی کہ ضمانت پر باہر نکلے ہوئے رہنما کو ٹکٹ دیا جائے گا یا نہیں۔ ‘تو کیا امیت شا الیکشن لڑیں گے؟ اس کے خلاف کیس کا کیا ہوگا؟‘‘ میں نے مودی سے پوچھا۔

انٹرویو کے دوران مجھے اس بس کے فرش پر بٹھایا گیا تھا جس میں مودی سفر کر رہے تھے۔ اور جب ہم بات کر رہے تھے تو مودی کو اوپر بٹھا کر مجھے مجبور کیا گیا تھا کہ میں سر اٹھا کر سول جواب کروں۔ اس تکلیف آمیز ماحول میں یہ سوال شاید آخری تنکا تھا۔

’’قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،‘‘ مودی کا کرارا جواب تھا۔

اگلے دن جب ہم انٹرویو نشر کرنے کی تیاری کر رہے تھے، مجھے چیف منسٹر کے دفتر سے فون آیا۔ مودی خود لائن میں تھے۔ ’’کیا آپ براہ کرم اس حصے میں ترمیم کرسکتے ہیں جہاں میں نے امیت بھائی کے کیس پر بات کی ہے؟‘‘ یہ فوری درخواست تھی۔ میں کئی برس سے بی جے پی کے اس لیڈر کو جانتا تھا اور ان کے کئی انٹرویو کیے تھے۔، یہ پہلا موقع تھا جب وہ مجھ سے کسی ایسی بات کو ہٹانے کو کہہ رہے تھے جو انہوں نے کیمرے پر کہی تھی۔

میں قدرے حیران ہوا لیکن ہچکچاتے ہوئے شا پر کیا گیا تبصرہ ہٹانے پہ راضی ہو گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے ، ہمارے ذاتی تعلقات مزید خراب نہ ہوں۔ جب میں نے یہ واقعہ گجرات میں طویل عرصے سے گہری سیاسی بصیرت رکھنے والے شخص سے بیان کیا تو اس نے مودی کے بظاہر دفاعی انداز کی وضاحت پیش کی:

’’براہ کرم یہ بات سمجھیں کہ مودی امیت شا کے بہت زیادہ مقروض ہیں۔ جب شا جیل میں تھے، سی بی آئی نے ان سے اعترافی بیان لینے کی بھرپور کوشش کی تھی تاکہ کسی طرح مودی کو قتل کے کیس میں پھنسایا جا سکے ۔اس میں مودی پربھی الزام لگایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ایجنسی نے وعدہ کیا کہ اگر وہ بیان دیتا ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ شا نے مگر انکار کر دیا ۔اور اس دن سے مودی شا کے پابند ہیں۔ اب وہ ایک غیر متزلزل جوڑی ہیں، دو جسموں میں ایک روح!‘‘





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں