4

غیر منتخب افراد کو نیب قانون سے باہر رکھنا امتیازی سلوک ہے، سپریم کورٹ

کیا آپ سیاسی احتساب چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس

کیا آپ سیاسی احتساب چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس

 اسلام آباد:سپریم کورٹ کے فاضل جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ غیر منتخب افراد کو نیب قانون سے باہر رکھنا امتیازی سلوک ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیولنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔

عدالتی معاون وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں، نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں، نیب آرڈیننس 1999 میں مشرف حکومت میں آیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ صرف منتخب پبلک آفس ہولڈر پر نیب کا اختیار کیوں رکھا گیا، غیر منتخب پر کیوں نیب کا اختیار نہیں رکھا گیا؟ غیر منتخب افراد کو نیب قانون سے باہر رکھنا امتیازی سلوک ہے۔

چیف جسٹس کا وکیل بانی پی ٹی آئی سے کہا کیا آپ سیاسی احتساب چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں جیسا قانون پہلے تھا وہی برقرار رہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں