2

مارگلہ کے پہاڑوں پر آتشزدگی، چیئرمین سی ڈی اے کا کالی بھیڑوں کا اعتراف

کیا مارگلہ کے پہاڑوں پر سی ڈی اے والے خود آگ لگاتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان

کیا مارگلہ کے پہاڑوں پر سی ڈی اے والے خود آگ لگاتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان

 اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کیس میں اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی رپورٹ مسترد کردی۔

سپریم کورٹ میں مونال ریسٹورنٹ کیس کی سماعت ہوئی تو سی ڈی اے نے مارگلہ نیشنل پارک میں تمام تعمیرات کی تفصیلات پر رپورٹ پیش کی۔

سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کو فوری طلب کرلیا۔

چیف جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ سی ڈی اے سے مونال کے ساتھ دیگر ریسٹورنٹس کی تفصیل مانگی تھی، سی ڈی اے رپورٹ میں اسپورٹس کلب پاک چائنہ سینٹر، آرٹ کونسل نیشنل مونومنٹ شامل ہے، یہ سی ڈی اے کی ایمانداری ہے، کیا سپریم کورٹ کی عمارت بھی نیشنل پارک میں آتی ہے؟ کیا سی ڈی اے اپنا دفتر بھی نیشنل پارک میں ہے، پھر سی ڈی اے کا آفس بھی گرانے کا حکم دیدیں، دنیا کو معلوم ہے مونال کیساتھ مزید کتنے ریسٹورنٹس ہیں، نہیں معلوم تو سی ڈی اے کو معلوم نہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر چیئرمین سی ڈی اے فوری طور پر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اس سیزن میں اکیس مرتبہ مارگلہ کے پہاڑوں پر آگ لگی۔

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کیا مارگلہ کے پہاڑوں پر سی ڈی اے والے خود آگ لگاتے ہیں؟  تو چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ کچھ کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں۔

عدالت نے مونال کے اطراف دیگر ریسٹورنٹس کی تفصیل طلب کرلی۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں