1

مانوس اجنبی۔ منحوس اجنبی – ایکسپریس اردو

ناصرکاظمی کو تواس ’’مانوس اجنبی‘‘ نے حیران کردیاتھا جوگئے دنوں کے سراغ لے کرآیا تھا لیکن ہم ہیں کہ گئے دنوں کا سراغ لے کر ہمارا مانوس اپنے ساتھ’’منحوس‘‘ ماضی لے کرآتا ہے بلکہ آتا رہتا ہے لیکن ہم حیران ہوتے ہیں نہ پریشان بلکہ ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی کہ ’’کون آیا‘‘ اورکون گیا۔

راہوں میں کون آیا گیا کچھ پتہ نہیں

اس کو تلاش کرتے رہے جو ملا نہیں

جی ہاں! ہم اسے تلاش کرتے رہے جو نہ تو ملاہے اورنہ کبھی ملے گا البتہ اس تلاش میں ہمیں، وہ، وہ، وہ ملتے رہے جو اپنی اپنی جگہ ، سوا سیر تھا لیکن جب تولا گیا تو وزن میں پرکاہ بھی نہ نکلا اورہم ایک ہی پرانا شعر دہراتے رہے۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

ایوب خان تھا جو اتنا دھڑکا تھا بلکہ دھڑکتا رہا کہ جیسے پوری زمین اور سارا آسمان بھی اس کے ساتھ دھڑکنے لگا ہو، ابھی اس کی دھڑکن کاشورتھما نہیں تھا کہ ایک اور’’دل‘‘ نے ایک دھماکے کے ساتھ دھڑکنے کا آغاز کیا ۔ اس کے بعد کتنے دل تھے جو آتے گئے اوردھڑکتے رہے لیکن ان تمام دلوں میں کسی سے بھی ایک قطرہ خون نہیں نکلا البتہ اکثر مقروض اور یکسر ملک کا، اس کے عوام کا اوراس کے ارمانوں کاخون سب نے جی بھر کرکیا، نہ صرف پیا بلکہ اپنی اپنی قوال پارٹیوں کو پلاتے بھی رہے۔

اس مالا مال ملک یامیری دھرتی سونا اگلے ، اگلے ہیرے موتی ، چاند میری زمیں پھول میرا وطن۔ اس سایہ خدائے ذوالجلال ، رہبر ترقی وکمال ، ترجمان ماضی شان حال اوررہبر ترقی وکمال پر قرضے کامنحوس سایہ۔ پہلے والے دل نے سو نہ ہزار نہ لاکھ صرف ڈھائی کروڑ ڈالر کا قرض ڈالا تھا جو بڑھتے بڑھتے ایک سو انتیس ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے ،اس ملک کا باشندہ جو ایک روپے کابھی مقروض نہیں تھا، آج پیدا ہونے والا ہربچہ پیدا ہونے سے پہلے ، دولاکھ پنتیس ہزار روپے کامقروض ہوتاہے، اس کے باوجود کہ وہ ظالم انگریز ہماری جو بے پناہ دولت باہرلے جارہے تھے ،وہ بھی ہماری ہوگئی تھی۔ سڑکوں، پلوں، دریاؤں، نہروں نالوں یہاں تک کہ سانس لینے پر ٹیکس ۔۔ لیکن پھربھی قرضہ ہے کہ بڑھتا چلاجارہا ہے ۔کشکول ہے کہ دنیا بھرکے ہرہردرپر پیش کیا جارہاہے ۔

سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ سونا اگلنے والی زمین ہمارے پاس ہے، اتنے محنت کش ہمارے پاس ہیں جو ہرسال لگ بھگ پنتیس ارب ڈالر زرمبادلہ ، غیر ممالک سے کما کر بھیجتے ہیں، کشتیوں میں ڈوب کر ، کنٹیرمیں دم گھٹ کر، صحراؤں میں جھلس جھلس کر کارخانوں میں خون پسینہ بہاکر ۔ایک اندازے کے مطابق ہماری آمدنی سات ہزار ارب سالانہ ہے جب کہ قرضہ اتارنے کے لیے آٹھ ہزار ارب سالانہ درکارہے۔ اس سارے رونے کو ملاکر اگر رویا جائے حالانکہ رونے سے نصیب نہیں بدلتے اور۔

ایک دو روزکا رونا ہو تو رولیں صاحب

ہم کو تو پے بہ پے صدمات نے رونے نہ دیا

دراصل یہ سارا المیہ ہی ان پے بہ پے صدمات کا ہے جو ہم اپنے آپ کو خود ہی پہنچاتے رہتے ہیں ، جن کا نام کبھی ایوب خان، کبھی یحیٰ خان ،کبھی بھٹو، کبھی ضیاء الحق، کبھی نوازشریف، کبھی بے نظیر کبھی زرداری ،کبھی بلاول، کبھی پرویز مشرف اورکبھی عمران ہوتا ہے ۔

ابتداء ہی سے ہم کسی ایسی معجزاتی شخصیت کے منتظر ہیں جو آئے گا اور ہماری قسمت بدل دے گا ،اسی شوق یالالچ یا تن آسانی میں ہم نئے نئے صدمات ڈھونڈڈھونڈ کر اپنے آپ کو پہنچاتے رہتے ہیں بلکہ ہم اتنے بے دماغ ( دماغی عدم استعمال) کی وجہ سے ہوچکے ہیں کہ یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کوئی صدمہ نیا نہیں ہوتا بلکہ پرانے ہی صدمے نئے نئے نام لے کر جنم لے رہے ہیں ۔

اپنے ہونے کا ثبوت اورنشاں چھوڑتی ہے

راستہ کوئی ’’ندی‘‘ایسے کہاں چھوڑتی ہے

قابل غورشعرہے ، اپنی تمام فیورٹ آتماؤں کو ذہن میں رکھ کر پڑھیئے۔

’’آتما‘‘ نام ہی رکھتی ہے نہ مذہب کوئی

وہ تو ’’مرتی ‘‘ ہی نہیں اپنا ’’مکان‘‘ چھوڑتی ہے

اب جو آتمائیں ہمیں الگ الگ لباسوں اور جسموں میں نظر آتی ہیں، یہ وہی آتمائیں ہیں جو کل کسی اور نام یا لباس میں تھیں۔یہ سارا سلسلہ ہی تن آسانی اور سہل انگار لوگوں کی وجہ سے بگڑاہواہے جو ہروقت بیٹھے بٹھائے، کسی معجزاتی اورطلسماتی نجات دہندے کے انتظار میں رہتے ہیں ، اس سلسلے میں شرف الدین عطار کی مثنوی’’منطق الطیر‘‘ بڑی چشم کشا تحریرہے ، مثنوی میں کہانی کے مطابق ایک دن پرندوں نے سوچا کہ سب کے بادشاہ ہوتے ہیں تو ہمارا بھی کوئی بادشاہ ہوناچاہیے۔ پھر کسی نے ان کو بتایا کہ بہت دور کوہستانوں میں ایک پرندہ سیمرغ نام کا رہتاہے جو تمہاری بادشاہت کے قابل ہے۔

اس پر پرندوں کا ایک بڑا قافلہ اس بادشادہ سیمرغ کو لانے کے لیے روانہ ہوا ، اس قافلے کو سات دشوار گزار اورجان لیوا گھاٹیوں سے گزرنا پڑا ، دراصل عطار نے یہاں ’’تصوف‘‘ اورراہ سلوک کی سات وادیوں کااستعارہ بیان کیا ہے۔ پرندوں کو ہر وادی سے گزرنے پر اپنے ساتھیوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ پرندے کم ہوتے جارہے ہیں، آخر کار جب وہ ساتویںاورآخری وادی میں پہنچتے ہیں تو صرف تیس پرندے رہ گئے ہوتے ہیں، پھر وہ اس وادی میں پکارتے ہیں کہ سیمرغ تم کہاں ہو، ہم تجھے اپنا بادشاہ بنانے کے لیے آئے ہیں ۔ تب ایک آواز آتی ہے کہ سیمرغ کوئی نہیں ، بلکہ تم تیس پرندے خود ہی سیمرغ ہوجاؤ اورخود پر خود ہی حکومت کرو۔

خود بھی کھوجاتی ہے ،مرجاتی ہے ،مٹ جاتی ہے

جب کوئی قوم کبھی اپنی زبان چھوڑتی ہے

ہم پاکستانی جس سیمرغ کے منتظر ہیں اورجسے ڈھونڈ رہے ہیں وہ نہ کبھی تھا نہ ہے اورنہ ہوگا۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں