1

مصنوعی ذہانت کی جنگ کون جیتے گا؟

گوگل، اوپن اے آئی اور دوسری ٹیکنالوجی کمپنیاں سبقت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ۔ فوٹو : فائل

گوگل، اوپن اے آئی اور دوسری ٹیکنالوجی کمپنیاں سبقت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ۔ فوٹو : فائل

مئی 2024 میں اوپن اے آئی کی چیف ٹیکنالوجی آفیسر مائرہ موراتی نے لائیو کانفرنس کے دوران اپنی کمپنی کی نئی پراڈکٹ ’جی پی ٹی فور او‘ کا لائیو ڈیمو دکھایا اورساتھ ہی ساتھ جی پی ٹی 3.5 میں نئی اپ ڈیٹس متعارف کرائی گئیں۔

حیران کن طور پر اوپن اے آئی کا یہ ورژن ’جی پی ٹی فور او‘ نہ صرف پہلے سے زیادہ تیز، اپ ڈیٹڈ اور رئیل ٹائم جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ یہ انسانی جذبات اور احساسات کو بھی سمجھ سکتا ہے یا کم از کم ایسا دکھاوا ضرور کرتا ہے اور بالکل اسی طرح سے جواب بھی دیتا ہے۔

’جی پی ٹی فور او‘ میں میں او کا مطلب اومنی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ملٹی لینگویج ماڈل ہے جو کہ نہ صرف ٹیکسٹ کی شکل میں جواب دے سکتا ہے بلکہ تصاویر، آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں بھی جواب دیتا ہے۔ اوپن اے آئی کی جانب سے سٹریم کیے گئے لائیو ڈیمو کے دوران اس نے دو مختلف زبانیں بولنے والے انسانوں کے دوران رئیل ٹائم مترجم کا کردار بھی ادا کیا، نیند نہ آنے کی صورت میں کہانیاں بھی سنائیں، گانے بھی سنائے اور ذہنی دباؤ کا شکار ایک انسان کو اسے دور کرنے کے مشورے بھی دئیے۔ یہ محض انسانی چہرے کو دیکھ کر اس کے تاثرات جان سکتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسا کہ کوئی بھی دوسرا انسان۔

یہ انسانوں کے ساتھ فلرٹ بھی کر سکتا ہے اور ان کی کھوئی ہوئی چیزیں ڈھونڈنے میں مدد کر سکتا ہے۔ ’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے جاری کردہ مختلف ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح یہ بصارت سے محروم افراد کی رہنمائی کر رہا ہے اور انہیں ٹیکسی کو ڈھونڈنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ایک اہم چیز یہ ہے کہ آپ اس نئے ماڈل کو جواب دینے کے دوران روک کر نیا سوال بھی پوچھ سکتے ہیں۔

اس کے اندر میموری یا یادداشت کا فیچر بھی موجود ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ اب آپ کی پہلے سے بتائی گئی باتوں کو دیر تک یاد بھی رکھ سکتا ہے۔ اس کا وائس چیٹنگ اور تصاویر کا تجزیہ کرنے والا فیچر، نان پریمیم ورژن کے سبسکرائبرز کے لیے بھی موجود ہے جس کو ہم نے بھی آزمایا اور یہ انتہائی متاثر کن تھا۔ لیکن اس کا فری ورژن انتہائی محدود مدت کے لیے دستیاب ہوتا ہے اور اس کے بعد یہ آپ کے سوالات کے جواب نہیں دے پاتا۔

مشہور زمانہ خان اکیڈمی کے بانی سال خان نے اپنی ویڈیو جاری کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے بیٹے کو ریاضی کے سوالات حل کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں اس کو دو کھلاڑیوں کے درمیان ریفری کا رول بھی ادا کرتے دیکھا جا سکتا ہے اور یہ بالکل کسی بھی انسان کی طرح ان کو کھیل شروع کرنے، ہارنے اور جیتنے والے کا اعلان کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر آپ سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگانا چاہتے ہیں لیکن منڈی کی پیچیدہ اصطلاحات اور لین دین آپ کی سمجھ سے باہر ہے تو یہ آپ کو بہت سادہ زبان میں مارکیٹ کا تجزیہ پیش کر کے دے سکتا ہے جو کہ کسی بھی معاشی امور کے ماہر کے تجزیے کی نسبت بالکل آسان ہوگا۔

’اوپن اے آئی‘ نے اپنی اس پراڈکٹ کو مارکیٹ میں لانچ کر کے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا اور اس کے فوراً بعد گوگل اور اس کی لیڈرشپ پر تنقید ہونے لگی اور یہ سمجھا جانے لگا کہ گوگل مصنوعی ذہانت کی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ کافی عرصے سے گوگل کے انڈین نژاد سی ای او سندر پچائی اور ان کی قیادت پر تنقید ہو رہی ہے اور ان کو جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہنے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن محض ایک دن بعد گوگل نے اپنی سالانہ کانفرنس ’گوگل آئی او‘ کے دوران اپنے پراجیکٹ کا اعلان کیا۔

فروری 2024 میں اوپن اے آئی نے اپنے ویڈیو کری ایشن کے ٹول ’سورا اے آئی‘ کا اعلان کیا اور اس کے ذریعے بنائی گئی چند ویڈیو ریلیز کیں اور اسے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب تصور کیا جانے لگا۔ اسی وقت سے گوگل پر بھی یہ دباؤ تھا کہ وہ اپنے ایسے کسی پراجیکٹ کا اعلان کریں۔ ’گوگل آئی او‘ سے دو دن قبل گوگل ہیڈ کوارٹر میں بلوم برگ سے انٹرویو کے دوران یہی سوال سندر پچائی سے پوچھا گیا جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گوگل کی پراڈکٹ چونکہ زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہیں تو نتیجتاً آپ کو محتاط ہونا پڑتا ہے۔

14 مئی کو ’گوگل آئی او‘ کے دوران ایلفابیٹ اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور ان کی ٹیم نے ایک گھنٹے سے طویل پریزنٹیشن کے دوران ’جیمینائی‘ میں اپ ڈیٹس، پراجیکٹ آسٹرا، اے آئی اوور وئیو، ویڈیو کے ذریعے سوالات اور امیجن 3 کے متعلق بتایا۔ گوگل نے اوپن اے آئی کے سورا اے آئی کے مدمقابل ویڈیو جنریٹو ٹول ’ویو‘ کا اعلان کیا جو کہ ٹیکسٹ، تصاویر یا ویڈیو پرامپٹس کی مدد سے 1080 پی تک اعلیٰ کوالٹی کی ویڈیوز جنریٹ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تصاویر جنریٹ کرنے کے ٹول امیجن 3 میں بھی مزید اصلاحات کا اعلان کیا گیا۔

جیمینائی اور پراجیکٹ آسٹرا

اس دفعہ گوگل کانفرنس کے دوران ساری دنیا کی نظریں اس پر تھیں کہ آخر گوگل ’اوپن اے آئی‘ کے مقابل کونسی پراڈکٹ لے کر آئے گا۔ اوپن اے آئی کی طرف سے محض ایک دن قبل اپنی پراڈکٹ لانچ کرنے کے اعلان کو بھی اسی نظر سے دیکھا گیا کہ یہ گوگل کے لیے ایک چیلنج ہے۔

گوگل کے پراجیکٹ آسٹرا میں زیادہ تر وہی خصوصیات اور صلاحیتیں ہیں جو کہ ’جی پی ٹی فور او‘ میں ہیں۔ یہ بھی سننے دیکھنے اور چیزیں ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ ’جیمینائی‘ جس کو کہ پہلے گوگل بارڈ کہا جاتا تھا، پاکستان جیسے ممالک میں اس کی موبائل ایپلیکیشن دستیاب ہی نہیں ہے لیکن ویب سائٹ کے ذریعے اس تک رسائی ممکن ہے۔ جو چیز اس کو چیٹ جی پی ٹی سے ممتاز بناتی ہے وہ اس کا انٹرنیٹ سے جڑے ہونا ہے، جس کی وجہ سے یہ آپ کو تازہ ترین معلومات بھی فراہم کرسکتا ہے۔

تقریباً دو دہائیوں سے دنیا گوگل سرچ کا استعمال کر رہی ہے اور یہ اس کمپنی کی پہچان کی بہت بڑی وجہ ہے لیکن اب گوگل نے اس میں بھی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔

موجودہ طریقہ کار تو یہ ہے کہ آپ کوئی بھی سوال گوگل سے پوچھتے ہیں اور آپ کے پاس لاتعداد ویب سائٹس آ جاتی ہے اور آپ کسی پر بھی جا کر اپنی مرضی کا آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں لیکن اب سے ایسا نہیں ہو گا۔ گوگل کے ’اے آئی اوور وئیو‘ کی مدد سے گوگل آپ کے سوال کے جواب کا مختلف ویب سائٹس سے ڈیٹا اکٹھا کر کے، آپ کو خلاصہ مہیا کر دے گا۔ اس کے علاوہ اب سے ویڈیو کے ذریعے سرچ کرنے کا آپشن بھی آپ کے پاس موجود ہو گا جو کہ ایک اور انقلابی قدم ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ایجاد اور اس کے موجودہ ارتقاء کو کئی ماہرین آگ کی ایجاد سے تشبیہہ دے رہے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ آگ کی ایجاد، زرعی انقلاب، مذاہب اور سلطنتوں کے قیام، سائنسی اور صنعتی انقلاب، انٹرنیٹ کی ایجاد، اور سمارٹ فون کی آمد، ان سب نے انسانوں پر فیصلہ کن اثرات مرتب کیے۔

لوگوں کے رہنے، ملنے جلنے، تعلقات بنانے اور معاشروں کی پوری ہیئت کو بدل ڈالا۔ پہلے اس طرح کی کوئی ایجاد ہزاروں سالوں میں ہوا کرتی تھی لیکن اگر ہم گزشتہ کچھ دہائیوں پر نظر ڈالیں تو ہر دو دہائیوں بعد کوئی ایسی انقلابی تبدیلی آتی ہے جو کہ ہماری زندگیوں کو پوری طرح سے الٹ پلٹ کر دیتی ہے اور یہی کچھ مصنوعی ذہانت کرنے جا رہی ہے اور کر رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیز میں اس وقت بقا کی جنگ چل رہی ہے۔ جو پیچھے رہ گیا، وہ کوڈک کی طرح تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ اسی لیے ’ایپل‘ خود کو اس مقابلے میں رکھنے کے لیے ’اوپن اے آئی‘ کے ساتھ معاہدے کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف ان کمپنیوں کے لیے بقا کی جنگ ہے، خود ہمارے لیے بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔ اگلے دو سالوں میں جاب مارکیٹ بالکل تبدیل ہو جائے گی اور روایتی طریقے سے چلنے والوں کے لیے بقا مشکل ہو جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق مصنوعی ذہانت کی وجہ سے چالیس فیصد ملازمتیں بالکل ختم ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کاری کے عالمی ادارے ’گولڈمین سیچس‘ رپورٹ کے مطابق تقریباً 30 کروڑ ملازمتیں اے آئی کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 تک مصنوعی ذہانت ساڑھے آٹھ کروڑ ملازمتوں کو ختم کر دے گی جبکہ ریٹیل سیکٹر کی 65 فیصد ملازمتیں اسی سال ختم ہو سکتی ہیں۔ وقت ہے کہ خود کو ’اے آئی اسکلز‘ سے ہم آہنگ کر لیں اور ملک و قوم کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔ ورنہ ہماری داستاں نہ ہو گی داستانوں میں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں