1

میرا سوال کرنا گناہ کبیرہ ہے تو یہ کرتا رہوں گا: فیصل واوڈا

  کراچی:سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ نے 9 مئی کو کیا کروایا، پلاننگ اور اشتعال دلانے کے بعد آپ اس سے بری الذمہ ہو گئے کہ ہم نے نہیں کیا۔ ان بچوں کو لاوارث چھوڑ دیا جنہوں نے یہ کام کیا تھا۔ اب آپ نے 71کی جنگ کا کام کردیا۔ اس سے پہلے آپ نے ایس آئی ایف سی کے اوپر سپہ سالار کی تصویریں لگائیں ان ساری چیزوں کو جوڑا جائے تو صورت حال واضح ہوجائے گی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ پھر ایم کیو ایم لندن نے کیا قصورکیا تھا؟ اس پر کس کھاتے میں پابندی لگائی گئی؟تحریک لبیک والے ملک کے ساتھ ، فوج کے ساتھ  اور وہ عدالتی نظام کے ساتھ مخلص ہیں، انہیں فورتھ شیڈول میں کس کھاتے میں ڈالا ہوا ہے؟ کیا اس وجہ سے کہ وہ ٹوپی پہنتے ہیں، شلوار قیمض پہنتے ہیں، داڑھی رکھتے ہیں؟ یہ امتیاز کیوں ہے۔

انہوں نے کاہ کہ دوسرا یہ کہ 71 پر ٹویٹ کر کے اس کو ڈیلیٹ نہیں کیا، پھرآپ ڈسٹنٹ ہو گئے، جو ہمیشہ کی طرح ہے، پہلے آ گلا پکڑتے ہیں پھر پیر پکڑ لیتے ہیں۔ پھر آپ (ن) لیگ کو برا بھلا کہتے تھے۔ یہ ڈاٹس ایک جگہ ہو رہے ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لوگ سوشل میڈیا پر تنقید کر رہے ہیں پی ٹی آئی کے بیانیے کی۔ جس کے شواہد اب موجود ہیں۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ تیسری طرف آپ جو نظام عدل دیکھ رہے ہیں، اس میں ڈگا ڈگ، ڈگا ڈگ، ڈگاڈگ ریلیف مل رہے ہیں، ایک کینوس میں رکھیں تو آپ کو ساری فلم نظر آجائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ویسے تو ہم نے 75 سالوں میں چھ کو نو اور نو کو چھ ہوتے دیکھا ہے ، جو فلم ہم دیکھ رہے ہیں، اس فلم کے تحت تو ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تو توہین کے قریب سے بھی نہیں گزرا، مجھے بلائیں گے؟ بھئی جنہوں نے توہین کی ہے، مولانا صاحب نے کہا ہے سپریم کورٹ کے باہر آکرڈنڈے لاٹھیوں سے گھسیٹوں گا۔ شہباز شریف نے کالی بھیٹریں کہا ہے۔ رﺅف حسن صاحب نے کہا ٹاﺅٹ ، اور ان کے پی ٹی آئی کے بندے ہیں، کیونکہ ان کی ٹرولنگ ہوتی ہے تو ان سے کوئی پنگا نہیں لے سکتا۔

’میں نے تو ایک سوال کیا، میں تو چاہتا تھا کہ وہ تنازع ختم ہو جائے بابر ستار اور اطہر من اللہ صاحب کی۔ میں نے جب سوال کیا جو جواب آیا اس میں تضاد اور تاثر آگیا، غلط بیانی ہوئی اس کے اندر۔ اب اگر میرا یہ سوال کرنا توہین ہے ، گناہ کبیرہ ہے تو میں یہ گناہ کبیرہ تو کرتا رہوں گا۔ میں تو کنٹیمپٹ کے قریب سے بھی نہیں گزرا ہوں۔ گھسیٹ کر لے آئے ہیں، پچاس بندوقیں میرے سر پر رکھ کر کہ کنٹیمپٹ آف کورٹ ہے۔ بھئی کنٹیمپٹ تو پاکستان کا ہور ہا ہے‘ ۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مصطفٰی کمال کے سوال کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں لیکن میرے حساب سے انسان کی جو زبان ہے اس پر انسان کو کھڑے رہنا چاہیے اور اگر غلط ہو تو تھڑے پر بیٹھنے والے سے بھی معافی مانگ لینی چاہیے، معافی مانگنا ایک طاقت ہے۔ اگر میں غلط ہوں تو تھڑے پر بھی معافی مانگ لوں گا، کیمرے کے سامنے مانگ لوں گا، ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لوں گا۔ کالی بھیٹریں آپ کے ادارے میں بھی ہیں، کسی اور ادارے میں بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہاں انسان ہیں ، وہاں کالی بھیٹریں بھی ہیں، انہیں متنازع، جرائم پیشہ یا کرپٹ شخصیات کہہ لیں،انصاف میں ہم پہلے نمبر پر تھوڑی ہیں، ایک سو چالیسویں نمبر پر ہیں۔ یہ کس وجہ سے ہے؟ میں نے تو نہیں اس کی گرافکس بنائی یا میں نے تو اس کی ریشو نہیں بنائی۔ انسان کو ڈرنا چاہیے، میں جس طرح پیدا ہوا ہوں، جس طرح میرا دماغ ہے۔ آپ اللہ سے ڈریں۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ۔ انسان کی میں قدر کر سکتاہوں، عزت کر سکتا ہوں، انسان سے ڈر نہیں سکتا میں۔ آپ کی زبان ہی نہیں ہے۔ آپ کاروبار زبان پر کرتے ہیں رشتے زبان پر کرتے ہیں، دنیا کا ہر کام زبان پر ہوتا ہے۔ اگر آپ کی کمٹمنٹ نہیں ، زبان ہی نہیں ہے آپ کی تو پھر آپ انسان ہی نہیں ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں نے اگر کوئی سوال کیا ہے 19(a) کے تحت اس میں آپ مجھے کنٹیمپٹ میں لے جا رہے ہیں۔ کنٹیمپٹ وہ ہے جو ، نسلا ٹاور گرا وہ کنٹیمپٹ پاکستانی قوم کے ساتھ ہوئی ہے۔ جس نے ریکوڈک میں اربوں روپے کا نقصان عدالتی نظام نے کیا اس کو سز ادیں، اربوں روپے بھروائیں۔ آپ نے پھانسی دی، اس ڈکٹیٹر کو بے شک علامتی ہی صحیح مگر سزا دیں۔ میں نے جو کام کیا ہے، میں تو اپنی بات سے نہیں ہٹ رہا ۔ میں نے مجموعی بات کی ہے۔ ایک تاثر مجھے یہ لگتا ہے کہ یا کسی کو یہ لگ رہا ہے کہ میرے پاس شواہد ہیں ، کیونکہ میں نے جتنی باتیں کی ہیں اس پریس کانفرنس کے بعد وہ بیکڈ بائے ایویڈنس ہیں۔ مجھے پراکسی کہا گیا، اس میں نوٹس کیوں نہیں ہوا؟ میری نسل کے اوپر انٹیگریٹی تباہ کر دی ، کنٹیمپٹ ہے میری زندگی کے ساتھ، میرے ماں، باپ کے ساتھ، باپ دادا کی عزت کے ساتھ، اس پر تو ابھی تک کوئی نوٹس نہیں آیا ہے۔ آپ برابری کریں، یہ نہیں ہو سکتا ،میرے ٹائم پہ چھ ان کے ٹائم پہ نو ہو جائے گا۔

سینیٹر واوڈا کا کہنا تھا کہ ان کے ٹائم پہ چھ اور میرے ٹائم پہ نو ہو جائے گا ۔یہ نو اور چھ کا حرف کھیلنا بند ہونا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالتی نظام بغیر کسی الزام کے اپنا کام کرے۔ میں جا کیوں رہا ہوں؟ میں جا اس لیے رہا ہوں کہ سپریم کورٹ کا وقار ہے، اس کے چیف جسٹس اور اس کے ججوں کا احترام ہے۔ اس کے لیے جا رہا ہوں۔ لیکن میرا یہ تو حق ہے ناکہ میں معزز اُس کے ساتھ لگاﺅں جس کو میں سمجھوں گا۔ یہ تو میرا رائٹ کوئی نہیں لے سکتا۔ میں تو بڑی سادہ حکمت عملی پکڑ رہا ہوں۔ میں نے تو عدت کیس کی ہمیشہ مذمت کی۔ لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کی ٹرولنگ ہو، جج کو ٹاﺅٹ بلا لیں۔آپ جج کی پگڑی اچھال دیں۔ جب فیصلہ آپ کے حق میں آجائے تو آپ کہیں کہ ججوں کی واہ واہ ہے۔ یہ تو پوسیبل نہیں ہے۔ آپ کی کوئی بات نہ سنے تو ، چیف آف آرمی اسٹاف کس نے لگنا ہے، یہ ہماراکام تھا؟ آپ آگ لگانے روڈ پر نکل آتے ہیں۔آپ ٹینک اور تنصیبات اڑا دیتے ہیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں