1

وزیراعظم کی برآمدات کے فروغ اور کاروبار میں آسانی کیلیے پالیسی تیار کرنے کی ہدایت

 اسلام آباد:وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے برآمدات کے فروغ اور کاروبار میں آسانی کے لیے تجارتی پالیسی تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

تجارت کے شعبے کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ایسی تجارتی پالیسی تیارکرنے کی ضرورت ہے جس سے کاروبار میں آسانیاں اور سہولت ہو۔ ملکی برآمدات کو مزید مسابقتی بنانے کے حوالے سے فوری اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر روایتی اشیا کی برآمدات کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔ تجارت اور کاروبار میں آسانی کے حوالے سے پالیساں بناتے ہوئے نجی شعبے سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ ملکی ترقی میں نجی شعبے اور صنعت کا کردار انتہائی اہم ہے۔ برآمد کنندگان کے مصدقہ ڈیوٹی ڈرابیکس فوری ادا کیے جائیں۔

وزیراعظم نے تاکید کی کہ ملکی آٹو سیکٹر کی ترقی کے لیے ڈیلیشن (deletion) پالیسی پر عمل درآمد کرایا جائے اور بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں تعینات ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے ٹریڈ افسران کی پذیرائی ہو گی جبکہ خراب کارکردگی دکھانے والے افسران کی سخت سرزنش اور عہدوں سے ہٹایا جائے گا۔

وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ برآمدی شعبے کا ہر ماہ میں دو مرتبہ خودجائزہ لوں گا۔

اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے بات چیت حتمی مراحل میں ہے۔ ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ راہداری تجارت کے معاہدے فعال ہو چکے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں حالیہ پاک سعودی بزنس کانفرنس میں 450 بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں ہوئیں ۔

بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ ای کامرس کے حجم میں بتدریج اضافہ ہو رہاہے ۔ پاکستان ٹریڈ پورٹل ہر 3 ہزار سے زائد کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں نگرانی کا عمل سخت کیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر انشورنس کمپنیز کے پریمیم گروتھ ڈبل ڈیجٹ میں ہے۔ جیم (Gem) ایکسپورٹ فریم ورک پر کام حتمی مراحل میں ہے۔

اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ایران اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کی آپریشنلائیزین کے حوالے سے دونوں ممالک نے اصولی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ آذربائجان اور افغانستان کے ساتھ پریفرینشیل تجارتی معاہدے کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جا رہی ہے۔ نئی اسٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی کے حوالے سے ضروری مشاورت بھی جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وزیر پیٹرولیم مصدق ملک ، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان ، گورنر اسٹیٹ بینک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں