8

پاک چین مشترکہ شراکت داری، اہم سنگ میل

سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی فیصلہ کیا ہے کہ تمام ممالک سے اقتصادی تعلقات بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ فوٹو : انٹرنیٹ

سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی فیصلہ کیا ہے کہ تمام ممالک سے اقتصادی تعلقات بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ فوٹو : انٹرنیٹ

وزیراعظم شہباز شریف پانچ روزہ دورے پر چین پہنچ گئے، وہ دورے کے پہلے مرحلے میں چین کے شہر شنیزن پہنچے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے اشتراک اور سرمایہ کاری سے ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستان چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت و دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ کا خواہاں ہے۔ سی پیک ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

خطے کے بدلتے حالات اور اقتصادی مشکلات سے نکلنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورئہ چین کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کے دورہ چین کو مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے اقتصادی منظر نامے کو نئی شکل میں ڈھالتے ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی سربراہی کر رہے ہیں، اس شاندار منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط کو فروغ دینا ہے۔

سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، یہ منصوبہ دونوں قوموں کے درمیان ترقی کی نئی راہوں کی تلاش، صنعتی فروغ، زرعی جدت اور سائنسی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔ 2015 میں آغاز کردہ یہ منصوبہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی زیر حکومت بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا اہم حصہ ہے، جو کہ خطے میں تعلقات کی مضبوط اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا عظیم منصوبہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ اس لیے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ پاکستان نے موجودہ معاشی صورتِ حال کو درست کرنے کے لیے جیو پالیٹکس سے نکل کر جیو اکنامکس کی طرف جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان کی حکومت تمام دنیا کے ممالک سے اچھے تعلقات چاہتی ہے جس کی نوعیت معاشی تعلقات کی بنیاد پر ہو گی۔ حکومت نے اس ضمن میں کافی متحرک سفارت کاری کی ہے اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا کے وفود کے تبادلے ہوئے ہیں اور چین کا دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد ملک میں نئی سرمایہ کاری لانا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے چین کے ساتھ بڑھتے اقتصادی و دفاعی تعلقات پر امریکا تنبیہ کرتا رہا ہے۔ امریکا نے پاکستان کو سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ اس سے چین کو تو فائدہ پہنچے گا، لیکن پاکستان کی خواہش ہو گی کہ وہ ماضی کی طرح کسی بلاک کا حصہ بنے بغیر امریکا اور چین کو قریب لانے میں کردار ادا کرے۔ پاکستان کے چین سے تعلقات مستقل ہیں جب کہ امریکا سے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ پاکستان نے 75 سال سے چین اور امریکا سے تعلقات میں توازن رکھا ہوا ہے اور اگر توازن نہ رکھا ہوتا تو چین سے تعلقات آگے نہ بڑھتے کیوں کہ ہم نے اس معاملے میں امریکی دباؤ کو قبول نہیں کیا۔ اس سے قبل امریکا کو پاکستان اور چین کے معاشی تعلقات پر اعتراض نہیں تھا جو کہ اب دیکھنے میں آرہا ہے۔

سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی فیصلہ کیا ہے کہ تمام ممالک سے اقتصادی تعلقات بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ پچھلے کچھ عرصے میں ملک سیاسی و داخلی غیر یقینی کا شکار رہا ہے جس سے اب نئی حکومت باہر نکل رہی ہے، ایسے میں یہ ضروری تھا کہ دونوں ملکوں کی قیادت بیٹھے اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لائحہ عمل پر اتفاق کرے۔ سی پیک شروع سے دو حصوں پر مشتمل تھا۔

پہلے مرحلے میں توانائی اور مواصلاتی نظام بہتر کرنے کے بعد صنعتیں اور ٹیکنالوجی پر کام کرنا شامل تھا۔ سی پیک فیز ٹو میں صنعت کے ساتھ ساتھ، زراعت، آئی ٹی اور تعلیم پر خاص توجہ دی جائے گی اور ریلوے لائن ایم ایل ون بچھائی جائے گی، کیونکہ بڑے پیمانے پر تجارت سڑکوں سے نہیں بلکہ سمندر یا ریل کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ ہماری معیشت کا دار و مدار زراعت پر ہے اور چین سے زرعی ٹیکنالوجی کے حصول کے ذریعے زراعت میں بہتری لائی جائے گی۔

پچھلی حکومت کے سی پیک منصوبوں پر شکوک و شبہات کے اظہار کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے، اگرچہ چین نے اس کا اظہار اعلانیہ طور پر نہیں کیا تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت پر سی پیک منصوبوں کی رفتار سست کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔

سی پیک کے زیادہ تر منصوبے وقت پر مکمل ہوئے ہیں اور تاخیر کے حوالے سے باتیں حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ چین کی یہ پالیسی رہی ہے کہ اس نے پاکستان کی ضروریات کے مطابق اپنی پالیسی کو ترتیب دیا ہے اور اس دفعہ بھی یہی توقع ہے کہ چین پاکستان کی ضروریات کے مطابق فیز ٹو کے منصوبوں کر ترتیب دے گا۔ کافی عرصے سے سی پیک میں نئے منصوبے شامل نہیں ہوئے ہیں اور فیز ٹو کے ذریعے نئے منصوبے لائے جانے کا امکان ہے۔

سی پیک نے پاکستان میں نمایاں پیش رفت ظاہر کی جس کے نتیجے میں جدید شاہراہوں، ریلویز اور ہوائی اڈوں کے انفرا اسٹرکچر نے جہاں سفر کے دورانیے کو کم کیا وہیں تجارتی امکانات کو بھی روشن کیا۔ منصوبے میں توانائی کے حوالے سے 10,000 میگاواٹ کے گرڈ اسٹیشن جیسے اقدامات نے بجلی کی قلت کو تاریخ کا حصہ بناتے ہوئے صنعتی توسیع کو تقویت دی۔ نو شاندار اکنامک زون کی موجودگی بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کے ساتھ نئے کاروبار اور روزگار کے مواقعے بھی پیدا کر رہی ہے۔

روزگار اور معاشی ترقی کو ہوا دیتے ہوئے سی پیک پاکستان کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے، اسی طرح خطے میں اس کی مرکزی اقتصادی حیثیت کی بنیاد پر مزید ترقی اور غربت کے خاتمے کی اہمیت کے پیش نظر اس کے عالمی مقام میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سی پیک فیز 2 کے آغاز کے ساتھ، پاکستان میں اقتصادی ترقی کی نئی لہر آئی ہے، جو علاقائی تجارت اور کاروبار میں اس کے کلیدی کردارکو مزید مستحکم کررہی ہے۔ سی پیک پر پیشرفت میں تیز ی لانے کے لیے حکومت نے کثیر جہتی طریقہ کار اختیار کیا ہے۔

انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ، پاور جنریشن اور صنعتی تعاون کو ترجیح دیتے ہوئے تیزی سے کام کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک کو بھی مضبوط کیا گیا، جو ایک مربوط اور باہمی تعاون پر مبنی نقطہ نظر کو یقینی بناتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنے دور میں بھی سی پیک منصوبوں کو موثر انداز میں فعال بنانے کے لیے ان کی بروقت تکمیل اور ترقی کو یقینی بنایا تھا۔ ان کی نگرانی میں، لاہور میں بننے والی اورنج لائن میٹرو ٹرین جیسے اہم انفرا اسٹرکچرز کی ترقی نے شہری نقل و حرکت میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

شہباز شریف نے سی پیک میں توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دی ہے، جس کی مثال ساہیوال کول پاور پروجیکٹ کی جلد تکمیل ہے، جس سے 1,320 میگاواٹ بجلی حاصل اور لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی میں کردار ادا کیا۔ ان کے اسی اسٹرٹیجک وژن اور انتظامی مہارت نے چینی سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے قیام میں سہولت فراہم کی۔ ایک قابل ذکر مثال فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی ہے، جس نے ملازمت کے ہزاروں مواقع پیدا کیے اور صنعتی پیداوار میں اضافہ کیا۔

سی پیک کے متنازعہ کشمیری علاقے سے گزرنے والے راستے پر ہندوستانی موقف اور درپیش چیلنجوں کے باوجود، شہباز شریف سی پیک کے دوسرے مرحلے کی کامیابی سے پرُامید ہیں۔ پہلا مرحلہ، جس میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ دی گئی تھی، کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ آنے والے مرحلے میں زرعی پروجیکٹس، پاکستان ریلویز کی مین لائن1، بزنس ٹو بزنس ڈیلز اور شاہراہ قراقرم کی از سر نوترقی پر کام شامل ہے۔

شہباز شریف کی زیر قیادت سی پیک کے معاشی اثرات انتہائی نمایاں رہے۔ انفرااسٹرکچر کی ترقی، جیسا کہ ملتان سکھر موٹروے نے نقل و حرکت کو آسان کیا، سفر کا وقت کم اور کاروباری حضرات، مسافروں اور سیاحوں کے لیے یکساں طور پر خرچ میں کمی کا باعث بنی۔

سی پیک پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے گیم چینجر ہے۔ منصوبے نے پہلے ہی ملکی معیشت پر اپنے مثبت اثرات مرتب کرتے ہوئے دورے کے دوران پاکستان اور چین کے مابین نہ صرف سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مثبت پیش رفت، اسٹرٹیجک شرکت داری بلکہ تجارت و سرمایہ کاری، دفاع، قومی و علاقائی سلامتی، توانائی، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم و ہنر اور ثقافتی شعبے میں تعاون کے فروغ پر گفتگو ہوگی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے حوالے سے ماہرین کی آراء ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مثبت سمت دینے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ہم ان سطورکے ذریعے وزیر اعظم شہباز شریف کے کامیاب دورہ چین کے خواہاں ہیں اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کے پرجوش آغاز کی توقع رکھتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور دوستی کو مزید فروغ اور تقویت ملے گی۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں