1

پروجیکٹ ریٹرو – ایکسپریس اردو

ڈینیئل ایلسبرگ کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ جب سوویت میزائل اپنے اہداف سے چُوک جائیں گے ۔ فوٹو : فائل

ڈینیئل ایلسبرگ کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ جب سوویت میزائل اپنے اہداف سے چُوک جائیں گے ۔ فوٹو : فائل

1960 میں جب کہ امریکا اور سابق سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ عروج پر تھی، امریکا نے اپنی سرزمین کو روسی نیوکلیائی ہتھیاروں سے محفوظ رکھنے کے لیے زمین کی گردش کو روک دینے کا حیران کُن منصوبہ بنایا تھا۔

اس انتہائی خفیہ منصوبے کو ’پروجیکٹ ریٹرو‘ کا نام دیا گیا تھا جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ اگر سوویت یونین نے ایٹمی میزائل چلائے تو امریکا ایک ہزار بڑے اٹلس راکٹ فائر کردے گا جو ایٹمی ہتھیاروں اور خلائی جہازوں کو لے جانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ جب ایک ہزار راکٹ بہ یک وقت چلائے جائیں گے تو ان کے چلنے سے زمین پر زبردست قسم کی دھکیل کی قوت (تھرسٹ) پیدا ہوگی، جس کے اثر سے زمین کی گردش عارضی طور پر رک جائے گی۔ زمین کی گردش تھم جانے کی صورت میں امریکی اڈوں کی جانب بڑھتے ہوئے ر وسی میزائل نشانے پر نہیں لگ پائیں گے اور آگے نکل جائیں گے۔

پروجیکٹ ریٹرو میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ جب امریکا کے میزائل ڈٹیکشن سسٹم قطب شمالی پر روسی میزائلوں کو ڈکوٹا، ویومنگ، مونٹانا اور میسوری کے میزائل بیس کی جانب بڑھتے ہوئے ’دیکھ‘ لیں گے تو پھر یہ اٹلس راکٹ فائر کردیے جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں زمین کی گردش تھم جائے گی اور روسی میزائل اپنے اہداف سے آگے نکل جائیں گے۔

اس انوکھے امریکی منصوبے کا ذکر ایٹمی جنگ کی منصوبہ بندی کے ماہر ڈینیئل ایلسبرگ نے اپنی کتاب The Doomsday Machine  میں کیا ہے۔

ڈینیئل ایلسبرگ نے 1971 میں ویت نام جنگ سے متعلق پینٹاگون کی انتہائی خفیہ دستاویزات کو طشت از بام کرنے پر شہرت پائی تھی۔ ان کے اس قدم سے امریکا میں قومی سیاسی تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ خفیہ دستاویزات کو منظرعام لے آنے کی پاداش میں ڈینیئل پر غداری اور سازش کے الزامات عائد کیے گئے جن سے عدالت نے دو سال بعد انہیں بری قرار دے دیا تھا۔

ڈینیئل ایلسبرگ، جو گذشتہ برس جون میں انتقال کرگئے، نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب یہ منصوبہ ان کے سامنے آیا تو پہلے پہل وہ اسے مذاق سمجھے، تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ اس مجوزہ منصوبے پر اعلیٰ عسکری حکام کے دستخط موجود تھے تو انہیں احساس ہوا کہ زمین کی گردش روک دینے کی یہ تجویز مذاق نہیں تھی۔

ڈینیئل ایلسبرگ کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ جب سوویت میزائل اپنے اہداف سے چُوک جائیں گے، اور زمین کی گردش عارضی وقفے کے بعد بحال ہوجائے گی تو پھر ہماری (امریکا کی) بری افواج سوویت یونین کے شہروں اور نسبتاً آسان عسکری اہداف کو نشانہ بنائیں، تاہم ڈینئل کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں متعدد خامیاں تھیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ اس منصوبے کی خامیوں کا اندازہ کرنے کے لیے آپ کا ارضیاتی طبیعات کا ماہر ہونا بھی ضروری نہیں۔ ارضیاتی گردش کے تھم جانے کا مطلب ہے کہ زمین کی سطح پر موجود چٹانیں، ہوا اور پانی سمیت ہر شے اپنے زاویائی مومینٹم کی وجہ سے انتہائی تیزرفتاری سے حرکت میں آجاتی اور تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہوتی۔

اس کے نتیجے میں ساحلی شہر سونامی کی نذر ہوجاتے جب کہ خشکی پر بنی ہوئی تمام عمارتیں منہدم ہوجاتیں اور سطح ارض پر چہار سو تباہی پھیل جاتی، پھر امریکی بری افواج کو سوویت یونین پر حملے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ نہ تو سوویت یونین باقی رہتا اور نہ ہی امریکا اور نہ ہی روئے زمین پر کوئی فرد زندہ بچتا۔

دوسری جانب ڈینیئل نے اس منصوبے کے سلسلے میں ایک ماہرطبیعیات کی رائے لی تو اس کا کہنا تھا کہ یہ خیال ہی احمقانہ ہے کہ بہ یک وقت ایک ہزار راکٹ چلانے سے زمین کی گردش رک جائے گی، اور اگر آپ کسی طرح ایسا کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو بہت ممکن ہے کہ زمین کا گولہ شق ہوکر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے اور روئے زمین پر قیامت برپا ہوجائے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں