1

پھر روتے ہیں – ایکسپریس اردو

جیسے شیخ مجیب ایک کٹھ پتلی تھا، کیا آپ بھی کٹھ پتلی ہیں؟ (فوٹو: فائل)

جیسے شیخ مجیب ایک کٹھ پتلی تھا، کیا آپ بھی کٹھ پتلی ہیں؟ (فوٹو: فائل)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا سب سے بہترین ہے، امریکا کے ٹرمپ کے بعد اگر کسی نے سوشل میڈیا کو سمجھا ہے، اس کا اپنے مقاصد کےلیے استعمال کیا ہے اور اگر کسی نے سوشل میڈیا کے بل پر گراؤنڈ میں کامیابیاں سمیٹی ہیں تو شاید وہ پی ٹی آئی ہی ہے۔

انہیں اس کے بل بوتے پر مقبولیت بھی ملی، ووٹ بھی ملے، اقتدار بھی ملا اور آج بھی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی طاقت اس کا سوشل میڈیا ہی ہے۔ یہ صرف مرکزی پیج تک محدود نہیں، اپنے عزائم کے پروپیگنڈہ کےلیے ہزاروں فیک پروفائل اور پیجز سمیت پورا ایک ای نیٹ ورک اس سے منسلک ہے۔

یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ عمران خان نے آج اپنا مقابلہ حکومت کے بجائے آرمی سے کرلیا ہے۔ وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جہاں وہ آرمی پر وار نہ کرسکے۔ اگرچہ وہ جیل میں ہے لیکن خبر اسے پوری ہوتی ہے۔ یقیناً ہدایات بھی دی جاتی ہوں گی، کیونکہ بادی النظر میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مئی کے مہینے میں ایک اور زہریلا پروپیگنڈہ جو سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، وہ 1971 کے حوالے سے ہے اور بہت ضروری ہے کہ اس کا جواب دیا جائے۔

تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اپنے آفیشل اکاؤنٹس سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مبینہ مندرجات سوشل میڈیا سے پھیلانے میں مصروف ہے۔ ماضی میں یہی سوشل میڈیا نواز شریف کو شیخ مجیب الرحمٰن ثابت کر رہا تھا اور آج ان کا اپنا سوشل میڈیا یہ تاثر پھیلانے میں مصروف ہے کہ عمران خان موجودہ دور کا باغی ہے اور اگر حالات یہی رہے تو وہ بھی شیخ مجیب الرحمٰن بن سکتا ہے۔ یہ ہوتا ہے اگر انسان تاریخ سے نابلد ہو اور اس نے سنی سنائی پر یقین کرکے آگے چلنا ہو۔

اس پروپیگنڈہ کے جواب میں عبدالمنعم نے کیا ہی خوب صورت پوسٹ مارٹم کیا ہے، وہ پڑھنے سے لائق ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کی حقیقت فقط اتنی تھی کہ وہ ایک کٹھ پتلی اور را کا ایجنٹ ہی تھا۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے جب اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا جا رہا تھا تو کون تھا جس نے کہا تھا کہ بنگالی کیوں قومی زبان نہیں ہوسکتی اور تب قائدین نے کہا تھا کہ اس پر نظر نہیں گئی، اس میں اپنے ذاتی مقاصد کےلیے بغاوت کی بو آتی ہے۔ نہرو کی منتیں کرنے والا شیخ مجیب الرحمٰن بھی ایک مقبول لیڈر تھا لیکن وہ ہرگز معقول نہیں تھا اور اس کا ثبوت بنگلہ دیش میں اس کا اقتدار، اقدامات اور موت ہیں۔

کیا حسینہ واجد نے اگرتلہ سازش کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا؟ کیا مودی نے مکتی باہنی کی سازش کا اعتراف نہیں کیا؟ یہ بات کہ 70ء کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی وجہ سے بنگلہ دیش بنا، بھی غلط ہے۔ اُن انتخابات سے پہلے ہی شیخ مجیب الرحمٰن نجی محافل میں اور اپنے بیرونی آقاؤں کو یقین دہانی کرواتا تھا کہ میں بنگلہ دیش بنا کر دم لوں گا اور عوام میرے ساتھ ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی مقبولیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ اگر لدّ کو بھی گلاب جامن کہہ دے تو اس کی پارٹی اس کو گلاب جامن ثابت کرنے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دے گی۔ رپورٹس اس بات کی بھی گواہ ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن انتخابات سے کئی سال قبل 69 میں لندن میں اس حوالے سے ساز باز کرچکا تھا۔ مجیب کی حیثیت اتنی ہی تھی کہ بنگلہ دیش کےلیے جو جھنڈا اس کو اگرتلہ میں دیا گیا تھا وہ پہلے سے ہی ڈیزائن ہوچکا تھا اور اس نے صرف اس کو عوام میں متعارف کروانا تھا، جوکہ اس نے بعد ازاں 23 مارچ کو لہرایا بھی تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی سالمیت کی جو تقاریر سنائی جاتی ہیں، وہ کیا ہیں؟ وہ محض ایک دھوکا تھا کہ فوج وقت سے پہلے ہی اس کی سازش کو نہ کچل دے۔ کس کو نہیں پتا کہ مکتی باہنی اور عوامی لیگ کی تمام تر فنانسنگ بھارت سے ہوتی تھی۔

یہ تھا 71 کا ماضی اور یہ تھا شیخ مجیب کا غلیظ کردار جس نے اقتدار کی ہوس میں پاکستان کو توڑنا قبول کرلیا اور بعد ازاں اپنی ہی سپاہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ آج تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیل عمران خان کو بھی شیخ مجیب ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ماضی میں نواز شریف نے بھی یہی دھمکیاں دی تھیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی بھی مسئلہ ہے تو ایسی دھمکیاں سیاست دان دیتے ہی کیوں ہیں؟ کیا شیخ مجیب ایسا کردار تھا کہ اس کا حوالہ دیا جائے؟ کیا آپ یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان کا بھی وہی حال کریں گے جو شیخ مجیب نے کیا تھا؟ کیا آپ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس پاکستان کو بھی اپنی ذاتی انا اور مفاد کےلیے توڑ دیں گے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو شرم آنی چاہیے۔ اس کا مطلب پھر یہی ہے کہ جیسے شیخ مجیب ایک دو ٹکے کی کٹھ پتلی تھا اور جس کی ڈوریاں بیرونی عناصر ہلا رہے تھے، آج آپ بھی کٹھ پتلی ہیں اور اب یہ پتا کرنا ہے کہ آپ کی ڈوریاں کہاں سے ہلائی جارہی ہیں؟ مغرب سے یا پھر مشرق وسطیٰ سے؟

تحریک انصاف کے کارکنان کو اب رُک کر سوچنا چاہیے کہ وہ جس راستے پر چل رہی ہے، وہ جا کہاں رہا ہے؟ پہلے ایک 9 مئی کیا اور اس کو آج تک بھگت رہے ہیں۔ اب پھر مئی میں نیا کٹا کھول کر بیٹھ رہے ہیں، کیا اب ان میں بھگتنے کی طاقت ہے؟ میری گزارش تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہے کہ خدارا اب کی مرتبہ اپنے لیڈران کے ہاتھوں سے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے کل کو پریس کانفرنس کرلینی ہے، انہوں نے ڈیل کرلینی ہے، رگڑا آپ کو بمطابق قانون ملنا ہے اور انہوں نے آپ کے پیچھے نہیں آنا۔ یہ دوبارہ کسی نہ کسی اسائنمنٹ پر چلے جائیں گے اور زنداں سے راہ آپ کا خاندان تکتا رہے گا۔

یہ سیاست ہے، صرف سیاست، یہ کفر اور اسلام کا معرکہ نہیں ہے۔ دیکھ لیجیے، آج مولانا فضل الرحمٰن آپ کےلیے کتنے محترم ہیں۔ اب ماضی میں آپ اُن کےلیے اور یہ آپ کےلیے کیا تھے، مجھے یہ بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ آپ لکھ لیجیے کہ کل کو اگر عمران خان کو نواز شریف سے ڈیل کرنی ہوئی تو یہی نواز شریف آپ کےلیے انتہائی محترم ہوگا اور اس وقت آپ کا مخالف کوئی اور ہوگا جسے شاید آپ دشمن سمجھیں گے۔ لہٰذا، سیاسی مخالفت کو دشمنی میں مت بدلیں۔ ریاست کی ریڈ لائن کو ایک مرتبہ کراس کرکے آپ نے دیکھ لیا ہے، میری گزارش ہے کہ اپنی سادہ لوحی میں اس کو دوبارہ مت کراس کیجیے گا۔ میری تحریک انصاف سے بھی گزارش ہے کہ… رہنے دیجیے، ان سے کوئی گزارش نہیں، انہیں اپنی اسائنمنٹ بھی تو پوری کرنی ہی ہوگی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں