1

چند حکایات دلپذیر – ایکسپریس اردو

خلیفہ ہارون رشید علالت کی حالت میں بستر پہ پڑا تھا، صحت یابی کے کوئی آثار نظر نہ آ رہے تھے۔ ایک سے ایک قابل طبیب اپنی حکمت آزما رہے تھے، لیکن طبیعت تھی کہ مزید بگڑتی جا رہی تھی، ان دنوں وہ شہر طوس میں تھا، کوئی علاج کارگر نہ ہو رہا تھا، وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تھا۔

اس نے اسی گھر میں جس میں وہ ٹھہرا ہوا تھا، اپنی قبرکھدوائی، جب قبرکھد گئی تو چند محافظوں کے ہمراہ اس میں اتر کر قرآن مجید ختم کیا، درود و وظائف پڑھے اور باہر آ گئے۔ ہارون رشید نے لوگوں سے کہا ’’ اے لوگو! گواہ رہنا، میں خدا پر ایمان رکھتا ہوں اور رسول اللہؐ کی رسالت کا سچے دل سے قائل ہوں۔ میں ایک معصیت اور گناہ کا پیکر ہوں جس نے ساری عمر غم غلط کرنے کی کوشش کی لیکن میں پھر بھی غم غلط نہ کر سکا۔

میں نے بے حد مغموم اور تفکر سے بھرپور زندگی گزاری ہے۔ حکومت کے کاموں اور حکومت کی لعنتوں نے مجھے اکثر خدا اور مذہب سے غافل رکھا۔ خدا مجھے معاف کرے۔ مجھے زندگی کا کوئی دن ایسا یاد نہیں ہے جو میں نے بے فکری کے ساتھ گزارا ہو۔ اب میں موت کے کنارے ہوں۔

موت تم سب سے مجھے جدا کر دے گی اور یہ قبر جو اس وقت منہ کھولے میرے سامنے ہے میرے جسم کو نگل لے گی یہی انسان کا مال ہے لیکن انسان اپنے مال سے میری طرح غافل رہتا ہے۔‘‘ اس کے بعد خلیفہ نے انتظامی معاملات کے متعلق کچھ مشورے وزیروں، عالموں اور اہل دانش کو دیے اور اس کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔

کہتے ہیں خوش قسمتی کا تعلق عقل و دانش سے نہیں ہوتا بلکہ نصیب سے ہوتا ہے، جو چیز نصیب میں نہ ہو وہ عقل و دانش سے نہیں ملتی۔ ایک دفعہ ایک شخص گھوڑے پر جا رہا تھا، گھوڑے کے دونوں طرف دو بوریاں لٹکی ہوئی تھیں، راستے میں ایک شخص ملا۔ دونوں میں علیک سلیک ہوئی، مسافر نے گھوڑے پر سوار شخص سے پوچھا کہ ’’دونوں بوریوں میں کیا ہے۔‘‘

اس شخص نے جواب دیا کہ ’’ ایک بوری میں گندم ہے، اور دوسری طرف کی بوری میں وزن برابر کرنے کے لیے ریت بھری ہے تاکہ گھوڑا برابر وزن کی وجہ سے آسانی سے چل سکے۔‘‘ مسافر نے کہا کہ ’’ بھائی! اگر گندم ہی کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر کے باندھ دیتے تو بے چارے جانور کا وزن کم ہو جاتا اور آپ کو بھی اس بلاوجہ کی مشقت سے نجات ملتی۔‘‘

سوار نے حیران ہو کر کہا ’’ہاں بھائی! آپ نے بات تو بڑے پتے کی بتائی، لیکن یہ بتائیے کہ اس قدر عقل کی موجودگی میں آپ پیدل سفر کیوں کر رہے ہیں؟ ‘‘ اس شخص نے کہا کہ ’’یہ اپنی اپنی قسمت اور نصیب ہے۔‘‘ سوار نے کہا ’’ ایسی عقل کو اپنے ہی پاس رکھیے جو آپ کو پیدل چلا رہی ہے اور مجھے گھوڑے پر۔ مجھ کو میری بے وقوفی مبارک جس نے مجھے گھوڑے پہ سوار کرایا اور آپ عقل مند ہونے کے باوجود پیدل سفر کر رہے ہیں۔‘‘

سکندر اعظم نے بہت کم عمری میں ہی آدھی دنیا فتح کر لی تھی، اس کی عالمگیری اور فتح مندی سے متاثر ہو کر ایک بادشاہ نے ازراہ دور اندیشی یہ طریقہ اختیار کیا کہ باوجود سکندر سے بدرجہا زیادہ لشکر جرار رکھنے کے بغیر کسی قسم کی جنگ کے صلح کے لیے پیش قدمی کی، سکندر نے اس کی بے شمار فوج کو دیکھ کر کہا کہ ’’ اگر تو صلح کے لیے آیا ہے تو اس لشکر جرار اور فوج بے شمار کو لانے کی کیا ضرورت تھی۔

شاید کہ تیرے دل میں کچھ دغا ہے۔ ‘‘بادشاہ نے جواب دیا کہ ’’ وفا شیوہ عاجزی کا ہے صاحب مقدورکبھی دغا نہیں کرتے۔ یہ میرا جزو لشکری ہے جو ہمیشہ دائیں بائیں میرے رکاب میں رہتا ہے تاکہ تو سمجھے کہ میں عاجزی سے تیری اطاعت نہیں کرتا، لیکن تیرا اقبال بلند ہے۔

جو کوئی دولت خداداد سے لڑے گا وہ گرے گا۔ اسی سبب سے میں تیرا مطیع ہوا۔‘‘ سکندر نے کہا ’’ بے شک تو لائق احسان ہے، میں نے تجھے امان دی۔‘‘ اس بادشاہ نے اپنے خرچ پر تمام لشکر کو کھانا کھلایا جو بہت پرتکلف تھا اور ایک نہایت قیمتی زردوزی خیمے میں جہاں سونے چاندی کے کام کا فرش بچھا تھا، سکندر کو بٹھایا اور ایک بڑے خوبصورت اور قیمتی خوان زریں میں بیش بہا، جواہرات، لعل، یاقوت، موتی، ہیرے اور زمرد بھر کر سکندر کے آگے رکھ دیا اور کہا ’’کھائیے‘‘ سکندر نے کہا ’’جواہرات انسان کی غذا نہیں۔‘‘ بادشاہ نے کہا ’’ پھر آپ کیا کھاتے ہیں؟‘‘ سکندر نے کہا ’’ یہی عام روٹی جو تمام خلق کھاتی ہے۔‘‘

اس بادشاہ نے کہا ’’سخت تعجب ہے! کیا یہ روٹی تجھے اپنے ملک میں نہ ملتی تھی؟ کس لیے ناحق اس قدر رنج و مصیبت برداشت کرتا ہے، اور اپنے ساتھ بے شمار مخلوق خدا کو مبتلائے مصیبت رکھتا ہے؟‘‘ سکندر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور پھر اس نے باقی دنیا فتح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

ایک دکاندار کا اس قول پر اعتقاد تھا کہ ’’ کریے تو ڈریے، نہ کریے تو بھی ڈریے۔‘‘ ایک بزاز جو اس کے قریب کی دکان میں تھا وہ اس قول کے بالکل خلاف تھا۔ ایک روز ایک نہایت امیر شخص زرق برق لباس پہنے ہوئے امیرانہ صورت بنائے اور اس کے ساتھ ہی ایک خدمت گار جس کے کندھے پہ ایک بچہ سو رہا تھا، بزاز کی دکان پر آیا، بہت سارا اور قیمتی کپڑا خریدا۔ اور جب پیسے دینے کا وقت آیا تو وہ حیران پریشان کبھی بزاز کو دیکھتا اور کبھی اپنی جیبیں ٹٹولتا۔ وہ شخص تگڑی اسامی تھا اور کئی ہزار کا کپڑا اس نے خریدا تھا۔

بزاز نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ’’ بٹوہ وہ گھر بھول آیا ہے اگر بزاز اجازت دے تو وہ گھر جا کر بٹوہ لے آئے اورگارنٹی کے طور پر یہ بچے کو اور خدمت گار کو وہ بزاز کی دکان پہ چھوڑے جاتا ہے۔ ‘‘ بزاز نے بخوشی اجازت دے دی، وہ شخص کپڑا اٹھا کر چلا گیا، بہت دیر ہو گئی لیکن وہ نہ پلٹا تو خدمت گار نے بچے کو دکان میں لٹایا اور خود پانی پینے چلا گیا۔

اب اسے بھی گئے بہت دیر ہو گئی، بزاز پریشان ہو گیا کہ نہ تو خدمت گار آتا ہے نہ خریدار آتا ہے اور نہ ہی بچہ سو کر اٹھتا ہے، اس نے سوئے ہوئے بچے کے منہ پر سے کپڑا ہٹایا تو بچہ مردہ تھا اور اس کی گردن پہ انگلیوں کے نشان تھے۔ بزاز بہت پریشان ہو گیا کہ کیا کرے۔ اتنی دیر میں خریدار اور خدمت گزار واپس آتے نظر آئے۔ بزاز کی جان میں جان آئی، لیکن آتے ہی خریدار نے شور مچانا شروع کر دیا کہ بزاز نے اس کے بچے کو مار ڈالا ہے۔

بزاز نے ہزار قسمیں کھائیں لیکن خدمت گار اور خریدار مسلسل غضب ناک ہوتے رہے۔ آخر کو معاملہ کوتوال تک پہنچا تو کوتوال نے بھی خریدار اور خدمت گار کو سچا مانا۔ جب بہت شور ہوا اور سارا بازار اکٹھا ہو گیا تو کوتوال بزاز کو ایک طرف لے گیا اور کہا کہ ’’ اگر تم مجھے دس ہزار روپے دو تو میں تمہاری گلو خلاصی کروا سکتا ہوں۔‘‘ بزاز نے حامی بھر لی۔ پھر اس کوتوال نے خریدار سے کہا کہ ’’ بزاز آپ کو پچاس ہزار دے گا، آپ اس کی جان چھوڑ دیں۔

بچہ اس نے نہیں مارا۔ اور یہ مارے گا بھی کیوں؟ اور اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو میں آپ کو اور خدمت گار دونوں کو قتل کے الزام میں حوالات میں بند کر دوں گا۔‘‘ یہ سن کر خریدار راضی ہو گیا اور مجبوراً بزاز کو پچاس ہزار روپے خریدار کو دینا پڑے۔ اس سے پہلے وہ جو قیمتی کپڑا لے گیا تھا اس کا نقصان الگ ہوا۔ تب معاملہ رفع دفع ہونے کے بعد بزاز اپنے ساتھی دکاندار کی طرف آیا اور ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ’’ ہاں بھائی تم سچ کہتے تھے، کریے تو ڈریے، نہ کریے تو بھی ڈریے۔‘‘

انسان کو کسی بھی ناگہانی آفت سے ڈرنا چاہیے اور اللہ سے ناگہانی آفت سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ایک مولوی صاحب برسات کے زمانے میں کشتی میں اپنے وطن جا رہے تھے راستے میں مولوی صاحب نے ملاح سے پوچھا: ’’بھائی ملاح! تو نے کچھ پڑھا لکھا بھی ہے؟‘‘ ملاح نے نفی میں گردن ہلا کر کہا ’’نہیں، مولوی صاحب!‘‘ مولوی صاحب بولے ’’ بھائی ملاح! پھر تو تو نے اپنی آدھی عمر گنوا دی۔‘‘ تھوڑی دیر بعد کشتی گرداب میں پھنس گئی۔ ملاح نے مولوی صاحب سے پوچھا، ’’ مولوی صاحب!کشتی گرداب میں پھنس رہی ہے، آپ کو تیرنا بھی آتا ہے؟‘‘ مولوی صاحب بولے ’’ نہیں بھائی! مجھے تیرنا نہیں آتا۔‘‘ یہ سن کر ملاح بولا ’’ پھر تو آپ نے اپنی تمام عمر ضایع کردی۔

کبھی کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر شخص اپنے اپنے کام میں ماہر ہے۔ خدا نے ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق خاص کام عطا کیے ہیں، کسی انسان کو اپنے کام پر غرور نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ تکبر اللہ کو پسند نہیں ہے۔

جس کا کام اسی کو ساجھے

اور کرے تو ٹھینگا باجے





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں