1

ڈیجیٹل نو سر بازی – ایکسپریس اردو

نو سربازی کی تاریخ بنی نوع انسان کی تاریخ جتنی قدیم ہے۔ حرص و لالچ وہ محرکات ہیں جس کی وجہ سے انسان دھوکے اور چال بازی سے مال بنانے کے لیے نت نئے طریقے اختیار کرتا ہے جسے نوسربازی، دھوکا دہی اور ٹھگی کے عنوان دیے جاتے ہیں۔ نوسرباز کا اصل مقصد چال بازی کے ذریعے کسی کا مال ہتھیانا ہوتا ہے۔

نوسرباز ایسے سوانگ بھرتے ہیں کہ متاثرہ شخص شیشے میں اترتا چلا جاتا ہے اور اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مال اسباب سے محروم ہونے جارہا ہے، نوسرباز اپنا مقصد حاصل کرکے رفو چکر ہو جاتا ہے اور جب بندے کو ہوش آتا ہے تو وہ لٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کے پاس ہاتھ ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر شعبے میں جدت آرہی ہے بالکل اسی طرح زمانے کے ساتھ نوسربازی کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں نو سر باز بھی ڈیجیٹل نوسرباز بن چکے ہیں۔ نوسر بازی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی بات کی جائے تو بات چائنہ کے پلاسٹک کے چاولوں، زردی والے دو نمبر مصنوعی انڈوں اور ایلفی سے جڑے چمک دار سینگوں والے بکروں، قربانی کے جانوروں کے مصنوعی دانت لگانے سے ہوتی ہوئی نہ جانے کہاں تک جاپہنچی ہے۔ آج کے کالم میں ڈیجیٹل نو سربازی یعنی سائبر کرائم پر مبنی اپنے ساتھ پیش ہونے والی سچی کہانی آپ کے ساتھ شیئر کررہا ہوں جسے جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے اور آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ انسان اس قدر کیسے گر سکتا ہے؟

دھوکا، فریب اور نوسر بازی ایسا قبیح عمل ہے جو ہر صورت میں اخلاقی اور شرعی طور پر ناقابلِ معافی جرم ہے جب کہ آج دھوکا دہی، فریب اور نوسر بازی ہمارے معاشرے میں سرائیت کر گئی ہے، اس کو جرم سمجھنا تو دور کی بات نو سر باز مخلوق خدا سے فراڈ کرنا اپنا حق سمجھ کر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ یہ عمل دین و دنیا میں نقصان کا باعث ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی سورہ بقرہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اور کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دار نہیں ہیں۔ اللہ اور ایمان داروں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہے ہیں اور نہیں سمجھتے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر اللہ نے اِن کی بیماری بڑھا دی، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘۔

صحیح بخاری باب کتاب البیوع میں حدیث مبارکہ ہے، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہ وسلَّم نے فرمایا کہ ’’فریب دوزخ میں لے جائے گا اور جو شخص ایسا کام کرے جس کا حکم ہم نے نہیں دیا تو وہ مردود ہے‘‘۔ اس قدر واضح احکامات کے باوجود لوگ باز نہیں آتے۔ زمانے کے ساتھ ساتھ دھوکا دہی، فریب اور نوسر بازی کے اطوار بھی بدل گئے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں نوسربازی کے ڈیجیٹل طریقے مارکیٹ میں آچکے ہیں، جیسا کہ میں نے تمہید میں ذکر کیا کہ نوسر بازی کا ایک واقعہ ہمارے ساتھ بھی پیش آچکا ہے، جسے جان کر انسان پریشان ہوجاتا ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے؟

بہت سے قارئین جانتے ہیں کہ میں ڈاگئی ضلع صوابی میں قائم شیخ الحدیث و القرآن حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی باباجی رحمہ اللہ کے یاد گار دارالعلوم مظہر العلوم عربیہ کا مہتمم بھی ہوں جہاں سیکڑوں طلباء علوم نبوت سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ ہزاروں طلباء اس عظیم درسگاہ سے فیض حاصل کرکے دنیا کے مختلف ممالک میں قرآن و سنت کی شمعیں روشن کیے بیٹھے ہیں۔ اس بین الاقوامی شہرت کے حامل ادارے سے مسلم ممالک کے تمام دینی حلقے واقف ہیں۔

پندرہ اپریل 2024 کو میرے موبائل پر ایک انجانے نمبر سے کئی مس کالز آئی تھیں مگر میں نے کوئی کال اٹینڈ نہیں کی پھر میں نے ان کو فون کیا تو اس نے بتایا میں ملتان کے فلاں مدرسے سے مفتی فلاں بول رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا جی مفتی صاحب میں اشفاق اللہ خان ابن ڈاگئی بابا جی رحمہ اللہ بات کر رہا ہوںتو انھوں نے فرمایا کہ امریکا میں مقیم، جہانگیرہ کے رہنے والے میرے کچھ متعلقین جو مختلف مدارس کے ساتھ تعاون کرتے رہتے ہیں۔ آج کل جہانگیرہ آئے ہیں اور اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے مدارس کے طلباء کرام کے لیے راشن کا بندوبست کیا ہے مظہر العلوم کا حصہ باقی ہے وہ آج ہی آپ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں کیونکہ دو دن بعد وہ امریکا واپس جائیں گے۔

میں نے کہا حضرت میرے لیے کیا حکم۔ وہ مجھ سے رابطہ کریں گے یا میں رابطہ کرونگا دونوں صورتوں میں آپ مجھے ان کا نمبر دے دیں میں ان کا نمبر محفوظ کرلوں تاکہ ان کی کال مس نہ ہوجائے۔ انھوں نے جواب دیا کہ صاحب حق صاحب وہ مستورات میں سے ہیں میں ان کا نمبر نہیں دے سکتا میں ان کو کہتا ہوں کہ آپ سے کوئی رابطہ کرے۔ پھر مجھے ایک دوسرے نمبر سے فون آیا کہ مجھے مفتی صاحب نے آپ کا نمبر دیا آپ بتائیں یہ راشن کس طرح پہنچائیں بات مکمل نہیں ہوئی اور کال کٹ گئی۔ اگلے دن پھر مذکورہ مفتی کا فون آیا اور بتایا کہ 258 من گندم اور دیگر سامان 2 ٹرکوں میں لوڈ ہوچکا ہے اور ایک مزدا کا سامان باقی ہے مزدا کا بندوبست ہو گیا آپ ساجد صاحب کو اس کے نمبر پر 18680 روپے ایزی پیسہ کے ذریعے ٹرانسفر کریں تاکہ وہ مزدا والے کو دے دیں، اور تینوں گاڑیاں ایک ساتھ روانہ ہوسکیں۔

میں نے تھوڑی دیر بعد اسی نمبر پر کال کی اور ساجد صاحب سے بات ہوئی انھوں نے جلدی رقم ایزی پیسہ پر بھجوانے کا کہا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں پٹرول پمپ پر کھڑا ہوں جلدی پیسے بھجوائیں پٹرول کے لیے۔ مجھے ان کی عجلت اور گفتگو مشکوک لگی اس لیے میں ذرا محتاط ہوگیا تھوڑی دیر بعد پہلے والے نمبر سے مذکورہ مفتی صاحب نے پھر فون کیا کہ ساجد صاحب کو ابھی تک رقم نہیں ملی۔ میں نے کہا بہتر یہ ہے کہ آپ سامان دارالعلوم بجھوا دیں، وہاں نقد رقم ان کو مل جائے گی اور تینوں گاڑیوں کے ڈرائیورز کو اضافی 2 ، 2 ہزار روپے بھی مل جائیں گے۔

مگر انھوں نے کہا کہ انکو پٹرول ڈلوانے کے لیے پیسے چاہیے۔ میں نے ساجد صاحب کو فون کیا اور پوچھا کہ آپ جہانگیرہ میں جس پٹرول پمپ پر کھڑے ہیں آپ میری پٹرول پمپ کے مینجر سے بات کروائیں وہ ابھی آپکی تینوں گاڑیوں میں پٹرول ڈلوا دیگا مگر رابطہ ٹوٹ گیا۔ میں نے پھر فون کیا کہ میرا کزن جہانگیرہ چوک میں کھڑا ہے پیسے لے کر، آپ جہانگیرہ چوک جا کر پیسے وصول کریں۔ اس کے بعد میں نے دونوں نمبرز پر کئی بار رابطہ کیا مگر رابط نہیں ہوا۔ بینک اکاونٹ کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے اس قسم کے فون میرے سمیت ہر بندے کوآتے رہتے ہیں شکر الحمدللہ میں ابھی تک محفوظ رہا ہوں مگر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کے ساتھ یہ فراڈ بھی ہوچکے ہیں۔

پھر پتہ چلا ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے میرے باباجان رحمہ اللہ کے ایک مرحوم دوست اور ممتاز عالم دین کے برخوردار و جانشین اور اپنے دارالعلوم کے مہتمم قاری فیوض الرحمن صاحب کو اسی نمبر سے کال آئی کہ میں مفتی فلاں بول رہا ہوں ملتان سے، بالاکوٹ سے واپسی پر میرے دو بیٹوں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ایک بیٹے کی ٹانگ کٹ گئی ہے اور دوسرا شدید زخمی ہے آپ ان کے ساتھ موجود ساتھی کے نمبر پر 30 ہزار روپے ٹرانسفر کردیں اور قاری فیوض الرحمن صاحب نے فوراً پیسے ٹرانسفر کر دیے۔

10 منٹ بعد پھر فون آیا کہ میرے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا دوسرا ایوب کمپلیکس کے ایمرجنسی وارڈ میں ہے آپ 20 ہزار روپے مزید ایزی پیسہ کے ذریعے ٹرانسفر کردیں اور قاری صاحب نے پھر 20ہزار روپے ٹرانسفر کیے۔ تھوڑی دیر بعد پھر فون آیا کہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ملتان سے چل پڑا ہوں پیسے لے کر، پہنچ کر اہلیہ کو آپ کے گھر چھوڑ کر ہم دونوں ایوب میڈیکل کمپلیکس چلیں گے اور آپ کو پیسے بھی مل جائیں گے۔ تھوڑی دیر بعد پھر فون آیا کہ میرا بیٹا آپریشن تھیٹر میں ہے آپ ڈاکٹر کے نمبر پر مزید 10ہزار روپے بھیج دیں قاری صاحب نے ایک بار پھر 10 ہزار روپے ٹرانسفر کیے۔

اس دوران انکا رابط وفاق المدارس کے ذمے داران سے ہوا تو پتہ چلا کہ وہ لٹ چکے ہیں اور اپنی شرافت اور خدا ترسی کی سزا پاچکے ہیں۔ اس کے بعد قاری فیوض الرحمن صاحب کا مجھ سے بھی رابطہ ہوا اور میں نے ان کو تفصیل سے سمجھایا کہ اب ہم نے کیا کرنا ہے۔ مگر نوسربازوں کی بے شرمی اور دیدہ دلیری دیکھیں کہ 60 ہزار روپے ہتھیانے کے بعد بھی جعلی مفتی صاحب سارا دن ان کو فون کرتا رہا اور مزید پیسے مانگتا رہا۔

(جاری ہے)





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں