6

کنسرٹ میں ہلاک اسرائیلیوں کے اہلخانہ نے اپنی ہی فورسز پر مقدمہ کردیا

مقدمے میں اسرائیلی ڈیفنس فورس پر لاپرواہی اور پیشگی اطلاع کے باوجود سیکیورٹی نہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے (فوٹو: اسکرین شارٹ)

مقدمے میں اسرائیلی ڈیفنس فورس پر لاپرواہی اور پیشگی اطلاع کے باوجود سیکیورٹی نہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے (فوٹو: اسکرین شارٹ)

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملے میں ہلاک 42 اسرائیلی اہل خانہ کے متاثرین نے اپنی ہی فورس کے خلاف عَلم بغاوت بلند کردیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کو کنسرٹ پر ہونے والے حملے میں ہلاک 42 اسرائیلیوں کے متاثرین نے قابض افواج کے خلاف مقدمہ درج کروادیا، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فورسز کی لاپرواہی کے نتیجے میں دورانِ تقریب جانوں کا ضیاع ہوا۔

مقدمے میں الزام لگایا گیاہے کہ نووا کنسرٹ سے متعلق سیکیورٹی فورسز کو ممکنہ خطرات کا پیشگی علم تھا لیکن انہوں نے شرکاء کی حفاظت کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جبکہ پولیس تفتیش میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ قابض اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جوابی کارروائی میں زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

مزید پڑھیں:

مدعیان کی نمائندگی کرنے والے قانونی مشیر کا کہنا ہے کہ متاثرین اور ان کے اہلخانہ انصاف کے خواہاں ہیں، اسرائیلی فورسز، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی غفلت کے باعث یہ واقعہ رونما ہوا۔

دوسری جانب سرکاری حکام نے ابھی تک اس مقدمے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مزید پڑھیں:

واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری فلسطین اور اسرائیل کی جنگ میں ابھی تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 22 ہزار سے زائد ہوچکی ہے، جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں اور زخمیوں کی تعداد 57 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں