20

اسرائیلی بمباری میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے جواں سال بیٹے شہید

حازم ہنیہ کی عمر محض 22 سال تھی اور وہ مقامی کالج کے طالب علم تھے، فوٹو: فائل

حازم ہنیہ کی عمر محض 22 سال تھی اور وہ مقامی کالج کے طالب علم تھے، فوٹو: فائل

غزہ:غزہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم ہنیہ اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت سے تعلق رکھنے والے معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اطلاع دی گئی ہے کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم اسماعیل ہنیہ کو شہید کر دیا گیا۔

مقامی فلسطینی میڈیا نے ان سوشل میڈیا دعوے کی بنیاد پر کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے غزہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس سے عمارت مکمل طور پر تبا ہوگئی۔

مقامی میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر اس عمارت میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کچھ افراد مقیم تھے۔ حملے میں اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم ہنیہ کی شہادت کی غیر مصدقہ اطلاع ہے۔

حماس کی جانب سے ان خبروں کی تردید یا تصدیق نہیں گئی اور نہ ہی اس حوالے سے اسماعیل ہنیہ کا کوئی بیان منظر عام پر آیا ہے جو اس وقت کسی نامعلوم پر مقیم ہیں۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق حازم ہنیہ کی عمر محض 22 سال تھی اور وہ کالج کے طالب علم تھے۔ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی غزہ جنگ میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے 14 افراد شہید ہوچکے ہیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں