14

عام انتخابات؛ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور مستقبل کا منظرنامہ

آٹھ فروری کو وطن عزیز میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بارھویں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔

انتخابات کے انعقاد کی تمام تر تیاریوں اور الیکشن کمیشن کی یقین دہانیوں کے باوجود کچھ حلقوں کی طرف سے آخری وقت تک قیاس آرائیاں جاری رہیں کہ آٹھ فروری کو بھی انتخابات کرائے جائیں گے یا کوئی انہونی ہو جائے گی۔

پنجاب اور پختونخوا میں نگران سیٹ اپ آئینی مدت سے زیادہ عرصے تک برقرار رکھا گیا، اسی طرح پی ڈی ایم حکومت نے بھی کچھ دن قبل اسمبلیاں تحلیل کر کے نگران حکومتوں کو زیادہ عرصہ قائم رہنے کا موقع فراہم کیا۔

عام انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم چلائی اور اپنے منشور کا اعلان کیا، لیکن تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو اس سلسلے میں ہموار میدان نہ ملا۔ ایک بڑی قومی پارٹی کے الیکشن مہم سے غائب ہونے کی وجہ سے، انتخابی مہم کا وہ رنگ نہ جم سکا جو ماضی کے انتخابات میں نظر آتا تھا۔

پارٹی الیکشن کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی، جس کی وجہ سے اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخابی میدان میں اترنا پڑا۔ الیکشن کے دن سے قبل تک یہ تاثر بنا ہوا تھا کہ انتخابات کے بعد ’مسلم لیگ ن‘ ڈرائیونگ سیٹ پر ہو گی، اور اس ضمن میں اسے پس پردہ قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔

٭ ’الیکشن ڈے‘ کو کیا ہوا؟

’الیکشن ڈے‘ کی بات کی جائے تو عوام کو سب سے پہلا سرپرائز موبائل نیٹ ورک اور سیلولر انٹرنیٹ کی بندش کی صورت میں ملا، حالانکہ ایک دن قبل ذرائع ابلاغ پر پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عام انتخابات کے دن موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

موبائل سروس اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو رابطے اور اپنا پولنگ اسٹیشن معلوم کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فوری طور پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ خواجہ سعد رفیق اور مسلم لیگ ن کے کچھ دوسرے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو بھی عوام سے رابطہ کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تاہم الیکشن کمیشن کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ سکیورٹی معاملات کی وجہ سے موبائل سروس بند کی گئی ہے، الیکشن کمیشن کا اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں اور اس سے انتخابی عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

الیکشن کے دن دہشت گردی اور ہنگاموں کے کچھ واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے ضلع خاران میں دہشت گردی کے دو الگ الگ واقعات میں سیکورٹی فورسز کے سات اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ نگران حکومت نے الیکشن کے دن موبائل سروس بند رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اس کی وجہ دہشت گردی کے واقعات کو قرار دیا۔

٭ انتخابی نتائج سست روی کا شکار

شام پانچ بجے پولنگ کا وقت ختم ہوا تو توقع کے برعکس انتخابی نتائج کا عمل غیرمعمولی تاخیر کا شکار ہوا۔ رات دس بجے تک ایک اندازے کے مطابق مختلف حلقوں کے 10 فیصد نتائج میڈیا پر رپورٹ ہوئے۔ ابتدائی رجحان سے واضح ہو گیا کہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کو برتری حاصل ہو رہی ہے۔

انتخابی نتائج کا عمل سست روی کا شکار رہا، اور الیکشن کمیشن نے اپنے کوڈ آف کنڈکٹ کے برعکس رات دو بجے کے بعد مختلف حلقوں کے نتائج جاری کرنا شروع کیے۔ زیادہ تر نتائج اگلے روز 9 فروری کی صبح 10 بجے کے بعد جاری کیے گئے۔ جس سے بالخصوص ان حلقوں کے نتائج پر سوالیہ نشان پیدا ہوئے جن میں جیت کا مارجن چند ہزار ووٹوں پر مشتمل تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے انتخابی نتائج کی تاخیر پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے کسی قسم کے دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رابطے میں فقدان کی وجہ سے نتائج کے عمل کو مکمل کرنے میں تاخیر ہوئی، نتائج کے عمل کو فول پروف اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، جس کی وجہ سے بروقت نتائج جاری نہ ہو سکے۔

غیر جانبدار حلقوں کی طرف سے مجموعی طور پر الیکشن عمل اور زیادہ تر انتخابی نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے غیرسرکاری ادارے ’فافن‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن پر شفافیت نظر آئی، تاہم ریٹرنینگ آفیسرز کے دفاتر میں طریقہ کار پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔ ’فافن‘ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نتائج میں تاخیر اور دوسرے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے۔

’فافن‘ کے مطابق پانچ کروڑ سے زائد افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا اور یوں ووٹر ٹرن آؤٹ 48 فیصد رہا۔ انتخابی عمل کو دیکھنے کے لیے پاکستان آنے والے کامن ویلتھ وفد کے سربراہ نے انتخابی عمل کو پرامن قرار دیتے ہوئے کچھ تحفظات کا اظہار کیا۔ وفد تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کرے گا۔

٭ تحریک انصاف کی حیران کن کارکردگی

انتخابی نتائج کی بات کی جائے تو تحریک انصاف کے ووٹرز نے حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پی ٹی آئی کو آزادی سے الیکشن مہم میں حصہ نہ لینے دیا گیا، اعلیٰ قیادت کو مختلف مقدمات میں خصوصی عدالتوں سے چند دن قبل پہ در پہ سزائیں سنائی گئیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف کا ووٹر مایوس ہو کر گھر بیٹھ جائے گا۔

مگر انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف تحریک انصاف کا ووٹر ثابت قدم رہا، بلکہ پارٹی کے خلاف چلنے والی مہم سے متاثر ہو کر معتدل اور خاموش اکثریت نے بھی غیر سیاسی قوتوں کے خلاف تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی 101نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جن میں سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان کی تعداد 90 سے زائد ہے۔

مسلم لیگ ن 75 نشستوں پر کامیاب ہوئی، جبکہ پیپلز پارٹی نے 54 نشستوں پر سبقت حاصل کی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان قومی اسمبلی کی 17 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی، جبکہ مسلم لیگ ق 3 اور جے یو آئی (ایف) کے حصے میں4نشستیں آئی ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ضیاء ، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پختونخوا نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین ایک، ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ جی ڈے اے، تحریک لبیک پاکستان اور جماعت اسلامی ایک بھی نشست نہ حاصل کر سکیں۔

عام انتخابات میں کئی اہم امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سراج الحق، غلام بلور، ایمل ولی خاں، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، انجینئر خرم دستگیر، شیخ رشید احمد، چوہدری نثار علی خان جیسے نام شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو تحریک انصاف کے علی امین گنڈاپور کے مقابلے میں شکست ہوئی، تاہم وہ پشین سے کامیاب قرار پائے۔ میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو بھی ایک، ایک نشست پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

جہانگیر ترین اور پرویز خٹک نے تحریک انصاف سے الگ ہو کر اپنی جماعتوں کی بنیاد رکھی، تاہم انہیں الیکشن میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سخت مقابلے میں قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی، ان کے دو بیٹے عبدالقادر گیلانی اور علی موسیٰ گیلانی بھی قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہوئے، جبکہ ایک بیٹے علی حیدر گیلانی نے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین محمود قریشی بھی کامیاب ٹھہرے، جبکہ ان کی بیٹی مہربانو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

٭ آئندہ کا منظرنامہ کیا ہو گا؟

عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے  8اور این اے 35 کے سوا 264 عام نشستوں پر انتخابات کا انعقاد ہوا، حکومت سازی کے لیے 134 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ مخصوص نشستوں کے اضافے کے بعد حکومت سازی کے لیے درکار نمبر 169ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی تعداد  92ہے، جبکہ اس کی اتحادی جماعت مجلس وحدت المسلمین بھی ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہے۔

مسلم لیگ ن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ق کی مجموعی نشستوں کی تعداد 78 بنتی ہے۔ جمعہ کی شام اپنی تقریر میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی پارٹی الیکشن کی دوڑ میں آگے رہی ہے اور وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مرکز میں حکومت بنائیں گے۔ انہوں نے آزاد ارکان کو بھی اپنی جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ دیگر جماعتوں سے بات چیت کے لیے انہوں نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کے نتیجے میں اکثریتی مینڈیٹ تحریک انصاف کو ملا ہے، عوام نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کو جتوایا ہے اور ان ارکان کی تعداد کسی بھی دوسری جماعت کے جیتنے والے ارکان سے زیادہ ہے۔ پی ٹی آئی کو کچھ حلقوں کے نتائج پر اعتراضات ہیں، لیکن ان کی جانچ میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کسی طریقے سے اپنی مخصوص نشستیں حاصل کر لے تب بھی 169 کی تعداد پوری کرنے کے لیے اسے پیپلز پارٹی یا دوسری جماعتوں کی مدد درکار ہو گی۔ تحریک انصاف اگر حکومت سازی کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر پیپلزپارٹی یا دیگر جماعتوں سے بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے، یا پھر باوقار طریقے سے اپوزیشن کرنے کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

دوسری طرف اس بات کا زیادہ امکان نظر آ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں کوئی ڈیل ہو جائے اور پی ڈی ایم کی طرز پر نئی حکومت کی بنیاد رکھی جائے۔ اس صورت میں مسئلہ یہ ہے کہ سب جماعتوں کا فوکس اس پر ہو گا کہ اسے اقتدار کے کیک میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ ملے، عہدوں کی بندربانٹ ہو گی، وزیروں، مشیروں کی فوج ظفر موج نظر آئے گی۔

الیکشن سے قبل کیے گئے وعدے اور عوامی خدمت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اگرچہ یہ سب کچھ ملکی ترقی، استحکام اور قومی حکومت کے نام پر کیا جائے گا، لیکن عوام کی نظر میں ملکی ترقی کے خواب دیکھنے والی جماعت اور عہدوں کے پیچھے بھاگنے والی جماعت کے طرز عمل میں فرق واضح ہے۔

جو جماعت عوامی خدمت کا دعوی کرتی ہے، وہ کبھی عہدوں کے لالچ میں اقتدار میں شامل نہیں ہوتی، اس کی ترجیحات وزارتیں نہیں، بلکہ عوامی خدمت اور ملکی استحکام ہوتا ہے۔ آنے والے وقت میں مختلف سیاسی جماعتوں کا طرز عمل ان کی سیاست اور ترجیحات عوام کی نظر میں واضح کر دے گا۔

اسی طرح تحریک انصاف کسی دوسری جماعت سے سمجھوتے کے بجائے اپوزیشن کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو بطور اپوزیشن پارٹی اس کے کردار کا بھی امتحان ہو گا۔

بدقسمتی سے اپوزیشن کے طور پر تحریک انصاف نے ماضی میں اچھا کردار ادا نہیں کیا۔ اسے منفی سیاست کے بجائے اب بہترین جمہوری روایات کے مطابق پارلیمنٹ میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے حکومتی کارکردگی پر کڑی نگرانی کرنی چاہیے۔ اس سے جمہوری روایات کو فروغ اور ملکی سیاست کو استحکام ملے گا۔

تب ہی عوامی مینڈیٹ کا حق ادا ہو سکتا ہے۔ صوبوں میں جن جماعتوں کو واضح اکثریت ملی ہے، ان کی حکومتوں میں گڈگورننس کے لیے صحت مندانہ مقابلہ ہونا چاہیے، اس طریقے سے جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کو تقویت ملے گی اور ملک جلد ترقی کی منازل طے کرے گا۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں