13

ٹرمپ کی نیٹو رکن ممالک کا ساتھ نہ دینے کی تجویز پر مغربی طاقتیں برہم

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا میں ریلی سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا—فوٹو: رائٹرز

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا میں ریلی سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا—فوٹو: رائٹرز

برسلز:مغربی طاقتوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے تجویز دی تھی کہ روس کی مداخلت کے خدشات پر دفاعی تیاریاں نہیں کرنے والے نیٹو ارکان کا تحفظ نہ کیا جائے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹینبرگ نے بیان میں کہا کہ اتحادیوں کی جانب سے کسی دوسرے کا تحفظ نہ کرنے کی  تجویز سے امریکا سمیت ہم سب کی سلامتی خطرے سے دوچار ہوگی اور ساتھ امریکی اور یورپی فوجی خطرات کا شکار ہوں گے۔

ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیٹو رکن ممالک پر کسی قسم کے حملے کی صورت میں متحدہ ہو کر پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخاب میں ممکنہ طور پر ری پبلکن کے امیدوار ہوں گے۔

ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا میں ریلی سے خطاب کے دوران نیٹو کے کسی رکن ملک کے صدر کا حوالے سے کہا تھا کہ مجھے سے پوچھا کہ اگر ہم تیاری نہیں کرتے ہیں اور روس حملہ کرتا ہے تو کیا آپ ہمیں بچائیں گے۔

سابق امریکی صدر نے ریلی کے شرکا کو بتایا کہ میں نے ان کو جواب دیا کہ آپ خرچ نہیں کریں گے تو آپ مجرم ہیں اور میں آپ کی حفاظت نہیں کروں گا اور میں اس بات کی حوصلہ افزائی کروں گا کہ وہ جتنا بری طرح پیش آسکتے ہیں آجائیں۔

ٹرمپ کے بیان پر پولینڈ کے وزیردفاع ولادیسلا کوسینیاک کیمیز نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ نیٹو کو نعرہ ہے کہ ‘ون فار آل، آل فار ون’ اور یہ نعرہ بنیادی عزم ہے، اتحادی ممالک کا استحکام کمزور کرنے کا مطلب پورے نیٹو کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک کی سیکیورٹی کے ساتھ کھیلنے کو انتخابی مہم کا بہانہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

جرمنی کے وزارت خارجہ نے ون فار آل اینڈ آل فار ون ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ اس اتحاد میں کروڑوں افراد کا تحفظ ہے۔

یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مائیکل نے کہا کہ نیٹو کی سلامتی اور آرٹیکل 5 کے حوالے سے غیرذمہ دارانہ بیان سے صرف روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن کے مفادات کو تقویت پہنچے گی۔

نیٹو معاہدے کا آرٹیکل 5 واضح کرتا ہے کہ کسی بھی رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دفاع کے لیے مشترکہ کاوشیں کی جائیں گی۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں