1

پاکستانی نوجوانوں کا فرار اور علامہ اقبال کا خط

روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ نے خبر دی ہے کہ ’’پاکستان میں امریکی ویزوں کی طلب بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔‘‘ساتھ ہی ایک انگریزی معاصر نے یہ بھی خبر دی ہے کہ ’’پچھلے برس پاکستان سے جو لوگ نکل کر غیر ممالک میں پناہ گیر ہو گئے ہیں۔ اُن کی تعداد 9لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے ۔‘‘

پاکستان کے ایک تھنک ٹینک (IPOR) نے اپنے سروے میں بتایا ہے کہ پاکستان کے55فیصد شہری ملک سے نکل جانا چاہتے ہیں۔ اِسی تھنک ٹینک نے اپنے دوسرے سروے میں بتایا ہے کہ پاکستان کے41فیصد عوام کو یقین ہے کہ اِس ملک کے حالات کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔‘‘

اور ساتھ ہی 20ستمبر2023کو اسلام آباد میں بروئے کار ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر(Njy Banhassine) نے یہ حوصلہ شکن خبر دی ہے: ’’پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والوں کی تعداد40فیصد ہو گئی ہے ۔‘‘ 28ستمبر2023 کو ’’گیلپ پول پاکستان‘‘ کے جاری کیے گئے ایک سروے کے مطابق: ’’پاکستان کے77فیصد عوام ملک کے جاری حالات سے مطمئن نہیں ہیں۔‘‘

ہم مایوسیوں اور نااُمیدیوں کی انتہاؤں پر کھڑے ہیں ۔ہمارے ہر قسم کے حکمرانوں ، انتہائی مراعات یافتہ طبقات اور نام نہاد اشرافیہ نے رَل مل کر مملکتِ خداداد پاکستان کی ایسی درگت بنا دی ہے کہ اِس ملک سے خاص طور پر نوجوان طبقہ قطعی مایوس ہو چکا ہے۔ ہر نوجوان اسلام کے قلعے ،اسلامی جمہوریہ پاکستان، سے بھاگ جانا چاہتا ہے۔

اس لیے کہ ہمارے حکمرانوں نے سفاکی سے ملک کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے اُمید کا ہر چراغ بجھا دیا ہے ؛ چنانچہ اپنے اپنے سینگ جہاں بھی سما جائیں ، یہ نوجوان ملک سے فرار ہونے کی سبیلیں ڈھونڈ رہے ہیں ۔

اِس کوشش میں وہ اجنبی سمندروں میں ڈُوب کر جانیں دے رہے ہیں اور غیر ممالک کی اجنبی اور خُونی سرحدوں پر ظالم سرحدی محافظوں کی گولیوں کا ہدف بھی بن رہے ہیں۔ اِن سنگین اور جان لیوا خطرات کے باوجود ہمارے نوجوان جان ہتھیلیوں پر رکھ کر اِس ملک سے کہیں دُور چلے جانا چاہتے ہیں جہاں انصاف ملے، جہاں میرٹ کی سر بلندی ہو، جہاں تعلیم کی قدر کی جائے ، جہاں غریب کی عزتِ نفس محفوظ رہے اور جہاں محنت کی جائز کمائی مل جائے۔

جب ’’ مملکتِ خداداد‘‘ کے ریٹائرڈ جرنیل ، ریٹائرڈ ججز ، مقتدر و انتہائی دولتمند سیاستدان اور صنعت کار پاکستان کی شہریت تیاگ کر غیر ممالک کی شہریتوں اور سکونتوں کو بخوشی گلے لگا رہے ہوں اور جب پاکستان کے سرمایہ کار پاکستان میں اپنا سرمایہ اور اپنی جان محفوظ نہ سمجھتے ہُوئے غیر ممالک بھاگ جانا چاہتے ہوں تو پھر ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اِس ملک میں کیوں ٹھہریں؟

جب ہمارے سبق وزرائے اعظم ، گورنروں اور وزرا کی اولادیں پاکستان کے بجائے غیر ممالک میں رہنے کو ترجیح دیتے ہوں تو پھر عام پاکستانی نوجوان کیوں اور کیسے پاکستان کی ’’محبت‘‘ کا جُوا گلے میں ڈال کر اِس سرزمین میں مقیم رہے ؟مجھے میرے ایک نوجوان دوست ( حسیب مغل صاحب) نے گزشتہ روز بتایا :’’ اپنے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے مَیں صبح 6بجے ہی پاسپورٹ آفس پہنچ گیا تھا۔

اِس کے باوجود مجھے جو ٹوکن ملا، وہ خاصا تاخیر کا تھا۔ اُس روز لائن میں کھڑے نئے پاسپورٹ بنوانے اور پاسپورٹ کی تجدید کروانے کی تعداد ایک ہزار سے کم نہیں تھی ۔ رَش اسقدر تھا کہ شدید سردی کے باوصف لوگ ہر صورت میں پاسپورٹ لینے پر مُصر تھے ۔ مَیں نے خاص طور پر اِس امر کا جائزہ لیا کہ کس کس عمر کے لوگ لائن میں کھڑے ہیں؟ اور یہ دیکھ کر مَیں حیرت زدہ رہ گیا کہ لائن میں کھڑے دو چار لوگ ہی ایسے تھے جن کی عمریں 40سے اوپر ہوں گی ، باقی سب نوجوان تھے ۔‘‘

یہ ذاتی مشاہدہ بھی اِس امر کا غماز ہے کہ کس تیزی ( اور کس شدید مایوسی) کے ساتھ ہمارے نوجوان پاکستان سے بھاگ جانا چاہتے ہیں ۔ اگر ہمارے مذہبی رہنما بھی پاکستان سے نکل کر مغربی ممالک میں پناہ لے رہے ہوں( مثال کے طور پر ڈاکٹر طاہر القادری اور جاوید احمد غامدی) ، تو اُن کے نقوشِ قدم پر چلتے ہُوئے مقتدی کیوں نہ پاکستان سے نکلنے کی کوشش کریں؟ پاکستان آج مایوسیوں ، نااُمیدیوں اور قدم قدم پر دلشکنیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔

ایک انگریزی معاصر کی رپورٹ کے مطابق: روزانہ ہزاروں کی تعداد میں پاسپورٹ چھاپے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی ڈیمانڈ پوری نہیں ہو رہی ۔ یہ الارمنگ صورتحال ہے ۔

ہر ملک کے پاسپورٹ کی رینکنگ اور حیثیت بتانے والے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ’’اِس وقت پاکستانی پاسپورٹ کی دُنیا میں 109 ویں پوزیشن ہے ۔‘‘ اِسی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دُنیا میں ہمارے پاسپورٹ کی توقیر،حیثیت اور احترام کتنا ہے؟ اِسی ’’توقیر‘‘ کے پیشِ نظر ہی سفارتخانے ہمارے نوجوانوں کو ویزے جاری کرنے سے انکاری ہیں۔

اِس کے باوجود ہمارے نوجوان ’’وایا بٹھنڈہ‘‘ ویزہ حاصل کرکے پاکستان سے بھاگ جانا چاہتے ہیں ۔یوں باہر بھجوانے والے ایجنٹوں کا کاروبار ٹھنڈہ اور ماٹھا نہیں پڑ رہا ۔

یہ سرزمین جس پر آج پاکستان کھڑا ہے، لگتا ہے ہمیشہ ہی سے یہاں کے اہل اور لائق افراد کے لیے مایوسی کی آماجگاہ رہا ہے۔ لائق افراد یہاں سے بھاگ جانا چاہتے ہیں ۔مثال کے طور پر ہمارے قومی شاعر حضرت علامہ اقبال ؒ کا خط بنام محترمہ عطیہ فیضی۔ جناب اقبال نے یہ مکتوب 9اپریل1909 کو لکھا تھا اور یہ آج بھی مکاتیبِ اقبال کی جلدوں میں محفوظ ہے۔ شاعرِ مشرق تحریر فرماتے ہے:’’ میرا اِرادہ تو اوّلین فرصت میں اِس ملک سے ہجرت کر جانے کا ہے۔

وجہ آپ کو معلوم ہے۔ مجھے اپنے بھائی کا ایک طرح کا اخلاقی قرضہ ادا کرنا ہے جو زنجیرِ پا بنا ہُوا ہے۔ میری زندگی حد درجہ تلخ ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے میرا بھی خوشی پر حق ہے۔ اگر سوسائٹی یا نیچر مجھے اس سے محروم کرتی ہے تو مَیں دونوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتا ہُوں۔ اِس کا واحد علاج یہی ہے کہ میں اس بدبخت ملک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دُوں ۔‘‘

اِس تاریخی مکتوب میں ہم سب کے لیے قابلِ فخر علامہ اقبال ؒ نے مزید باتیں بھی لکھی ہیں جو ہمارے موضوع سے بالا ہیں ۔ اِس خط کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اگر برسوں قبل علامہ اقبال ایسا مفکر اور فلسفی اِس سرزمین کے حالات ، مزاج اور ماحول سے تنگ آ کر اِس ’’بد قسمت ملک‘‘ کو ’’ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد‘‘ کہنے پر خود کو مجبور پارہا تھا تو آج کے پاکستانی نوجوان کے لیے تو ہمارے ہمہ قسم کے حکمرانوں، سفاک بیوروکریسی، میرٹ دشمن پالیسی سازوں، طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور خود غرض سیاستدانوں نے جو قیامتیں برپا کررکھی ہیں۔

اِن کی موجودگی میں وہ کیوں اِس ملک میں رہنے کو ترجیح دیں؟ علامہ اقبال نے یہ خط آج سے114سال قبل لکھا تھا۔اتنے برس گزرنے کے باوجود اِس سرزمین پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے حالات نہیں بدلے ۔ بلکہ روز بروز بد سے بدترین ہی ہُوئے ہیں ۔

علامہ اقبال اور قائد اعظم(جن کا آج یوم ولادت منایا جارہا ہے ) سمیت سبھی معزز بانیانِ پاکستان نے نئے ملک ( پاکستان) بارے جو بلند اُمیدیں دلائی اورجو سہانے خواب دکھائے تھے، آج یہ سب کچھ خاک ہو چکے ہیں۔ اِس ملک کے طاقتوروں نے اژدھے کی طرح سب کچھ نگل لیا ہے ۔ ایسے گھپ اندھیروں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہمارے نوجوان کیوں نہ پھر اِس ملک سے نکلنے کی کوشش کریں؟؟





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں