لوگ سمجھتے ہیں۔ آسان ہے مسلمان ہونا 44

لوگ سمجھتے ہیں۔ آسان ہے مسلمان ہونا

جہنم میں پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرح لمبے سانپ، خچروں جتنے خوفناک بچھو ہوں گے
خلیفہ ہشام بن عبد المالک حج ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں مقیم تھا۔ حج کر لیا تھا۔ ایک دن اردگرد کے لوگوں سے پوچھنے لگے کہ کسی صحابی رسول ۖ کی زیارت کرنے کی تمنا ہے۔ اسے بتایا گیا کہ اس وقت صحابی رسول ۖ ان کی معلومات کے مطابق حیات نہیں۔ یہ سن کر کہنے لگے۔ اچھا تابعی ہی سہی۔ تو بتایا گیا اس وقت مکہ مکرمہ میں حضرت طاؤس بن کسیان یمانی رحمة اللہ علیہ موجود تھے۔ خلیفہ وقت کی فرمائش پر وہ تشریف لائے۔

جب وہ خلیفہ کے کمرے میں داخل ہوئے تو اپنے جوتے قالین کے کنارے اتار کر خلیفہ کو امیر المومنین پکارنے کی بجائے کہا۔ السلام علیکم۔ خلیفہ ہشام بن عبد الملک غصے میں آگئے، کیونکہ دستور امیر المومنین کہہ کر کنیت سے انہیں نہیں پکارا گیا تھا۔ بلکہ صرف السلام علیکم کے بعد حضرت طاؤس رحمة اللہ علیہ نے یوں گفتگو کا آغاز نہیں کیا۔ بلکہ یہ کہہ کر فرمایا، ہشام تم کیسے ہو یہ سن کر تو خلیفہ کو اور زیادہ غصہ آنے لگا اور چیختے ہوئے بولا: طاؤس جانتے ہو تم کس سے مخاطب ہو، حضرت طاؤس رحمة اللہ علیہ اس پر بولے، میں نے آخر ایسا کیا کر دیا جو یوں تم غصے میں ہو؟ خلیفہ بولا: پہلی غلطی آپ نے جوتے قالین کے کنارے اتارے۔ یہ آداب شاہی کیخلاف ہے۔ دوسری غلطی یہ کہ مجھے امیر المومنین کہہ کر باادب سلام نہیں کیا اور پھر مجھے احترام سے کنیت سے پکارنے کی بجائے میرے نام سے پکارا۔ جیسے کسی عام آدمی کو پکارتے ہو، کیونکہ تم نے یہ کہا: ہشام تم کیسے ہو، بھلا بادشاہوں کو اس طرح پکارا جاتا ہے۔ پھر بغیر اجازت میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔

حضرت طاؤس رحمة اللہ علیہ جوابا یوں گویا ہوئے ہاں میں تمہارے قریب آکر جوتے اتارے۔ مگر اس طرح جوتے تو میں روزانہ پانچ مرتبہ بادشاہوں کے بادشاہ اللہ تعالی کے حضور حاضری دینے سے پہلے روز اتارتا ہوں۔ وہ تو کبھی تمہاری طرح ناراض نہیں ہوا، تمہارا یہ کہنا ہے کہ میں نے تمہیں امیر المومنین کہہ کر سلام نہیں کیا تو یہ بات یوں ہے کہ تمہاری خلافت سے سب مسلمان راضی نہیں ہیں۔ اور نہ ہی تمام مسلمان تمہیں اپنا امیر المومنین مانتے ہیں۔ لہذا یوں کہنے میں جھوٹ کا اندیشہ ہے۔ اس لئے میں نے تمہیں امیر المومنین نہیں کہا، اب تمہارا یہ کہنا کہ میں نے تمہیں کنیت کے ساتھ کیوں نہیں پکارا، اور نام لے کر مخاطب کیا تو یہ وضاحت یوں ہے کہ میرے پروردگار نے اپنے دوستوں انبیاء کرام علیہ السلام کو یا داؤد،

یا یحیی، یا موسی اور اسلام کے بدترین دشمن کا کنیت سے ذکر کیا ہے۔ (ترجمہ) ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں) القرآن، رہا تمہارا گلہ کہ میں بلا اجازت تمہارے پاس آکر کیوں بیٹھ گیا۔ تو سنو میں نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے اگر تم کسی جہنمی کو دیکھناچاہتے ہو تو اس آدمی کو دیکھ لو جو خود بیٹھا ہو، اور اس کے اردگرد لوگ ادب کے ساتھ کھڑے ہوں، اس لئے میں کھڑا ہونے کی بجائے تمہارے پاس بیٹھ گیا۔ خلیفہ ہشام بن عبد الملک حضرت طاؤس رحمة اللہ علیہ کی دلیلوں کے سامنے بالکل خاموش ہو گیا

اور بے بسی سے بولا آپ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ حضرت طاؤس رحمة اللہ علیہ میٹھی آواز میں بولے۔ میں امیر المومنین حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو فرماتے خود سنا ہے کہ جہنم میں پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح لمبے لمبے سانپ ہوں گے اور خچروں کی طرح بڑے بڑے خوفناک شکلوں والے بچھو ہوں گے جو رعایا کو انصاف نہ دینے والوں کو ڈسیں گے۔ کوئی عمل کرنے سے قبل اپنے انجام کو نظر میں رکھو، بے شک اللہ سے ڈرنے والے دنیا

کے کسی حکمران سے نہیں ڈرتے آخرت کی تیاری امام غزالی رحمة اللہ علیہ اپنے دوست کے گھر داخل ہوئے تو دیکھا کہ دوست بدحواس اور پریشان ادھر سے ادھر تک بھاگ رہا ہے، پوچھا یا حضرت خیر تو ہے کیوں بوکھلائے پھرتے ہو، جواب ملا، ہاں خیریت ہے وہ خلیفہ نے طلب کیا ہے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کیا پہنوں، کونسی تلوار ہمراہ لوں سر پہ خود کون سا پہنوں کہ خلیفہ کے دربار میں زیادہ سے زیدہ معزز لگوں، امام غزالی رحمة اللہ علیہ یہ ماجرہ سن کر بولے ایک ذرا سا خلیفہ کے دربار کو جانا ہے حاضری دینی ہے کہ بلاوا آیا ہے تو یوں تیاری میں پریشان ہو آخرت میں اتنے بڑے شہنشاہوں کے شہنشاہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے کچھ اس کی بھی تیاری کی ہے۔ دوستو، بزرگو! میں درویش یہ بات بہت سوچتا ہوں کہ روز محشر ہمارے ساتھ کیا حشر ہو گا،

جب ہمیں پولیس تھانہ میں یا کسی عدلات میں یا پھر کسی بڑے افسر کے آفس میں بلایا گیا ہوں۔ ہم سب گھر والوں کوکہتے ہیں کہ آج میں نے فلاں جگہ جانا ہے۔ میرا فلاں کپڑوں کا جوڑا استری کرو۔ فلاں جوتا نکالو۔ جلدی کرو، میں نماز پڑھ کر آتا ہوں تو میلے کپڑوں کے ساتھ مسجد کو چلے جاتے ہیں کبھی یہ بھی سوچا کہ کس شہنشاہ کو پیش ہونے جا رہے ہو بالکل نہیں۔ کیونکہ دنیا کے بڑے لوگوں کی کرسی والوں کی ہمارے دل کیا پروردگار عالم سے زیادہ اہمیت ہے یا اللہ میری توبہ ہے، ہمیں معاف فرا، ہم بڑے نادان اور گناہ گار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں