کائنات میں سب سے کامل زندگی 74

کائنات میں سب سے کامل زندگی

اس کائنات میں سب سے زیادہ کامل زندگی اگر کسی ملتی ہے تو وہ سید الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفٰی احمد مجتبٰی ۖ کی مبارک زندگی ہے۔ سب سے زیادہ کامل زندگی ہے، باقی جتنے انسانوں کی زندگیاں ہیں وہ پوری کامل نہیں ہیں، یہ بزرگوں نے نکتہ کی بات بتائی ہے کہ باقی انسانوں کی زندگیاں پوری کامل نہیں۔ وہ کیسے، کسی سائنس دان کی وفات ہوئی، لوگ کہتے ہیں کہ بڑا اچھا سائنس دان تھا۔ اس نے یہ تحقیق کی۔ اور ابھی وہ مزید تحقیقات کرنا چاہتا تھا

لیکن زندگی نے وفا نہ کی اس کا مطلب ہے کہ کامل زندگی نہیں تھی، ادھوری زندگی تھی، کسی بڑے فاتح کی بات کریں تو کہتے ہیں فلاں بندے نے جیسے امیر تیمور نے دنیا کو فتح کیا ابھی وہ اور زیادہ فتوحات کرنا چاہتا تھا، زندگی وفا نہ کی، اس کا مطلب ہے کہ جتنی بھی کامیابیاں تھیں، ان کے باوجود ان کی زندگی ادھوری تھی، دنیا میں بڑے بڑے علماء کرام آئے، انہوں نے بڑی کتابیں لکھیں لیکن لکھنے والوں نے لکھا کہ ان کتابیں اتنی اعلیٰ لیکن وہ اور بھی لکھنا چاہتے تھے وقت نے وفا نہ کی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر میدان میں زندگیاں ادھوری ہیں۔ لوگ کہتے ہیں

جی علامہ اقبال نے بہت اچھی شاعری کی وہ شاعر مشرق تھے وہ بھی امت کے بارے میں اور بھی لکھنا چاہتے تھے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اس کا مطلب جتنی بھی کامیابیاں تھیں، ان کے بعد لوگوں نے کہا کہ ابھی تو زندگی ناقص تھی، تو کائنات میں جتنے لوگ بھی گزرے ہر کسی کے بارے میں یہی کہا گیا کہ انہوں نے بڑے اچھے کام کئے، بڑے اعلیٰ کام کئے، مگر اور ابھی کرنے کی تمنا رکھتے تھے، چونکہ زندگی نے وفا نہ کی تو وہ نہ کر سکے، لیکن ایک مثال ایسی ملتی ہے کہ عرفاتکے میدان میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کا صحابہ کرام کا مجمع تھا، اور رات کی تاریکی میں نہیں دن کی روشنی میں، اللہ کے محبوب محمد ۖ سے پوچھتے تھے، لوگو جو مقصد میں لے کر آیا بتاؤ امانت میں نے ادا کر دی یا نہیں، ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کہتے ہیں،

ترجمہ: ہم اللہ کے سامنے اس بات کی شہادت دیں گے، کہ آپ ۖ دین کو ہم تک پہنچا دیا ہے، اپنے فرض کو بھی ادا کر دیا اور ہماری خیرخواہی کی، اس کے بعد حضوراکرم ۖ نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، بایں طور کہ آسمان کی طرف اٹھایا، اور پھر نیچے کر کے کہا، ترجمہ: اے اللہ! اپنے بندوں کے اس اقرار اور اعتراف پر تو گواہ رہنا، اے اللہ، تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہنا کہ جو مقصد میرا دنیا میں آنے کا تھا، میں اس کو پورا کر کیجا رہا ہوں، ایک زندگی ایسی ہے جو کامل زندگی نظر آتی ہے ہمیں اپنی زندگی کو باکمال بنانے کے لئے نبی ۖ کو اپنا قائد بنائیں، ان کی سنتوں کو اپنائیں:

میرا قائد ہے وہ زندگی پیغام تھا جس کا
محبت نام تھا، جس کا محمد ۖ نام تھا جس کا
وہ رفتہ رفتہ جس نے قوم کو منزل عطا کر دی تھی
کلی آغاز تھی جس کی چمن انجام تھا جس کا

تو اللہ نے محبوب ۖ نے ایسی کامل زندگی گزاری، آئیے، ان کو ہم اپنی زندگی کا قائد مانتے ہیں، اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا آج ہم عہد وارادہ کرتے ہیں، ہم ایک کامل واکمل شخصیت کو اپنی زندگی کا قائد مانیں گے، تو یقینا ہمیں بھی ان کی پیروی سے کمال حاصل ہو گا، اللہ تعالی فرماتے ہیں ترجمہ: اے پیغمبر! لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، تو نبی اکرم ۖ کی پیروی کرنے سے ہم اللہ کے محبوب بن جائیں گے، ہم اس دنیا میں اکمل بنا دیا جائے گا، چند روزہ زندگی ہے بالآخر یہ محنت کا وقت گزر جائے گا، پھر بہاریں ہی بہاریں ہوں گی۔
نور میں ہو یا نار میں رہنا
ہر جگہ یاد یار میں رہنا
چند جھونکے خزاں کے بس سہہ لو
پھر ہمیشہ بہار میں رہنا
٭٭٭………٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں