ہزاروں میل کا سفر کرنے والی ’مونارک‘ تتلیاں ناپید ہونے کے قریب 114

ہزاروں میل کا سفر کرنے والی ’مونارک‘ تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

ایریزونا: ویسٹرن بٹرفلائی ایک زمانے میں مشہور تتلیاں ہوا کرتی تھیں اور خیال ہے کہ 1980 کے بعد سے اب تک ہرسال ان کی تعداد میں 1.6 فیصد کم ہورہی ہے۔

بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 450 مختلف اقسام کی تتلیوں کا سروے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 1980 سے اب تک ویسٹرن مونارک تتلیوں کی آبادی 99.9 کم ہوچکی ہے۔ ’ چند برس قبل مونارک تتلیوں کی آبادی لاکھوں میں تھیں اور اب ان کی کل تعداد 2000 نوٹ کی گئی ہیں،‘ تحقیق میں شامل سائنسداں کیٹی پروڈِک نے کہا جو جامعہ ایریزونا سے تعلق رکھتی ہیں۔

ان کے خیال میں ویسٹرن مونارک تتلیاں اب معدومیت کے قریب جاپہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبج وائٹ اور دیگر اقسام کی تتلیاں بھی تیزی سے ختم ہورہی ہیں کیونکہ ان کا قدرتی گھر (مسکن) تباہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ دور تک نقل مکانی کرنے والی ویسٹ کوسٹ لیڈی تتلیاں بھی غائب ہوتی جارہی ہیں۔
اس تحقیق میں عام شوقین افراد، ماہرین اور تتلیوں سے وابستہ سائنسدانوں نے مغربی امریکا سے جمع کردہ 40 سالہ ڈیٹا پیش کیا ہے۔ اس میں موسمیاتی تبدیلیوں اور تتلیوں کے قدرتی مسکن اور زمین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اس میں مغربی یورپ کے گنجان آبادیوں میں تتلیوں کا احوال بھی شامل ہے۔ لیکن آب و ہوا میں تبدیلی ہر جگہ منفی اثرات کی وجہ بن رہی ہے اور تتلیوں کی اقسام معمولی گرمی سے بھی شدید متاثر ہورہی ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمِ بہار سمیت پورے سال موسمی حدت بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب امریکا کے 230 شہروں میں موسمِ خزاں کا اوسط درجہ حرارت بھی بڑھا ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ اوسط سے کچھ ہی زیادہ ہے لیکن تتلی جیسے حساس جاندار پر دباؤ ڈال رہا ہے، ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور سرماخوابی(ہائبرنیشن) کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے۔ پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے ان کی خوراک اور پودے بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔ اسی وجہ سے تتلیوں کی کئی اقسام نقل مکانی پر بھی مجبور ہیں۔ مثلاً سویلوٹیل بٹرفلائی اپنے اصل مسکن سے 325 کلومیٹر دور جاچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں