78

علی امین کے ساتھ ملاقات

سوشل میڈیا کلب کی کابینہ واراکین نے وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور سے ان کی رہائش گاہ میں ملاقات کی جس میں موصوف نے میڈیا کی طاقت وقوت کا اعتراف کرتے ہوئے مثبت وتعمیری تنقید، ترقیاتی منصوبوں میں کوتاہی، بے قاعدگی، بے ضابطگی، بدعنوانی، مسائل کی نشاندہی اور عوام میں شعور وآگہی اجاگر کرنے کی استدعا کی، سرکاری محکموں اور افسروں واہلکاروں کی ناقص کارکردگی اور بدعنوانیوں بارے معلومات تک رسائی کے قانون کے استعمال اور مصدقہ وتحقیق شدہ جبروں کی اشاعت پر زور دیا تاکہ اصلاح احوال اور بہتری کی جدوجہد کی جا سکے،

ان کا شکوہ ہے کہ اربوں کے منصوبے عوام کے پیسے سے وجود میں آئے اور عوام ہی ان کی تباہی وبربادی کا ذریعہ ہیں حالانکہ انہیں حفاظت کرنی چاہئے۔ ان کا گلہ ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے فوڈ اسٹریٹ کے خلاف ایک شخص عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر کے بلیک میلنگ کر رہا ہے جبکہ حقنواز پارک میں کمیونٹی سنٹر کی تعمیر بھی ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور نوجوان نسل کے لئے مثبت وتعمیری تفریحی سرگرمیوں کی خاطر ممکن بنائی جا رہی ہے مگر عدالت کے حکم امتناع کے باعث زیر التواء ہے اور وہ تنہا، یہ جنگ لڑ رہے ہیں، کوئی ساتھ نہیں دے رہا، جن کے فائدے کے لئے ہو رہا ہے،

وہ ساتھ دیں اور عدالت سے التجاء التماس کریں کہ حکم امتناع واپس لے کر عوامی سماجی منصوبوں کی تعمیر وتکمیل اور فعالیت یقینی بنانے دے، علی امین نے بیحد خوشگوار مزاج کے ساتھ طویل نشست اور گفتگو کی، گلے شکوے کئے اور ہلکی پھلکی گالیوں کا روایتی استعمال بھی کیا تاہم انتہائی کم لیکن خفگی وناراضگی کا کوئی موقع نہیں دیا جیسا کہ اکثر وبیشتر لوگ بیان کرتے رہتے ہیں حتی کہ میڈیا کے نمائندے بھی مشتعل دکھائی دیتے ہیں شاید کوئی یہ کہے کہ صحافیوں سے وہ غم وغصے کی باتیں کیوں کرے گا؟ بہرحال خبروں کی نشر واشاعت میڈیا کا کام ہے

اور انہیں قبول یا مسترد کرنا سامعین وناظرین اور قارئین کا حق ہے، مصدقہ وتحقیق شدہ خبریں اور معلومات کی فراہمی صحافیوں کا فرض اور ذاتیات واشتعال انگیزی کی بجائے معتدل ومتوازن معلومات وخبریں دنیا ہی حقیقی صحافت ہے، مفادات کے حصول کے لئے خوشامد وچاپلوسی اور بلیک میلنگ زرد صحافت ہے ایسے لوگ اہل قلم ہوتے ہیں نہ صحافی بلکہ کاروباری ہوتے ہیں اگر علی امین سمیت انہیں دیگر لوگ نکتہ چینی کا ہدف بناتے ہیں تو حقیقی لکھاریوں اور صحافیوں کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے فوڈ اسٹریٹ پر بھاری قومی پیسہ صرف ہو چکا لہذا عدالت کو جلد سماعت کر کے مقدمہ نمٹا دینا چاہئے تاکہ عوامی دولت کا ضیاع نہ ہو، حقنواز پارک میں کمیونٹی سنٹر کے خلاف حکم امتناع حاصل کرنے والوں کا شبہ ہے کہ یہ عوامی منصوبہ نہیں کاروباری سلسلہ ہے

تاکہ من پسندوں کو نوازا جائے مگر علی امین نے تفصیلا وضاحت کی ہے کہ لائبریری میں مطالعہ اور ٹیبل ٹنیس کھیلنے کے لئے آنے والے لوگوں کے لئے چائے خانہ ہو گا، جو ٹھیکے پر دیا جائے گا اور لینے والا میں نہیں کوئی ڈیرے وال ہی ہو گا، یہ بات واضح کی کہ ٹھیکے دار کوئی بھی ہو اگر وہ غلط کرے تو میڈیا نشاندہی اور عوام گرفت کریں، آر ٹی آئی قانون کے تحت معلومات نہ ملیں تو مجھے بتایا جائے میں ساتھ دوں گا۔ کوئی اہلکار یا افسر کرپشن کرے تو پورے محکمے یا ادارے کو بدنام کرنے کی بجائے رف اسے متہم کیا جائے تاکہ قانونی چارہ جوئی ہو سکے ورنہ عام الزامات کے نتیجے میں کارروائی ممکن نہیں ہوتی، بگائی محل کی عمر سو سال سے کم ہے

اس لئے وہ آثار قدیمہ اور قومی تاریخی، تہذیبی، ثقافتی ورثے میں شامل نہیں۔ بیرون ملک مقیم مالک نے اپنی ضرورت کے لئے الحمد پراپرٹی ڈیلر کے راشد کو فروخت کر دیا جس کی ادائیگی انہدام کے بعد ہی ہونی تھی۔ حکومت بھی خریداری پر آمادہ نہیں ہوئی چنانچہ نئے مالک نے عمارت گرا دی، ہم چوگلیہ کی تزئین وآرائش کر کے اسے دلکش ودلفریب بنا دیا ہے، لیاقت باغ کو خواتین پارک میں تبدیل کر اب وہاں عورتیں اور بچے تفریح طبع کرتے ہیں، بہرحال جو ہو جائے اس پر شکر گزار ہونا چاہئے اور جس کی ضرورت ہے اس کی نشاندہی کی جانی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں