میں جانتا نہیں میں مانتا نہیں 71

میں جانتا نہیں میں مانتا نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا سحر گاری
حضرت گنگوہی کا ایک واقعہ کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ کوئی شخص ان کی خدمت میں آیا اور آکر اپنی کوئی پریشانی کوئی گھریلو مسئلہ ان کی خدمت میں عرض کیا اور کہا حضرت مجھے کوئی تعویذ بنا دیں تاکہ میری پریشانی دور ہو جائے حضرت نے انکار کیا، کہ مجھے تعوذیر بنانا نہیں آتا، اس آدمی نے اصرار کیا کہ نہیں، حضرت ضرور بنا کر دیں میں بہت پریشانی سے دوچار ہوں ادھ سے اصرار، ادھر سے انکار،

جب کافی دیر انکار کے بعد وہ آدمی نہ مانا تو حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے مجبور ہو کر ایک کاغذ پر تعویذ بنا کر اسے دے دیا، وہ شخص تعویذ لے کر چلا گیا، استعمال کیا اور اللہ کے حکم سے اسے فائدہ ہوا، اس آدمی کو ایک دن دل میں خیال آیا کہ میں دیکھوں تو سہی، کہ حضرت نے تعویذ میں کیا لکھا، اس نے کھول کر جو دیکھا، تو کاغذ پر لکھا تھا، یا اللہ میں جانتا نہیں اور یہ مانتا نہیں، اس سے اس بندہ کو درپیش پریشانی ختم کر دے، یہ ہوتی ہے اللہ والوں کی برکت، جب کوئی الہ کا منظور بن جاتا ہے، تو پھر اس کی الٹی بھی سیدھی ہو جاتی ہے حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ پاک لڑکپن میں کنویں کے اندر ڈلوا دیتے ہیں کہا جاتا ہے یوسف علیہ السلام کو اپنے بھائیوں نے حضرت کے مغرب کے قریب جب کنویں میں ڈالا تھا، اس کے بعد کنویں میں اندھیرا ہو گیا، اس لئے جب بھائی واپس اپنے والد کے پاس آئے تھے، ارشاد باری تعالی ہے۔

ترجمہ: اور رات کو وہ سب اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچ گئے، سیدنا یوسف علیہ السلام چھوٹے بچے تھے، اکیلے تھے کنویں میں تنہائی تھی، اندھیرے کی وجہ سے آپ کو ڈر لگ رہا تھا، کہتے ہیں جب سحری کا وقت ہوا اور تھوڑی روشنی آنے لگی تو حضرت یوسف علیہ السلام کو امید نظر آئی، کہ اب اندھیرا ختم ہو جائے گا، اور میرے بھی کنویں سے نکلنے کا ذریعہ بن جائے گا، تو انہوں نے دعا کی، اے اللہ، میری مشکل کو آسان کر دے، اور انسانوں میں جتنے بھی مشکلات میں گرفتار ہیں، سب کی مشکلات کو آسان کر دے، اللہ تعالی حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا کو اس طرح قبول کیا، کہ بیمار آدمی ہو، تو تہجد کے وقت اس کی بیماری کا لیول کم ہو جاتا ہے، اگر پریشان بندہ ہو تو تہجد کے وقت پریشانی کم ہو جاتی ہے، غم کم ہو جاتے ہیں

تو اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا کو اس طرح قبول کیا کہ تہجد کے وقت بھی اللہ تعالی کی عظمتوں کو دیکھئے اور اس کے (پریشانی) کو کم کر کے اس کو سکون عطا فرما دیتے ہیں اللہ تعالی کی عظمتوں کو دیکھئے اور اس کے سامنے جھک جائیے، حضرت زکریا علیہ السلام اللہ کے پیغمبر تھے، دنیا میں سر کے اوپر آرا چلایا گیا۔ اور ان کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیئے گئے، حضرت یحی علیہ السلام کی گردن کو کاٹا گیا، اور حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالی نے مچھلی کے پیٹ کے اندر گرفتار فرما دیا، حضرت بابو جی عبد اللہ رحمة اللہ علیہ میر پور خاص کے معروف اللہ والے بزرگ تھے، حضرت جی فرماتے ہیں

ہم لوگ یونیورسٹی میں پڑھتے تٹے تو ان کی خدمت میں حاضر ہونے، ملنے اور بیٹھنے کا موقع نصیب ہوتا تھا ہم نے ان کی عجیب بات دیکھی جس بندے کے لئے دعا مانگتے کہ اے اللہ اس کو اپنے محبوب ۖ کی زیارت نصیب فرما اس بندے کو تین راتوں کے اندر نبی ۖ کی زیارت کا شرف حاصل ہو جاتا تھا، ہم نے خود کئی دفعہ اس بات کو آزمایا، ہمارے اس شہر کی تبلیغی جماعت کے امیر تھے ، ایک مرتبہ وہ فجر کے وقت تشریف لائے، اور فرمانے لگے، میں نے بہت وظیفے کئے اور درود شریف پڑھا، دل میں یہ تمنا تھی، کہ نبی علیہ السلام کی زیارت نصیب ہو، میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں،

شاید آپ نے بھی بزرگوں سے اس سلسلے میں کوئی عمل سنا ہو، قدرتی بات ہے کہ ان دنوں حضرت بابو جی عبد اللہ تشریف لانے والے، چنانچہ ایک حضرت جی ان کو لے کر ان کی محفل میں پہنچ گیا، محفل کے اختتام پر حضرت جی نے حضرت بابو جی عبد اللہ کی خدمت میں عرض کیا حضرت یہ ہمارے مہربان ہیں، اور ہمارے شہر کی تبلیغی جماعت کے امیر بھی ہیں، آپ ان کے لئے دعا فرما دیں، کہ ان کو نبی ۖ کی زیارت نصیب ہو جائے، انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے مشکل سے آدھا منٹ لگا ہو گا، اس کے بعد ہم واپس آگئے دوسرے روز فجر کی نماز کے بعد کسی نے دروازہ پر دستک دی میں جب باہر نکلا، دیکھا کہ وہ امیر صاحب سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے، کہنے لگے، مجھے آج رات اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ۖ کی زیارت نصیب فرما دی۔ وہ ان بزرگوں میں تھے کہ آپ اپنے متوسلین کو آگاہ فرما دیا کرتے تھے، حتی کہ آپ رمضان المبارک میں کئی مرتبہ بلا کر بتاتے کہ آج لیلة القدر ہے تم بیدار رہنا، جو دعا مانگنا چاہو، اپنے رب کریم سے مانگ لینا۔
٭٭٭………٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں