مسلمان ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، بھارتی اداکارہ 34

مسلمان ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، بھارتی اداکارہ

ممبئی: بھارتی ٹی وی کی نامور اداکارہ نوشین علی سردار نے بھارتیوں کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔

ڈراما سیریل ’’کثوم‘‘ میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی ٹی وی کی معروف مسلمان اداکارہ نوشین علی سردار نے حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ رشتہ کرانے والی خاتون نے ان کا رشتہ کروانے سے صرف اس لیے انکار کیا کیونکہ وہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔

نوشین نے کہا لاک ڈاؤن کے دوران میرے گھروالوں نے مجھ پر زور دیا کہ میں رشتہ کرانے والی کسی سائٹ پر اپنے کوائف بھیجوں لیکن میں کسی سے ملنے نہیں جا سکی۔ لہذا میرے گھروالوں نے انڈین میچ میکنگ شو کی مشہور شادی کرانے والی صائمہ تپاریا المعروف صائمہ آنٹی کے پاس جانے کا سوچا۔ لیکن ہم اس وقت صدمے کی کیفیت میں چلے گئے جب صائمہ تپاریا نے منع کردیا۔

نوشین نے کہا یہ 2021 ہے، ہاں میں مسلمان ہوں توکیا ہوا؟ مجھے بھی معاشرے میں مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اسی انٹرویو میں نوشین نے مزید بتایا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انہیں مذہب کی وجہ سے بھارت میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہو، بلکہ اس سے قبل انہیں مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں گھر دینے سے منع کردیا گیا تھا کیونکہ وہاں لوگ مسلمانوں کو گھر یا فلیٹس دینے کے حق میں نہیں تھے۔

اداکارہ نوشین نے کہا ہر مذہب کا احترام کرنا بہت ضروری ہے اگر کوئی معاشرہ اپنے افکار میں اتنا سخت ہوجائے گا تو وہاں رہنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں