بگائی محل کے تاریخی ورثے کومحفوظ بنانے کیلئے کمیونٹی سنٹر بنایاجائے رپورٹ 62

بگائی محل کے تاریخی ورثے کومحفوظ بنانے کیلئے کمیونٹی سنٹر بنایاجائے رپورٹ

ڈیرہ اسماعیل خان(سینئرسٹاف رپورٹر) بگائی محل کی توڑ پھوڑ کاش کہ ہماری پوری فیملی سکتے میں ہے، اس رہائش گاہ کھ ہمارے بزرگوں کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں،

تاہم صوبہ خیبر پختونخوا کی قیادت اور وزیر اعظم سے درخواست گزار ہیں کہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے عمارت کی توڑ پھوڑ کو رکوائیں اور رام داس بگئی کے اس محل کو بے شک کمیونٹی سنٹر میں تبدیل کر لیں تاکہ سیاست کے لئے آنے والے یہاں کی مدنی تاریخ سے آگاہ ہو سکیں ان خیالات کا اظہار رام داس بگائی کے پوتے بگئی جو آجکل تھائی لینڈ میں رہائش پذیر ہیں

نے کیا، تاریخ کے مطابق یہ محل اٹھارہ سو میں بنایا گیا اور یہاں رام داس بگائی کا خاندان رہائش پذیر تھا۔ بگائی خان یہاں کی سماجی زندگی میں متحرک ، اپنے ذاتی مالی وسائل سے انہوں نے یہاں کے رہنے والوں کے لئے کئی تعمیراتی منصوبے تکمیل کو پہنچائے۔ ان کی بنائی گئی عمارتیں اس زمانے کی شاہکار تھیں اور ان کو محفوظ رکھنا یہاں کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔سوشل میڈیا اور مقامی اخبارات میں اس خبر کے آنے کے بعد یہاں کی سول سوسائٹی متحرک ہو گئی۔ ہارون اعوان ایڈوکیٹ کاکہنا ہے

کئے یہاں کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے ، ضلعی انتظامیہ اور منتخب قیادت اس کی تباہی کے درپے ہے پہلے یہاں کے تاریخی حقنواز پارک کو آدھا کھاڑے میں منتقل کیا گیا، ایک حصے میں سستا بازار آباد کر دیا گیا جبکہ بقیہ حصے میں کمیونٹی سنٹر بنانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، ضلعی انتظامیہ اگر بگائی محل کو کمیونٹی سنٹر بنا دے تو یہاں آنے والوں کے لئے ایک بہتر تاریخی عمارت ثابت ہو سکتی ہے، عظمت کمال خاکوانی جو کہ اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں،

انہوں نے بتایا کہ عمارت کی توڑ پھوڑ کر سن کر میں نے عدالت سے رجوع کیا اور عمارت کی توڑ پھوڑ رکوانے کے لئے سٹے آرڈر لیا۔ سٹے آرڈر کے بعد انہوں نے اس کام کو عارضی طور پر روک دیا جبکہ بعد میں اس کام کو تیز کر دیا اور یہاں کے قیمتی اور تاریخ ملبے کے ایک بڑے حصے کو بیچ دیا۔ اگلے روز پولیس کے ساتھ ہم نے دوبارہ اس کام کو رکوا دیا ہے، غلام عباس سیال جو کہ آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور شہر کی تاریخ اور جغرافیے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں

انہوں نے بتایا کہ رام داس بگائی کے پوتے نے وزیر اعظم کو خصوصی درخواست کی ہے، دنیا بھر میں تاریخی ورثوں سے لوگ محبت کرتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے مالی مفادات کی خاطر اپنے شہد کی تمدنی تاریخ کے شاہکاروں کو بے دردی سے برباد کر رہے ہیں،

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے ڈیرہ سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو غیر ممالک میں مقیم ہیں، ان سے رابطہ کر بگائی محل بچاؤ مہم میں شامل کیا ہے۔ عظمت کمال خانوانی نے بتایا کہ عدالت نے نقصانات کے ازالے کے لئے کمیشن بنا دیا ہے جو کہ عمارت کا دورہ کر کے نقصان کا اندازہ لگائے گا۔ اور کوشش کی جائے گی جو ملبہ ٹھکانے لگایا گیا ہے

اسے دوبارہ حاصل کر کے عمارت کواس کی اصلی حالت میں بحال کیاجائے، تازہ اطلاعات کے مطابق محکمہ آرکیا لوجی بھی اس معاملے میں دلچسپی لے رہا ہے اور ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الصمد صورتحال کے بارے میں معلومات لے رہے ہیں تاکہ وہ اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں