پی ڈی ایم کا پی پی پی اور اے این پی کے ساتھ مل کر بجٹ کی مخالفت کا فیصلہ 86

پی ڈی ایم کا پی پی پی اور اے این پی کے ساتھ مل کر بجٹ کی مخالفت کا فیصلہ

 اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ نے  پی پی پی اور اے این پی کے ساتھ مل کر بجٹ کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس ن لیگ کے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں ہوا، جس کی میزبانی مسلم لیگ ن اور صدارت پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کی۔ اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، آفتاب شیر پاؤ، محمود خان اچکزئی، میر کبیر شاہی، طاہر بزنجو بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور پی ڈی ایم کی حکمت عملی پر مشاورت ہوئی، اور پیپلزپارٹی اور اے این پی کی واپسی سےتعلق معاملات بھی زیر غور لائے گئے۔

پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو جاری شوکاز نوٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے دونوں پارٹیوں کو اپنے فیصلوں پرنظرثانی کے لیے کہا لیکن دونوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، ن لیگ کا دونوں جماعتوں بارے موقف واضح ہے، اب پی ڈی ایم ان دونوں بارے فیصلہ کرے۔

پیپلز پارٹی اور اے این پی کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کے بعد تمام جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو فیصلے کا اختیار دے دیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پارلیمنٹ میں ساتھ ملانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر کردار ادا کریں گی۔

بجٹ اجلاس کے موقع پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے مل کر مخالفت کرنے اور جعلی حکومتی اعداد و شمار کو بھر پور طریقہ سے بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، اسحاق ڈار اور عابد شیرعلی ویڈیو لنک پر شریک ہوئے، جب کہ تحریک انصاف کی اتحادی صف سے نکل کر پی ڈی ایم میں شامل ہونے والے بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل بھی ویڈیو لنک پر موجود تھے۔

نواز شریف نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کی واپسی پر موقف واضح کیا، جب کہ نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔

پی ڈی ایم اجلاس سے قبل شہباز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، احسن اقبال، ایاز صادق اور دیگر شریک ہوئے، اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے بیانیے، آئندہ بجٹ اور پارٹی امور پر بات چیت ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں