منافق سماج میں عورت کا احترام 90

منافق سماج میں عورت کا احترام

وسعت اللہ خان – تجزیہ کار

آپ دورِ جاہلیہ کی بیسیوں خرابیاں گنوا سکتے ہیں۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی روایت پر بارِ صد تف کاری کر سکتے ہیں۔ مگر ایک داد تو بنتی ہے۔ عرب اپنے حریفوں پر ہر طرح کی پھبتی کستے تھے، ہجو کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے مگر اپنے دشمن تک کی عورت کا نام لے کر برسِرِ عام دشنام طرازی یا ہجو گوئی کو نامردی گردانتے تھے۔

کبھی کسی میں یہ خو جاگتی بھی تھی تو سماج کی گھورتی آنکھیں اس کا حوصلہ پست کر دیتی تھیں۔

جب اسلام آیا تو بیٹے باپ کے احترام میں کھڑے ہوتے تھے مگر باپ بیٹی کے احترام میں کھڑا ہو جاتا تھا۔ یہ کوئی ذاتی لگاؤ یا خون کی محبت کا معاملہ نہیں تھا بلکہ چاردانگِ عالم کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ نیا اخلاقی نظام کن بنیادوں پر استوار ہونے جا رہا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت درخت، بزرگ، عورت اور بچے انتقام کے دائرے سے یکسر خارج کرنے کا فرمان جاری ہوا۔ یہ نبی ہی کی تو تعلیم ہے کہ کوئی بات نامکمل یا سیاق و سباق سمجھے بغیر بنا تحقیق منہ سے مت نکالو۔ جتنی بات یا واقعہ ہے اتنا ہی بیان کرو۔ اس میں سے لذت و ازیت کشید کرنے کے لیے یا زیبِ داستاں کے لیے ہرگز بڑھاوا مت دو۔

دلیل کا مقابلہ ذاتی جذبات کی شمشیر سے مت کرو۔ بے دلیل ہو جاؤ تو سامنے والے کی تسلیم کرو ورنہ خاموشی اختیار کر لو۔ یہ نہ ہوا تو سارا عذاب مفت میں تمہاری گردن پر ہو گا۔

لیکن امت کوئی بھی ہو ان تعلیمات کو برحق تو سمجھتی ہے البتہ عمل کا بار اٹھانے پر ہرگز آمادہ نہیں ہوتی۔ کبھی آبا و اجداد کے رواجی برگد تلے پناہ لیتی ہے، کبھی اصل شریعت کے اندر سے اپنی سہولت کی شریعت نکال لیتی ہے۔ اپنی خواہشات فتاوی کے دھاگوں سے سی کر من مرضی کے پہناوے تیار کرتی رہتی ہے۔

اگر ان سوالات میں سے پچاس فیصد کے جوابات بھی اثبات میں ہیں تو پھر اس سماج کو میرا پرخلوص سلام۔

ذرا تصور کریں اگر مہر النسا مخفی بادشاہ اورنگزیب کے بجائے کسی اور کی بیٹی ہوتی تو کیا اس کی شخصیت کی چیر پھاڑ کیے بغیر اس کے اشعار کی اتنی ہی پذیرائی ہوتی جتنی آج تک ہے۔

اگر فاطمہ جناح محمد علی جناح کی ہمشیرہ نہ ہوتیں تو کیا ان کے تاحیات شادی نہ کرنے کے فیصلے کو بنا چہ مگوئیوں کے یہ سماج اتنا ہی احترام دیتا؟

مگر میں شاید حسن ظن سے کام لے رہا ہوں۔ بے نظیر بھی ایک بڑے باپ کی بیٹی تھی مگر اس کے ایک ایک قدم کی جانچ کے لیے خوردبینیں فٹ تھیں۔

آج اگر ملالہ کے چاروں طرف ایکسرے پلانٹ نصب ہیں تو حیرت کیوں؟ سوچیے اگر تاریخ پر اثرانداز ہونے والی عورتیں نہیں بخشی گئیں تو ہمارے اردگرد کی ایک عام عورت کس کھیت کی مولی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں