ممکنہ فتح کابل کے بعد طالبان کو کیا کرنا چائیے ؟؟؟ …. !!! 166

ممکنہ فتح کابل کے بعد طالبان کو کیا کرنا چائیے ؟؟؟ …. !!!

یہ بات اب دیوار پہ لکھے سچ کی صورت گری اختیار کر چکی ہے کہ افغانستان میں امریکی و اتحادی افواج کے انخلاء کے دو ٹوک اعلان اور اسکے بعد تیزی سے وہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹنے کی مصدقہ اطلاعات کے بعد افغانستان میں جس طرح طالبان مخالف قوتوں یا حکومتی فورسز کے حوصلے پست اور انکی طالبان مخالف مزاحمت کی کمر تقریباً ٹوٹ چکی ہے تو کچھ بعید نہیں کہ جسطرح طالبان نے چند ہفتوں میں تقریباً آدھے سے زائد افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے تو وہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران بغیر کسی بڑی مزاحمت کے افغانستان کے دارالحکومت کابل کو بھی اپنی مٹھی و قبضے میں لے لیں۔

اب کابل کی اس ممکنہ فتح یابی کے بعد یہ بڑا اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں حکومت کا باقاعدہ سیاسی و سفارتی نظم و نسق سنبھالنے کے بعد طالبان گورنمنٹ کو خطے کی جیو پولیٹکس, اسٹریٹیجک صورت حال اقوام عالم و پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات استوار کرنے اور دنیا سے اپنی گورنمنٹ کیلئے سیاسی و سفارتی حوالے سے حمایت یا ریکنائزیشن کے حصول کیلئے کیا کرنا چائیے کیونکہ افغان قوم نے گزشتہ چالیس سالوں کے بیرونی جارحیت, اندرونی خانہ جنگی و انتشار کی وجہ سے لاکھوں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان اٹھایا ہے اور اس سے دگنی تعداد میں افغان شہری عمر بھر کیلئے کسی نہ کسی جسمانی معذوری کا شکار ہوئے, پچاس لاکھ سے زائد افغانی جنگ زدہ افغانستان سے تنگ و مجبور ہوکر اپنے آبائی وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جو کہ آج بھی پاکستان و ایران اور دنیا کے دیگر ممالک میں بطور پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

چالیس سالہ جنگی ماحول نے افغانستان کی معیشت اور وہاں کی سول لائزیشن کو بری طرح ڈیمیج کیا جبکہ افغانستان کی عالمی نقشے پر ایک خود مختار و آزاد ریاست کی بجائے اس خطے میں امریکی و دیگر بیرونی قوتوں کے مفادات کی تکمیل کے ایک تختۂ مشق کے طور پر ہونے لگی, افغان قوم نے پچھلے چالیس سالوں میں بہت خون خرابہ دیکھا ہے, بہت زیادہ زخم سہے ہیں, بہت آنسو بہائے ہیں لہذا اب وقت و انسانیت کا تقاضہ یہ ہے کہ ان زخموں پہ مرہم رکھا جائے اور ان آنسوؤں کی اشک شوئی کی جانی چاہئے اس لئے طالبان پہ لازم ہے کہ وہ اپنے طرز عمل یا طرز حکمرانی سے افغانستان کو ایک پرامن , اعتدال پسند اور خوشحال ملک بنانے کے تصور یا منزل کے حصول کیلئے اپنی دھاک بٹھا سکیں, تو اس مقصد کیلئے انہیں سب سے پہلا کام تو یہ کرنا چائیے کہ وہ کسی بھی صورت اپنی اس نئ جدوجہد میں ٹی ٹی پی یعنی کالعدم تحریک طالبان, القاعدہ اور داعش وغیرہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں نہ رکھیں دوئم انکو افغانستان حکومت میں شامل کسی سیاسی جماعت دھڑے, گروپ یا افغان فورسز کو مزاحمت نہ کرنے کی صورت میں سب کیلئے عام معافی کا اعلان و عمل کرنا چائیے۔

طالبان کو ملک کے اندر موجود عدل و انصاف کی فراہمی, معاشی خوشحالی, اپنے عوام کو صحت و تعلیم کی جدید سہولیات کی فراہمی, سائنسی ترقی, مضبوط عدالتی نظام, صنعت و حرفت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت مہیا کرنے کے حوالے سے افغانستان کے تمام طبقات اور سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ایک متفقہ آئین پاس کرنا چائیے, اسکے ساتھ طالبان حکومت پڑوسی ممالک اور دنیا بھر کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے ایک جامع پالیسی اپنانی چاہئے تاکہ دنیا طالبان حکومت کو اپنے گلوبل خاندان کا حصہ سمجھتے ہوئے اس سے اپنے باہمی تعلقات کو فروغ و وسعت دے, طالبان اپنے ماہرین تعلیم, صحت, سائنسدانوں, ماہر معاشیات اور فنکاروں صحافیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی کو عالمی برادری سے ہم آہنگ بناتے ہوئے ملک کے اندر وار لارڈ کو ختم کرکے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو مثالی رکھا جائے اور افغانستان کے اندر بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے ہٹ کر ایک آزاد و خودمختار لیکن معتدل افغان پارلیمنٹ جو کہ بُلٹ نہیں بلکہ بیلٹ کے ذریعے وجود میں آئے اور اس میں ہر طبقے و سیاسی نظریات رکھنے والے لوگوں کی نمائندگی موجود ہو اسکے قیام و استحکام کو یقینی بنایا جائے اور اسکے علاوہ افغانستان کے عوام کی سیاسی و سماجی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کیلئے طالبان حکومت بطور ریاست ضامن بنے اور ایک اہم بات یہ بھی کہ طالبان حکومت بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنی افغان سرزمین کو کسی بھی بیرونی ملک کی پراکسی وار ایجنڈے کیلئے استعمال نہ ہونے دیں, یہ وہ ایشو یا چیلنجز ہیں کہ جن سے طالبان کی افغانستان میں ممکنہ حکومت کو لامحالہ طور پر نبرد آزما…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں