جامعہ  گومل کے ساتھ کھلواڑ 106

جامعہ گومل کے ساتھ کھلواڑ

جامعہ گومل کئی ماہ سے وی سی کے بغیر چل رہی ہے چانسلر شاہ فرمان کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو ڈاکٹر افتخار احمد کو جبری ریٹائر منٹ پر بھیج دیا۔

مقدمہ زیر سماعت ہے جس گھر یا ادارے کا سربراہ نہ ہو اور اسے چلانے کے لئے چوکیدار مقرر کر دیا جائے تو اس کی تباہی وبربادی لازمی ہے، اس پر مستزاد یہ کہ رجسٹرار طارق محمود کی وفات کے بعد اٹھارہ انیس اور بیس اسکیل کے افسران کی موجودگی کے باوجود سترہ اسکیل کے کمپیوٹر پروگرامر کو رجسٹرار کی نشست پر تعینات کر دیا گیا ہے، اگر قحط الرجال ہو تو پھر درست ہوتا کہ کوئی ملا ہی نہیں جو ملا اسے خالی کرسی پر براجمان کر دیا گیا ہے مگر اہلیت کے حامل افراد کے دستیاب ہوتے ہوئے غیر متعلقہ افسر کو بٹھا دیا گیا ہے۔

قائم مقام وی سی کے اقدامات جامعہ کے مفاد میں نہیں کسی کا ڈیرے وال یا سرائیکی ہونا اخلاص، محبت اور دلچسپی کا ثبوت ہے نہ ہی زرعی یونیورسٹی کے قیام کے لئے لڑنا اور جامعہ گومل کی قیمت پر اسے وجود میں لانے کا قدم اٹھانا خیر خواہی ہے جو لوگ گومل کی قیمت پر زرعی یونیورسٹی قائم کرنے کے حامی ومؤید ہیں۔ وہی قائم مقام وی سی کے قادامات کے بھی پرستار ہیں چاہے کمپیوٹر پروگرامر کو رجسٹرار کا عہدہ دے دیا جائے، بے چاری مادر علمی کو نقصان اور زرعی یونیورسٹی کو فائدہ پہنچنے پر مطمئن وخوش ہونا ناقابل فہم ہے، سوتیلا وی سی جامعہ گومل کی قیمت پر زرعی یونیورسٹی کے قیام کے لئے متحرک وفعال ہے مقام فکر ہے کہ جامعہ گومل کی جڑیں کاٹ کر زرعی یونیورسٹی کے پودے کی آبیاری کی جا رہی ہے۔

وی سی کا معاملہ لٹکا دیا گیا ہے اور رجسٹرار کی کرسی کمپیوٹر پروگرامر کو سونپ دی گئی ہے کیا یہ عظیم مادر علمی کے ساتھ زیادتی نہیں؟ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے گومل میڈیکل کالج قائم کیا تو اس کے لئے علیحدہ اراضی مختص کی اور رقوم منظور کیں، تحاصیل کی سطح پر ڈگری کالج الگ قائم کئے، ہائی اسکول مردانہ مریالی میں گنجائش نہیں تھی تو ہائیر سیکنڈری کلاسوں کے لئے علیحدہ عمارت منظور کی گئی۔اسکے مصداق ہائیر سیکنڈری اسکول اسلامیہ میں کالج منظور کیا اور اس پر اعتراض کیا مقدمہ بھی عدالت تک پہنچا مگر فیصلہ سرکار کے حق میں آگیا،

جامعہ گومل کی اراضی پر نظریں گاڑھنے والے مادر علمی کا بھی سوچیں، خدا کرے کہ ڈیرہ میں ہر شعبہ زندگی سے متعلق جامعات قائم ہوں مگر کسی قدیم ادارے کی قیمت پر نہیں، پشاور یونیورسٹی کی تقسیم ہمارے لئے مثال اور قابل تقلید نہیں پنجاب یونیورسٹی کی مثال کیوں نہیں دی جاتی؟ کسی ادارے کی اراضی کی وسعت کو بنیاد پر وہاں دوسرا ادارہ قائم کرنے کے لئے اسے نقصان پہنچانا قطعا درست نہیں۔

کل کو جامعہ گومل کی فارمیسی میڈیکل کالج کو دے دی جائے گی، یونیورسٹی کے اسکول وکالج محکمہ تعلیم کے سپرد کردیئے جائیں گے، لاء کالج محکمہ قانون کے حوالے کر دیا جائے گا اور ہم ڈھول بجائیں گے کہ جامعہ گومل کا دھڑن تختہ کر کے ڈیرہ کی ترقی ہو رہی ہے۔

ترقی وخوشحالی تقسیم کا نام نہیں بلکہ علیحدہ سے مزید کچھ کرنے کا نام ہے، کسی مکان کو منقسم کر کے یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ دوسرا مکان بھی تعمیر کر دیا گیا ہے۔ دیگر یونیورسٹیاں قائم کر کے جامعہ گومل کو اسکول وکالج کی سی شکل میں تبدیل کر دیا جائے بھلا یہ کون سا طریقہ اور کون سی دانش مندی ہے؟ جو ایسا کرے وہ گومل یونیورسٹی اور ڈیرہ کا خیر خواہ نہیں اور جو ایسے اقدام پر تالیاں پیٹیں اس سے بڑا احمق کوئی نہیں ۔کوئی عقلمند بتائے کہ وی سی کے بغیر مادر علمی کا چلنا یا سوتیلے وی سی کے سپرد کرنا کیسے درست ہے؟ اہل افسران کی دستیابی کے باوجود کمپیوٹر پروگرامر کو رجسٹرار بنا دینا کون سا قاعدہ اور کہاں کا اصول ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں