29

22 سال قبل بچھڑنے والا بیٹا ایک بار پھر والدین کو جدائی کا غم دے گیا

فوٹو: اسکرین گریب

فوٹو: اسکرین گریب

نئی دہلی:بچپن  میں  ناراض ہوکر گھر چھوڑ جانےو الا بیٹا 22سال کے بعد اپنے والدین سے ملنے آیا مگر ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے ایک بار پھر انہیں جدائی کا صدمہ دے کرچلا گیا۔

انٹرنیٹ پر وائرل ہونےو الی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 33 سالہ جوان چارپائی پر اپنے والدین کے درمیان بیٹھا ہوا سارنگی  بجا رہا ہے، اس نے سادھوؤں جیسا لباس پہنا ہوا ہے اور سارنگی بجاتے ہوئے وہ  کوئی گیت گاتے ہوئے خیرات مانگ رہا ہے۔ نوجوان کے برابر میں بیٹھی ہوئی اس کی ماں روئے جارہی ہے۔

اس نوجوان کا پنکو تھا جب وہ اپنے  رتی پال سنگھ سے جھگڑا ہونے کے بعد 2002  میں گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ رتی پال سنگھ نے اپنے بیٹے پنکو کو کنچے کھیلنے پر ڈانٹا تھا جس پر وہ ناراض ہوکر  گھر چھوڑ گیا تھا۔ اس وقت پنکو  گیارہ سال کا تھا۔

رتی پال سنگھ کا گھر نیو دہلی کے علاقے امیتھی کے کھاراؤلی نامی گاؤں میں تھا۔ چند روز قبل  گاؤں  کے باسی ایک سادھو کو دیکھ کر حیران ہوئے جو خود کو پنکو کہہ رہا تھا۔ اس کی زبان سے یہ سن کر کچھ لوگوں نے فوراً رتی پال سنگھ کو مطلع کیا  جو اب نیودہلی منتقل ہوچکا تھا۔

اپنے بیٹے کی گاؤں میں آمد کا سن کر رتی پال سنگھ اپنی بیوی کے ہمراہ فوری طور پر کھاراؤلی پہنچ گیا، انہوں نے اپنے بیٹے کو پہنچا تو لیا مگر یہ دیکھ کر انہیں بے حد دکھ ہوا کہ وہ سادھو بن چکا تھا، اور اپنے والدین سے صرف ملاقات کے لیے آیا تھا۔

پنکو نے کچھ وقت اپنےو الدین کے ساتھ گزارا اور اپنی ماں سے خیرات لے کر اس کے آنسوؤں اور غم کی پروا کیے بغیر دوبارہ انہیں  چھوڑ کر چلا گیا۔

رتی پال سنگھ نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ پنکو جس مذہبی فرقے کا حصہ بن گیا ہے وہ اسے چھوڑنے کے عوض 11 لاکھ روپے مانگ رہے ہیں۔ رتی پال سنگھ کا کہنا تھا کہ میرے  پاس تو گیارہ روپے بھی نہیں ہیں تو میں گیارہ لاکھ کہاں سے  دے سکتا ہوں۔

پنکو نے گاؤں میں آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنےو الدین کی محبت سے مجبور ہوکر و اپس نہیں آیا بلکہ ایک مذہبی رسم پوری کرنے آیا  ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ جس فرقے سے تعلق رکھتا ہے اس میں سادھوؤں کو  ایک رسم پوری کرنے ہوتی ہے جس میں وہ اپنی ماں سے خیرات لیتے ہیں، اس رسم کی تکمیل کے بعد دنیا سے حقیقی معنوں میں  قطع تعلق کی جانب ان کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں