اور پھرانصاف قتل ہوا’ امیدیں ٹوٹ گئیں

اور پھرانصاف قتل ہوا’ امیدیں ٹوٹ گئیں

میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ میں اپنی ڈیوٹی پر کھڑا تھاکہ ایک نمبر سے کال آئی کہ کس کانمبر ہے یہ میں نے جواباً اپنا نام بتایا تو آگے سے انتہائی رعب سے کسی نے حکم دیا کہ کل آپ نے تھانہ پہنچنا ہے ورنہ ہم خود آئیں گے اور آپ کو اٹھاکر لے جائیں گے اور کال بند ہوگئی میں نے وہ دن انتہائی اضطراب میں گزاری اگلے دن صبح 10بجے تھانہ پہنچ گیا ایس ایچ او صاحب کا کمرہ پوچھا اندر گئے تو سات آٹھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے سب کے ساتھ مصافحہ کیا صاحب نے دوانگلیاں ٹھکائیں اور انتہائی لاپرواہی سے فرمایا جی میں نے صاحب بہادر کو بتایاکہ آپ نے کل فون کیا تھا صاحب کے تیور بدل گئے اور ایک شیٹ میری طرف پھینکی کہ اسے دیکھو میں نے دیکھی تو اس پر ،موبائل نمبر کا ڈیٹا تھا میرے کچھ کہنے سے پہلے صاحب نے میری طرف انگلی اٹھاکر اشارا کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نمبر کو پہنچانو یہ کس کا ہے میں نے وہ نمبر دیکھا تو تقریباًدوماہ پہلے ساڑھے چارمنٹ ایک کال تھی میرے اس نمبر کے سامنے میں وہ نمبر اپنے موبائل پر ڈائل کر کے دیکھا تو وہ فیلڈ نہیں تھا میں نے جواباًصاحب سے کہا کہ میرے پاس سیوتو نہیں ہے

صاحب نے پورا دفتر سرپہ اٹھالیا اور ایسے ایسے لفظ استعمال کیئے کہ میں حکا بقا رہ گیا صاحب کی ضد تھی کہ تم بتاؤ یہ نمبر کس کا ہے میں بہت پریشان رہا اللہ بھلہ کرے میرے ایک دوست جس نے میری جان چھڑائی ورنہ نمبر نہ بتانے کی یادشت میں پتہ نی اور کتنی گالیاں کھانی ہڑتی سمجھ کے نکلاتھا کہ پولیس اگر چاہے تو کسی بھی شریف آدمی کو بغیر جرم کے مجرم بناسکتی ہے جو فلموں اور ڈراموں میں دیکھتے تھے کہ لوگ کیسے چور اور ڈاکوں بنے وہ تصویر میری آنکھوں کے سامنے آگئی جوکہ نا انصافیوں میں سخاوت جنم دیتی ہے اس لیئے اکثر ریاست اور قانون کے باغی اپنے پیچھے ایک کہانی لیئے ہوتی ہے ویسے تو میری ارض پاک میں انصاف ہمیشہ لاغر اور کمزور رہا ہے لیکن ہمیشہ قانون مکڑی کا جالا ہی ہوتا ہے جس میں غریب اور ان پھر لوگ ہی پھسے ہیں لیکن سانحہ ساہیوال نے تو تاریخ ہی رقم کردی ہے 25اکتوبر کو آنے والے انسراد ہشت گردی عدالت کے فیصلے نے میرذی شعور شخص کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ یہ کیسا انصاف ہوا ہے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ریاست جنگل کانامونہ پیش کرنے لگی ہے ہرطاقت ور کمزور کو لتاڑنے کے چکر میں ہے

19جنوری 2019کی صبح مہر خلیل کے خاندان پر قیامت پرپاہوگئی ریاست پاکستان میں پاکستانی لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کی ضامن انسراد دہشت گردی پولیس نے ھلہ بول دیا اور ایک مظلوم خاندان کے سر براہ مہر خلیل انکی بیگم نبیلہ بیگم ان کی تہرہ سالہ بیٹی اریبہ اور دوست ذیشان کو بچوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا اس حملے میں خلیل صاحب کافر زندعمر خلیل زخمی ہوا اس سانحہ کو ہر صورت دھشت گردی کے خلاف کاروائی بنانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں عینی شاھدین کی گواہی اور موبائل ویڈیوز نے سارے معاملے کو اوپن کردیااور ایک صفا کانہ اور بدمعاشی کی کاروائی قرار دیاگیا اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان دن ایک بچکر 46منٹ پرایک ٹویٹ کیا کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کی قطر سے واپسی پر نہ صرف ذمہ داروںکو سزادوں گا بلکہ پولیس ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی جائے گی اسی اثناء میں کابینہ کا حسہ شیر یار آفریدی ،مراد سعید ،عامر لیاقت جیسے لوگوں نے بھی بڑی بڑی پھڑکیں ماری کہ ہم دنیاں کو دیکھائیں گے انصاف کیسا ہوتا ہے پھر یوں ہواکہ 9ماہ بعد آنے والے فیصلے نے پوری قوم پر ایک لرزہ تاری کردیا اور ہر ذی شعور کے منہ سے اف اور آنکھوں میں اشک بہنے لگے معزز عدالت نے تمام ملزمان کو شک فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا انصاف ہوا کیا خوب ہوا اس فیصلے سے جہاں پاکستان کی عدلیہ تنقید کی زدمیں ہے ہی لواحقین کے مبہم مؤقف پر بھی سوالات اٹھا ئے جارہے ہیں

ویسے تو پاکستان میں پہلے بھی انصاف کے معجزے ہوتے رہتے ہیں کہیں شارخ جتوئی کہیں شاہ مال خان کہیں مجید اچکزائی لیکن اس فیصلے نے انصاف کے سارے نظام کاہی سر شرم سے جھکادیا ہے اور تبدیلی کی بنی ریت عمارت بھی زمین بوس ہوگئی ہے عام آدمی کے دل میں شاید یہ بات نہ ہوکہ قیام پاکستان کے بعد انگریز دور کے قوانین اپنائے گئے جہاں ریست عوام کو تحفظ دیتی ہے اور اسطرح کے واقعات ریاست کے ہی خلاف جرم تصور کئے جاتے تھے اور مدعی کوکسی بھی قسم کا سمجھوتے اختیار نہیں تھا لیکن بد قسمتی سے اس مذہبی لبادہ اوڑھے ایک آمر باد شاہ نے ان کو ختم کردیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طاقتور مجرم مظلوم غریب طبقے زور بازوں سمجھوتے لکھواکر عدالتی ڈرامے کو ختم کروادیتا ہے جس سے عام شہریوں کو انصاف کی امید کم ہی رہے گئی ہے اور اعتماد ختم سا ہوگیا ہے اس سسلسے کی ایک کڑی واقعہ ساہیوال کا فیصلہ بھی ہے سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود ملزمان بری ہوگئے وہ ویڈیو شاھدین سب کچھ ختم ہوگیا فاضل جج صاحب اگر ہمت کرتے تو پولیس کے باربار بدلتے بیان ہی انہیں مجرم بنا رہے تھے پہلے بتایاگیا کہ دہشت گرد مارے گئے پھر کہاگیا کہ اغواہونے والے بچوں کی بازیابی کیلئے کاروائی کی گئی پہر ذیشان کو دھشت گرد قرار دیاگیا لیکن کچھ بھی تو ثابت نہ ہوسکا مہر خلیل اور ذیشان جاوید کی دنیااجڑ گئی ہے اس فیصلے میں جہاں ریاست پاکستان کے شہریوں کے دل ٹوٹے ہیں وہاں ایک بات یہ بھی عیاں ہوئی ہے کہ ریاست مدینہ میں کسی غریب انصاف کا حصول انتہائی مشکل اور ناممکن ہے اور مدعی کا ویڈیو بیان صاف ظاہرکررہا ہے کہ وہ بے بس ہوگیا ہے اور اسے صاف دیکھائی دے رہاہے یہاں انصاف ملنا ممکن نہیں عجیب عدلیہ ہے جہاں عزیز بلوچ شارخ جتو ئی مجید اچکزائی قتل کرکے بھی دنداناتے پھر تے ہیں جہاں دن دیہاڑے کراچی کے شہری کو رنجرز گولیوں سے بھون دیتی ہے

جہاں نقیب اللہ محسود گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے جہاں مہر خلیل کے خاندا ن تھس نس کردیاجاتا ہے مگر گواہوںکی عدم دستیابی یا تفتیش کی کمزوری آڑے آجاتی ہے اور قاتل دندناتے پہر تے ہیں فیصلہ ہوچکا ہے گھر لٹ گئے مگر ایک بات پاکستانی اشرفیہ سے ضرور کہوں گا کہ یاد رکھنا جن بچوں کے سامنے ان کے ماں باب کوحفاظتی ورزی میں ملبوس لوگوں نے دن دیہاڑے قومی شہراہ پر قتل کیا ہے وہ محب وطن نہیں رہیں گے اور ایسے ہی کئی لوگوں کو ہم باغی بنا چکیں ہیں اور اسی کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے عجیب منطق ہے کہ ایک شریف شہری کی گئی کال جس کا نہ کوئی دہشت گردی سے تعلق تھانہ کسی ایسے غیر اخلاقی عمل سے پھر بھی ایک ایس ایچ او پورا ہفتہ چکر لگواتا رہا وہاں موبائل کی کال ایک دلیل ہے لیکن یہاں کی بنی ہوئی موبائل ویڈیوز جج کو قبول نہیں پچاس سے زائد گواہان بھی مکر گئے ایک دورتھا جب لوگ اپنے اداروں پر اندھااعتماد کیا کرتے تھے لیکن اب دنیا سمجھ گئی ہے انصاف منصفین قانون کو نقیب للہ محسود،مہر خلیل ،ذیشان یہ سب ریاست کے بیٹوں کے قتل ہیں اور ریاست ماں ہوتی ہے کہتے ہیں ماں کی دعا اور بدعا سے عرش تک ہل جاتی ہے اے ارض پاک مقتدر لوگوں ماں کی بدعا سے بچو ورنہ خداکے عزاب سے نہیں بچ پاؤگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں