متوقع بلدیاتی انتخابات اور تحصیل درابن کا سیاسی نقشہ

متوقع بلدیاتی انتخابات اور تحصیل درابن کا سیاسی نقشہ

یوں تو ملک بھر میں شدید سردی کی لہر جاری ہے مگر آئندہ کچھ ماہ بعد متوقع بلدیاتی انتخابات کی بازگشت دھیرے دھیرے سیاسی ماحول کو گرما رہی ہے تحصیل درابن میں بھی بلدیتی انتخابات کے لئے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں

تحصیل درابن پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل تحصیل ہے، یہ تحصیل اس علاقہ کے بڑے سیاسی خاندان میانخیل برادران کا آبائی علاقہ ہے سیاسی طور پر یہاں دو بڑے سیاسی گروپ میانخیل اور گنڈہ پور ہیں

جبکہ ایک سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام کا بھی یہاں کافی اثر رسوخ اور ووٹ بنک ہے یہاں کے پہلے تحصیل ناظم قیضار خان میانخیل اور دوسرے ہمایوں خان میانخیل رہ چکے ہیں۔

اس بار چونکہ نئے قانون کے مطابق تحصیل ناظم کے الیکشن براہ راست عوام اور پورے حلقہ میں ہوں گے اس لئے تحصیل ناظم کاالیکشن کسی ایم پی اے کے الیکشن سے کم نہ ہو گا۔ اس تحصیل کا مرکزی شہر درابن وہ بدنصیب شہر ہے

کہ یہاں سے کوئی اہم سیاسی رہنما نہیں ہے جو پوری تحصیل میں اپنا اثر رسوخ رکھتا ہو، اس لئے یہاں تحصیل ناظم کے انتخابات دیگر یونین کے لوگ لڑتے ہیں۔ اب جبکہ براہ راست انتخابات ہوں گے تو چونکہ یہ تحصیل میانخیل برادران کا آبائی گھر ہے

اس لئے فی الحال میانخیل برادران کا متفقہ امیدوار آنے کا قوی امکان ہے جبکہ دوسرے مضبوط گروپ گنڈہ پور گروپ میں ہر یونین سے امیدواروں کی شنید ہے جن کو کسی ایک امیدوار پر راضی کرنا آغاز خان کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا،

کیونکہ سیاسی ذرائع کے مطابق یونین کونسل چودھوان سے خالد خان بابڑ اور گوہر خان یونین کونسل موسی زئی سے پیر طیب یونین کونسل درابن سے نجیب اللہ شاہ یا عمر شاہ یونین کونسل گرہ عیسی خان سے ہمایوں خان میانخیل تحصیل ناظم کے امیدواروں میں شامل ہیں۔ ان تمام امیدواروں کا آپسمیں متفق ہوناناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

کیونکہ خالد خان بابڑوں امیدوار ہیں جن کے ساتھ گزشتہ دورانئے میں مرحوم اکرام اللہ خان گنڈہ پور نے نصف عرصہ تحصیل تحصیل ناظم بننے کا معاہدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ ایفا نہ ہوا، جس بنا پر اب وہ آئندہ تحصیل ناظم الیکشن میں خود کو گنڈہ پور گروپ کا حمایتی امیدوار تصور کرتے ہیں،

اسی طرح موسی زئی سے پیر محمد طیب بھی حلقہ ایم پی اے کے قریبی رشتہ دار ہونے کے ناطے امیدواروں کی صف میں شامل ہیں ردابن شہر سے نجیب اللہ شاہ جو مقامی سیاست میں گٹھ جوڑ کے ماہر ہیں خود یا اپنے بھتیجے عمر شاہ کو تحصیل ناظم کاامیدوار بنائیں گے

جبکہ یونین کونسل گروہ عیسی خان سے سابق تحصیل ناظم ہمایوں خان عرف مونی میانخیل بھی مضبوط امیدوار ہوں گے کیونکہ ان کو انفرادیت حاصل ہے کہ وہ گنڈہ پور برادران کے بڑے سیاسی حریف میانخیل برادران کے نہ صرف گھر کے ہیں

بلکہ ان کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں، اس صورتحال میں گنڈہ پور گروپ کی طرف سے کسی ایک امیدوار پر متفق ہو جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا، سیاسی ذرائع کے مطابق اگر خالد خان بابڑ کو آغاز خان سپورٹ نہیں کریں گے

تو وہ اپنے گروپ سمیت اڑان کی تیاری میں ہیں اس تحصیل میں تیسری سیاسی قوت جے یو آئی ہے یونین کونسل درابن سے جے یو آئی کے حمایت یافتہ یونین ناظم کے امیدوار ہارون خان اخونزادہ نے بہت بڑی لیڈ سے میانخیل گورپ کے حمایت یافتہ امیدوار کو ہرایا تھا

جبکہ تحصیل امیر جے یو آئی شیخ احمد علی بھی مضبوط سیاسی پوزیشن کے حامل ہیں اگر جے یو آئی یہاں گنڈہ پور گروپ کی نااتفاقی سے فائدہ اٹھا کر انکے کسی دھڑے کو جے یو آئی کا حامی بناتی ہے

تو پھر یہاں پر مقابلہ کی صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔ مگر چونکہ یہاں یعنی اس تحصیل کے سب سے بڑے سیاسی گروپ میانخیل گروپ کا چونکہ فی الحال مضبوط اور متفقہ امیدوار فتح اللہ خان میانخیل کا نام لیا جا رہا ہے،

اس لئے مذکورہ بالا صورت حال رہی تو میانخیل برادران کے لئے اس نشست کا حصول نہایت آسان رہے گا مگر عین وقت پر سیاسی گیم بازیاں کیا رنگ لاتی ہیں یہ سب اس وقت زیر قلم کیا جائے گا۔ (واللہ اعلم)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں