جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ پہلی خاتون جج نامزدگی کی منظوری

اسلام آباد:(ڈیلی اعتدال) جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ پہلی خاتون جج نامزدگی کی منظوری دیدی۔لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کے پاکستان سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کی تعیناتی سے متعلق بڑا فیصلہ کیا گیا۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ تعیناتی کا معاملہ حتمی منظوری کیلئے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو بھیج دیا ہے۔


ڈیلی اعتدال کی رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج تعینات کرنے کیلئے نامزدگی کی منظوری دے گئی ہے ،جہاں 4 کے مقابلے میں 5 ججز نے ان کی تعیناتی کی سفارش کی۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ تعیناتی کی حمایت کرنے والوں میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطاء بندیال، اٹارنی جنرل خالد جاوید، جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی اور وزیر قانون فروغ نسیم شامل تھے جبکہ مخالفت میں جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق اور جسٹس مقبول باقر ووٹ دئیے۔ پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین نے بھی مخالفت میں ووٹ دیا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کیلئے نامزد کیا تھا۔

اس سے قبل ایک بار جوڈیشل کمیشن جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی تجویز مسترد کرچکا تھا۔

واضح رہے کہ جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائیکورٹ میں دیگر ججز کے مقابلے میں سنیارٹی پر 5 ویں نمبر پر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں