Abulmuazzam turabi coulmn

امتحانی سوال ناموں کی قبل از وقت تشہیر

کالم۔۔۔۔سندھ کنارے۔۔۔تحریر۔۔۔ابوالمعظم ترابی

پروفیسر ظفراللہ مروت کو کچھ ہی عرصہ قبل تعلیمی بورڈ ڈیرہ کا کنٹرولر تعینات کیا گیا۔ان کی شہرت اچھی البتہ سخت گیری و تلخ مزاجی کی شکایات سنی گئی ہیں۔ایمان داری،دیانت داری،امانت داری،اصول پرستی،قانون کی پاس داری اور قواعد و ضوابط کی پابندی بہترین صفت و خصوصیت ہے۔مگر شیریں لہجہ و خوش خلقی بھی ناگزیر ہیں۔جبر و زبردستی کوئی کرا سکتا ہے نہ ہی برداشت کرنا چاہیے۔

کسی بھی افسر کو باختیار و بارعب ضرور ہونا چاہیے تاہم خوش گفتاری و شیریں کلامی بھی لازمی خصائل ہیں۔موصوف کی نگرانی میں میٹرک کے امتحانات کا انعقاد ہوا اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری ہیں۔تمام تر اقدامات کے باوجود قبل از وقت بعض سوال ناموں کا منظر عام پر آ جانا اور یا ان کی تشہیر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔کنٹرولر صاحب کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔

ادھر تقرری ہوئی ادھر امتحانات سر پر آگئے۔تیاریاں پہلے سے ہو چکی تھیں۔سوال نامے تشکیل پا چکے تھے۔امتحانی مراکز کے سودے ہو چکے تھے۔ڈیوٹیاں فروخت کر دی گئی تھیں۔ثانوی جماعتوں کے امتحانات کے بعد تو ان کا تجربہ ہو جانا چاہیے تھا اور جو خرابیاں، خامیاں،کمزوریاں اور غلطیاں افشا ہوئیں ان پر قابو پانے کے لیے بہتر موقع تھا۔ مگر اعلی ثانوی جماعتوں کے امتحانات کے دوران بھی فاش غلطیاں سامنے آئیں اور سوال نامے بھی قبل از وقت منظر عام پر آئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ادارے میں بعض کالی بھیڑیں موجود اور انہی کے کرتوتوں کے باعث امتحانات میں شفافیت دکھائی نہیں دی اور سارے اقدامات ناکامی سے دوچار ہو گئے۔

یہ ایسے تلخ تجربات ہیں کہ کنٹرولر کو سمجھ آگئی ہو گی کہ ان کی اپنی آستینوں میں کون کون سے سانپ موجود ہیں۔امتحانی مراکز اور ڈیوٹیاں فروخت کرنے والے کون لوگ ہیں؟ انہیں اپنے ہی ادارے کے لوگوں کی جانب سے مزاحمت اور قواعد و ضوابط بے دردی کے ساتھ روند ڈالنے ایسے مسائل درپیش ہوئے ہوں گے۔جن لوگوں کی ڈیوٹیاں لگیں وہ بھی پرانے کھلاڑی ہی ہوں گے۔میدان تو ویسے بھی پرانے ہیں۔ایسی امثال تو عام ہیں کہ گنے چنے نجی تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات ہی پوزیشنیں لے جاتے ہیں۔

جیسے اعلی ترین اذہان وہیں پائے جاتے ہیں۔وہیں کا تعلیمی نظام و معیار افضل و اکمل ہے۔ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ میٹرک کا امتحان ہو یا انٹرمیڈیٹ کا۔ایک ہی خان دان کے بچے اور بچیاں اول دوم سوم آتے رہے۔نتائج سے یوں لگتا تھا کہ خدائے بزرگ و برتر نے دوچار کھاتے پیتے خان دانوں کو ہی چنا ہوا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ قدرت نے جسے دولت سے نوازا ہے۔ دماغ بھی اسے ہی دیا ہے۔لیکن یہ صداقت نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پوزیشنیں بھی بولی لگا کر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں