Abulmuazzam turabi coulmn

ریاست مدینہ کے دشمنوں کے ساتھ تعلقات

سندھ کنارے۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔ابوالمعظم ترابی

ریاست مدینہ غزوہ بدر کے موقع پر 2 ہجری میں کفار مکہ کی دو گنا بڑی اور مسلح فوج کو شکست دے کر اپنا رعب و دبدبہ قائم کر چکی تھی۔3 ہجری میں جنگ احد میں بھی کفار کا لشکر ہار گیا تھا مگر فرار ہوتے ہوئے ایک دستے نے مال غنیمت جمع کرتے ہوئے مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا۔جو ان کی جیت کا باعث بن گیا۔5 ہجری میں غزوہ احزاب ہوئی جسے جنگ خندق کہا جاتا ہے۔

لشکر کفار نے مدینہ منورہ کو گھیر لیا تھا تاہم حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی تجویز پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ کے گرد خندق کھود لی تھی۔جس کے سبب کفار کے لیے مدینہ پر حملہ کرنا ممکن نہ رہا۔اور ایک رات آندھی طوفان نے انہیں واپسی پر مجبور کر دیا۔ابھی تک ریاست مدینہ اقتصادی اور دفاعی میدان میں کمزور تھی مگر جنگوں میں ہونے والی فتوحات نے دنیا پر ان کا رعب و دبدبہ قائم کر دیا۔اسی سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایران و روم سمیت دیگر ممالک کے بادشاہوں کو خطوط لکھ کر دین اسلام کی دعوت دی۔اسی سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چودہ سو جاں نثاروں کو ہمرای لیے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے مکہ المکرمہ روانہ ہوئے۔کفار مکہ کو اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ساتھیوں سمیت مکہ شہر سے باہر ہی روک لیا۔آخرکار معاہدہ طے پایا کہ مسلمان عمرہ کیے بغیر واپس چلے جائیں گے۔

آئندہ سال عمرہ کر سکیں گے۔کوئی شخص مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے واپس کرنا ہو گا اور اگر کوئی مسلمان دیںن اسلام ترک کر کے مکہ آجائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔فریقین ایک دوسرے کے خلاف خود لڑیں گے نہ ہی کسی اور کا ساتھ دیں گے۔ایک دوسرے کے حلیفوں کے خلاف بھی جنگ کریں گے نی ہی کسی کی معاونت کریں گے۔یہ معاہدہ ان لوگوں کے ساتھ اور ان کی شرائط پر کیا گیا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمانوں کو مکہ سے ظلم و جبر کر کے نکالا تھا۔

اس سے قبل مکہ المکرمہ سے قریشی سرداروں کا وفد مدینہ آیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مسجد نبوی میں پورے اعزاز کے ساتھ بٹھایا اور دعوت دین بھی دی۔ تیس ویں پارے کی تیسری سورت العبس کی ابتدائی چند آیات اسی موقع پر نازل ہوئی تھیں۔نجران سے پادریوں کا وفد مدینہ آیا۔انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد نبوی میں مکمل اور بھرپور اعزاز و اکرام کے ساتھ بٹھا کر دعوت دین تھی اور ان کے سوالات کے جوابات انتہائی خندہ پیشانی سے دیے۔حتی کہ جب انکی عبادت کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد نبوی میں عبادت کرنے پیش کش کی اور انہوں نے وہیں پر عبادت کی۔مذہبی احترام اور آذادی کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی۔

مدینہ پہنچ کر ریاست کی داغ بیل ڈالی تو مقامی یہودیوں کے ساتھ میثاق مدینہ کیا۔مکہ فتح کیا تو عمر بھر دین اسلام کے خلاف کفار قریش کی سربراہی و قیادت کرنے والے ابو سفیان کو معافی دے دی۔ان کی اہلیہ ہندہ کو بھی معاف کر دیا۔جس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیارے اور جوان چچا سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو غزوہ احد میں نہ صرف شہید کروایا بل کہ ان کے ناک کان کٹوائے۔کلیجہ چبایا اور ان کی کھوپڑی میں شراب پی۔ان کے سفاک قاتل وحشی کو بھی معاف کر دیا۔ظلم و جبر اور وحشت و بربریت کرنے والے تمام لوگوں کو عام معافی دے دی۔یہ سارے واقعات تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بیٹھنے اور مذاکرات کے ذریعے قومی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے آمادہ و تیار نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دشمنوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت بھی کی اور معاہدات بھی کیے۔کبھی عہد شکنی بھی نہیں کی۔البتہ جب کسی حلیف نے معاہدہ شکنی کی تو اسے سبق بھی سکھایامگر تب جب اتمام حجت ہو چکا۔

حکومت و اپوزیشن کے مابین سیاسی اختلاف ہوتا ہے لیکن اسے ذاتیات و منتقم مزاجی میں تبدیل کرنا درست نہیں۔وطن عزیز جن مشکل حالات سے دوچار ہے وہ 1958 کا تسلسل ہے۔بعد میں آنے والوں نے بھی صورت حال خراب کی۔پی پی و ن لیگ اور دیگر جماعتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔مارشل لاوں نے بھی پورا پورا کردار ادا کیا۔کسی ایک یا چند کو ذمہ دار قرار دے کر ان کے ساتھ عداوت و دشمنی کرنا اور سیاسی مخالفت کو مخاصمت میں بدل دینا ٹھیک نہیں۔کٹھن اور نازک حالات میں قومی مصالحت و مفاہمت کی اشد ضرورت ہے۔ملک بحرانوں سے نکل آئے اور قوم کی بے یقینی و بے چینی ختم ہو جائے۔پھر سیاست اور مقابلہ بازی کر لینا۔ہاتھ نہ ملائیں،معانقہ نہ کریں،مسکراہٹوں کا تبادلہ نہ کریں،گپ شپ نہ لگائیں۔ مگر قومی مسائل پر مل بیٹھیں اور حل نکالنے کی کوشش کریں۔عمران خان کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمنوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اور عمران خان پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔لہذا ان کی حکمت عملی بھی اپنائیں اور عمل سے ثابت کریں کہ وہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عاشق و پیروکار ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں